’بات عدالت میں ہوگی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راشد لطیف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ معاملات عدالت سے باہر طے کرنے کے لئے بورڈ کی ایک پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ اطلاعا ت کے مطابق بورڈ کو لیگل نوٹس ملنے کے بعد سے وہ راشد لطیف سے مستقل طور پر رابطے میں ہے اور چاہتا ہے کہ یہ معاملہ عدالت سے باہر ہی طے پا جائے۔اسی سلسلے میں کرکٹ بورڈ نے راشد لطیف کو پیشکش کی ہے کہ وہ ان پر عائد کردہ چھ ماہ کی پابندی اور پندرہ ہزار روپے کے جرمانے کو کم کر کے ایک ماہ اور پانچ ہزار روپے کر سکتا ہے جسے راشد لطیف نے مسترد کردیا۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان اور ڈائریکٹر عباس زیدی نے منگل کو راشد لطیف سے رابطہ کیا اور ان سے پابندی اور جرمانے کی سزا نرم کرنے کے حوالے سے بات کی ہے جسے راشد لطیف نے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب پابندی ہی غلط لگائی گئی ہے تو وہ اس میں کمی بیشی کیسے قبول کر سکتے ہیں۔ راشد لطیف نے پابندی کے فیصلے کے خلاف ممکنہ عدالتی کارروائی کے لئے ریٹائرڈ جسٹس ملک محمد قیوم کی خدمات حاصل کی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں کرکٹ بورڈ نے ان کے لیگل نوٹس کا جواب نہیں دیا تو وہ یہ معاملہ عدالت میں لے جائیں گے۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کو آسٹریلیا میں پاکستانی ٹیم کی شرمناک شکست پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ منگل کو کراچی پریس کلب کے باہر کرکٹ کے شائقین کی ایک بڑی تعداد نے مظاہرہ کیا اور انضمام الحق، یوسف یوحنا، باب وولمر اور وسیم باری کے پتلے نذر آتش کیے۔ پرتھ ٹیسٹ میں 491 رنز کی شکست کے بعد بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے ٹیم منیجمنٹ میں تبدیلی کو خارج از امکان قرار دے دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||