BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 August, 2004, 15:11 GMT 20:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پانچویں پوزیشن پر بھی مطمئن:پاکستان

عباس
سہیل عباس سے پاکستان کو بہت امیدیں تھیں لیکن ان کے جوہر بھی اس وقت کھلے جب ٹیم تمغوں کی دوڑ سے باہر ہو گئی
پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم نے ایتھنز اولمپکس کا اختتام نیوزی لینڈ کو دو کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے کر پانچویں پوزیشن حاصل کر لی ہے، جس پر پاکستان ہاکی ٹیم کی منیجمنٹ اور فیڈریشن چین کی بانسری بجاتے ہوئے اسے بڑی حد تک اطمینان بخش کارکردگی کے طور پر دیکھ رہی ہے کہ اس نے دنیا کی چھ ٹاپ ٹیموں میں جگہ بنارکھی ہے لیکن ہاکی کے شائقین اور سابق اولمپئنز اس خیال سے متفق نہیں ہیں۔

پاکستان ہاکی ٹیم یورپ کے متعدد ٹورنامنٹس میں شرکت اور ان میں ملی جلی کارکردگی کے ساتھ ساتھ بلند بانگ دعووں کے زور میں ایتھنز پہنچی تھی ۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر نے کہا تھا کہ یہ ٹیم گولڈ میڈل جیتے گی۔ کوچ نے اپنےمقابلے میں عالمی چیمپئن جرمنی کو خطرہ ماننے سے انکار کردیا تھا لیکن پہلے ہی میچ میں یہی جرمن ٹیم پاکستان ٹیم کو لے ڈوبی۔

درحقیقت یہی وہ میچ تھا جس نے پاکستان کی جوشیلی مہم کو بری طرح متاثر کیا اور رہی سہی کسر اسپین نے پوری کردی۔ درحقیقت یہی دو میچز پاکستان ٹیم کی کڑی آزمائش تھے جن میں وہ ناکام رہی۔

پاکستان ٹیم کی اس کارکردگی کا سبب غیرمستقل مزاجی تھی دفاع ہر میچ میں کمزور دکھائی دیا یہاں تک کہ مصر کی ٹیم نے بھی اس کا امتحان لیا۔ فارورڈز بھی اہم میچوں میں بکھرے بکھرے رہے ۔ پاکستان کی سب سے بڑی امیدسہیل عباس جرمنی کے ِخلاف اہم ترین میچ میں دو میں سے کسی پنالٹی کارنر کو کارآمد نہ بناسکے لیکن جیسے ہی اسپین کے خلاف میچ کے بعد پاکستانی ٹیم ہر طرح کے دباؤ سے آزاد ہوئی تو سہیل عباس کے نشانے صحیح لگنے لگے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان ٹیم وکٹری اسٹینڈ پر پہنچنے کے ارادے کے ساتھ اولمپکس میں گئی تھی یا دنیا کی ٹاپ چھ ٹیموں میں سے ایک ہونے کی سند حاصل کرنےکے لیے؟

رولینلٹ آلٹمینز کو اولمپکس کی تیاری کے لیے 9 ماہ ملے اس دوران انہیں سلیکشن کمیٹی کے ہوتے ہوئے کھلاڑی منتخب اور مسترد کرنے کا اختیار رہا اور انہوں نے جو ٹیم اولمپکس کے لیے منتخب کی وہ ان کی مرضی منشا کی تھی۔

سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہونے کے بعد آلٹمینز کی اس بات کا کوئی جواز نہیں کہ انہیں بہت کم وقت ملا۔ یہ بات انہیں اسی وقت ریکارڈ پر لے آنی چاہئے تھی جب وہ پاکستان ٹیم کے کوچ مقرر ہوئے تھے۔

جہاں تک پاکستان ٹیم کے ٹاپ چھ ٹیموں میں شامل ہونے کا تعلق ہے وہ صف اول کی ٹیموں میں آج سے شامل نہیں ہے لہذا اس بات کا کریڈٹ ڈچ کوچ کو دینا یا اس بارے میں ٹیم منیجمنٹ کی طرف سے اطمینان کی بات کرنا آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

پاکستان ہاکی ٹیم منیجمنٹ نے اولمپکس میں شکست کے بعد اب ورلڈ کپ 2006 کی تیاری کا خوبصورت نعرہ بلند کردیا ہے لیکن کیا اس نعرے کی گونج سے اولمپکس کے وکٹری اسٹینڈ پر نہ پہنچنے کا دکھ کم ہوسکے گا؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد