چیمپیئنز ٹرافی، پاکستان باہر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ٹیم چمپیئنز ٹرافی کا ایک اہم میچ سپین سے ہار کر ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچنے سے محروم ہوگئي ہے۔ جمعہ کے روز کھیلے جانے والے اس فیصلہ کن میچ میں سپین کی ٹیم نے پاکستان کو صفر کے مقابلے تین گول سے شکست دی اور یہ پاکستان میں سپین کی پاکستان کے خلاف پہلی فتح ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کے کھیل سے سٹیڈیم میں بیٹھے ہزاروں تماشائی مایوس ہوئے کیونکہ اس اہم میچ میں بھی فارورڈز نے گول کرنے کے کئی یقینی مواقع ضائع کیے۔ پہلے ہاف میں پاکستانی کھلاڑیوں نے اگرچہ کئی اچھی مووز بنائیں تاہم گول پوسٹ پر پہنچ کر گیند گول میں نہ ڈال سکے۔ پہلے ہاف کے ختم ہونے پر کوئی ٹیم بھی گول نہ کر سکی جبکہ دونوں کو ایک ایک پینلٹی کارنر بھی ملا۔ دوسرے ہاف کے پہلے دس منٹ میں بھی پاکستان نے سپین کے گول پر حملے کیے۔ میچ کے چالیسویں منٹ میں تو پاکستان کے فارورڈ شبیر نے گول لائن کے بالکل قریب ایک یقینی گول مِس کیا۔ اس کے بعد سپین کی ٹیم نے پاکستان کی ٹیم پر دباؤ بڑھا دیا اور میچ کا دوسرا پینلٹی کارنر حاصل کیا جو کہ پاکستان کے دفاعی کھلاڑی کے فاؤل سے پینلٹی سٹروک میں بدل گیاجس پر ایلکس نے بآسانی گول کیا۔ میچ کے سینتالیسویں منٹ میں محمد ثقلین کو ایمپائر نے پیلا کارڈ دکھا کر باہر بھیج دیا جس پر پاکستانی ٹیم مزید دباؤ میں آگئی۔ اس موقع پر سپین کو یکے بعد دیگرے دو پینلٹی کارنرز ملے اور سپین کے کھلاڑی ڈیوڈ الگرے نے گول کر دیا۔ سپین نے تیسرا گول میچ ختم ہونے کے دو منٹ پہلے کیا۔یہ گول فارورڈ سینتی آگو فریکزا نے کیا۔ یہ وہی کھلاڑی ہیں جس نے اس سال کے بہترین ابھرتے ہوئے کھلاڑی کا ایوارڈ حاصل کیا۔ سپین سے ہارنے کے بعد پاکستان فائنل میں تو نہ پہنچ سکا اب وہ تیسری پوزیشن کے لیے میچ کھیلے گا۔ میچ کے بعد پاکستان کے کپتان وسیم احمد نے پاکستانی فارورڈز کو شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ وسیم نے ایمپائرنگ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایمپائرز کے چند غلط فیصلے بھی ان کی شکست کی ایک وجہ ہیں۔ پاکستان کے کوچ رولینٹ نے پاکستان کی کارکردگی کو اچھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم کی کارکردگی مایوس کن نہیں البتہ میچ کا نتیجہ مایوس کن ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||