پاکستان ہاکی کے کپتان ریٹائر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان ندیم احمد( این ڈی) نے بین الاقوامی ہاکی کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ایتھنز اولمپکس میں مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی پاکستان ٹیم کے کپتان نے گوجرہ سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کا افسوس ہے کہ ٹیم وکٹری اسٹینڈ پر نہ آسکی جبکہ ان کی اپنی پرفارمنس بھی اطمینان بخش نہیں تھی تاہم انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ندیم احمد نے کہا کہ ایتھنز اولمپکس میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی کا اصل سبب مستقل مزاجی کا فقدان تھا۔ٹیم ایک دن بہت اچھا کھیلی لیکن دوسرے دن اس کی کارکردگی انتہائی خراب رہی۔ ’یہ بات یورپی ٹیموں میں نہیں ہے۔ ان کی کارکردگی میں تسلسل ہوتا ہے‘۔ ندیم نے کہا کہ وہ مزید انٹرنیشنل ہاکی کھیل سکتے تھے اور وہ اس سال بھی جرمنی میں لیگ کھیلیں گے لیکن ان کا خیال ہے کہ قومی ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کو آنا چاہیئے۔ ندیم نے پاکستان کی طرف سے285 میچز کھیلے ہیں۔ انہوں نے دو اولمپکس، دو ورلڈ کپ اور سات چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ وہ دوسال قبل پاکستان ٹیم کے کپتان مقرر ہوئے۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے ازلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ بھی جیتا۔ وہ سہیل عباس اور وسیم احمد کے ساتھ فیڈریشن کو بتائے بغیر لیگ کھیلنے کے لیے جرمنی چلے جانے والے تنازعہ میں بھی شریک تھے جس کا نتیجہ منیجر شہناز شیخ کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کی صورت میں سامنے آیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||