ہاکی: اولمپک کے بعد تبدیلیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایتھنز اولمپکس میں پاکستان ہاکی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کوچ رولینٹ آلٹمینز کو ان کے عہدے پر برقرار رکھتے ہوئے اسسٹنٹ کوچ طاہر زمان کو بر طرف کر دیا ہے اور آصف باجوہ کو نیا اسسٹنٹ کوچ مقرر کردیا ہے جبکہ سابق اولمپئن سمیع اللہ کو ٹیم کا نیا منیجر بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بھارت کے خلاف سیریز کے لیے اکیس ممکنہ کھلاڑیوں کے ناموں کا بھی اعلان کردیا ہے جن میں سابق کپتان گول کیپر احمد عالم اور فل بیک علی رضا شامل نہیں ہیں ۔ ڈسپلن کی خلاف ورزی پر اولمپکس ٹیم سے باہر کئے گئے ہاف بیک ثقلین کو دوبارہ کیمپ میں بلا لیا گیا ہے۔ طاہر زمان کو ان کے عہدے سے الگ کرنے کی وجہ کوچ رولینٹ آلٹمینز سے ان کے اختلافات بتائے گئے ہیں۔ ان کا پاکستان ہاکی ٹیم کے کوچ اور اب اسسٹنٹ کوچ سے علیحدہ ہوجانا اس لئے افسوس ناک ہے کہ وہ کوالیفائیڈ کوچ ہیں اور خود پاکستان ہاکی فیڈریشن مستقبل کے تناظر میں ان سے بڑی توقعات وابستہ کئے ہوئے تھی کہ ان کا تجربہ پاکستان ہاکی کے کام آئے گا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ٹیم کی تیاری کے تمام تر معاملات ڈچ کوچ کے سپرد کردیئے ہیں جو انہیں اپنے انداز سے چلانا چاہتے ہیں۔ آلٹمینز کے آنے کے بعد سلیکشن کمیٹی بھی برائے نام رہ گئی ہے اور ٹیم کا انتخاب کلی طور پر کوچ کی مرضی پر ہوتا ہے۔ سابق اولمپیئن سمیع اللہ پہلے بھی پاکستان ٹیم کے کوچ اور منیجر کی ذمہ داری نبھاچکے ہیں۔ ’فلائنگ ہارس‘ کے نام سے مشہور سمیع اللہ نے ایک اولمپکس اور چار ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔ جبکہ آصف باجوہ بارسلونا اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی ٹیم کے رکن تھے اسوقت وہ جونیئر ٹیم کی کوچنگ کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||