کرکٹرز کے لئے سینٹرل کنٹریکٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کےکھلاڑی آسٹریلیا کے دورے پر روانگی سے قبل جمعہ کو سینٹرل کنٹریکٹ پر دستخط کرنے والے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے پہلی مرتبہ بین الاقوامی کرکٹ میں ملک کی نمائندگی کرنے والےکھلاڑیوں کے لئے سینٹرل کنٹریکٹ متعارف کرایا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان کے مطابق ابتدائی طور پر بارہ تیرہ کھلاڑیوں کو یہ ایک سالہ کنٹریکٹ دیئےجائیں گے جن کی بنیاد سنیارٹی، فٹنس اور کارکردگی ہوگی۔ شہریارخان کا کہنا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ کو پاکستان کرکٹ میں متعارف کرنے کے لئے بھارت جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا میں کھلاڑیوں کو دیئے گئے کنٹریکٹس کا جائزہ لیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت میں بھی سینٹرل کنٹریکٹ کے موقع پر کھلاڑیوں میں اختلافات سامنے آئے تھے جبکہ پاکستانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو دیئے جانے والےکنٹریکٹ کے معاملے پر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں کیونکہ اے کیٹگری میں صرف انضمام الحق اور یوسف یوحنا کو رکھاگیا ہے۔ جس پر ایک حلقے کا خیال ہے کہ اس میں شعیب اختر کو بھی ہونا چاہیئے تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ کے معاملے پر کسی کرکٹر کو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن ذرائع ابلاغ کا کہنا ہےکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ سینٹرل کنٹریکٹ کو آسٹریلیا کے دورے کے بعد حتمی شکل دی جائے۔ شہریارخان کا کہنا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ کے بارے میں وہ کھلاڑیوں کو مکمل طور پر اعتماد میں لینا چاہتے ہیں۔ بعض کھلاڑیوں کو اس بارے میں جو غلط فہمیاں ہیں وہ دور کرنا چاہتے ہیں۔ سینٹرل کنٹریکٹ کا مقصد کسی کرکٹر کو کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے سے روکنا نہیں ہے لیکن اس سلسلے میں اسے پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اجازت لینی ہوگی۔ جیسا کہ شعیب اختر نے وورسٹر شائر سے معاہدہ کیا ہے کرکٹ بورڈ کو ان کے کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے پر کوئی اعتراض نہیں ہےلیکن وورسٹرشائرکو اجازت درکار ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||