BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 September, 2004, 19:54 GMT 00:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈین بولرز بہت باصلاحیت ہیں۔

پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم
پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم
آئی سی سی کرکٹ ٹرافی ٹورنامنٹ میں ہفتے کے روز بھارت اور کینیا کے درمیان میچ کے بارے میں نے کل ہی کہہ دیا تھا کہ کینیا انڈیا کو نہیں ہرا سکتی۔

انڈیا کی بیٹنگ سچن ٹنڈولکر کے ان فٹ ہونے سے متاثر ہوئی ہے باوجود اس کے کہ انہوں نے پچھلی دو سریز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا اس کے باوجود 290 کا بڑا سکور کیا۔

انڈیا کی بولنگ آج کل بیٹنگ سے بہتر ہے۔ انڈیا کی بولنگ جو تجربہ کار نہیں ہے لیکن بہت ہی با صلاحیت ہے۔

کوئی ٹیم جب دو سو نوے رنز سکور کر لیتی ہے تو اس کے جیتنے کے چانس بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ اتنا سکور دنیا کی کسی بھی ٹیم کے خلاف وننگ سکور ہوتا ہے۔

انڈیا کی ٹیم 290 سکور کرنے کے بعد تھوڑا سا ریلیکس ہوئی لیکن کینیا کی ٹیم جو انڈیا سے آٹھ سالوں میں صرف ایک میچ جیت سکی ہے ،کے لیے 290 سکور کرنا ناممکنات میں تھا۔

بھارت ٹیم شروع میں تھوڑی مشکلات میں آ گئی تھی لیکن بعد کے کھلاڑیوں نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا اور وہ آرام سے میچ جیت گئے۔

کینیا کی ٹیم بلکل نا تجربہ کار ہے حالانکہ وہ پچھلے ورلڈ کپ میں سیمی فائنل کھیلے ہیں جو بہت بڑی کامیابی تھی۔

کینیا کا بھارت کے خلاف پورے پچاس اوورز کھیلنا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کینیا کے بیٹسمینوں نے شروع سے ہی روک کر کھیلنا شروع کر دیا تھا اس لیے وہ اتنے اوورز کھیل گئے۔

290 رنز کا ٹارگٹ کسی بھی ٹیم کے لیے بہت سکور ہے خاص طور پر کینیا کے لیے جوبہت ہی نوجوان اور ناتجربہ کار ٹیم ہے اس کے لیے یہ سکور کرنا بہت ہی مشکل تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد