BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 August, 2004, 18:36 GMT 23:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان نے اپنا اعزاز برقرار رکھا

سکواش
جونیئر میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑی
مصحف علی سکواش کمپلیکس اسلام آباد میں کھیلی جانے والی عالمی جونیئر سکواش کے ٹیم ایونٹ کے فائنل میں پاکستان نے مصر کو ایک کے مقابلے دو میچوں میں ہرا کر سنہ 2002 میں حاصل کیے گئے اپنے اعزاز کا کامیاب دفاع کیا۔

فائنل کا پہلا میچ پاکستان کے خالد اطلس اور انفرادی ایونٹ کے فاتح مصری کھلاڑی رامی عاشور کے درمیان ہوا۔

رامی نے ثابت کیا کہ وہ واقعی میں چمپئن ہے اور میچ کی پہلی دوگیمز پیچھے رہنے کے باوجود کم بیک کیا اور دونوں گیمز جیتیں۔ جب کہ دوسری جانب اطلس اپنی ہی غلطیوں سے جیتی ہوئی گیمز ہارگئے۔

پہلی گیم میں خالد اطلس دو چھ سے آگے تھے تاہم چھ کا یہ ہندسہ ان کے لیے منحوس ثابت ہوا اور رامی نے زبردست کھیل پیش کیا اور 6/9 سے پہلی گیم جیت لی۔

دوسری گیم میں بھی خالد چھ چار سے آگے تھے لیکن چھ کے سکور سے آگے نہ بڑھ سکے اور دوسری گیم بھی رامی نے 6/9 سے جیت لی۔

تیسری گیم میں البتہ خالد نے کھیل پر گرفت مضبوط کی اور 2/9 سے تیسری گیم جیت لی۔

ٹرافی
پاکستانی صدر مشرف نے کھلاڑیوں کو ٹیم ٹرافی دی۔

چوتھی گیم میں مقابلہ خوب سخت تھا تاہم رامی نے 7/9 سے یہ گیم اور میچ دونوں جیت لیے۔

ٹیم ایونٹ فائنل کا دوسرا میچ پاکستان کے نقطہء نگاہ سے بہت اہم تھا کیونکہ اگر وہ اس میں ہارتا تو اعزاز اس کے ہاتھ سے چلا جاتا۔

یہ میچ یاسر بٹ اور مصری کھلاڑی عمر بن زید کے درمیان تھا۔
یاسر نے پہلی گیم 4/9 سے جیتی لیکن دوسری گیم میں وہ ریدھم برقرار یہ رکھ سکے اور یہ گیم مصری کھلاڑی نے3/9 سے جیت لی۔

تیسری اور چوتھی گیم میں یاسر نے دوبارہ اپنے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا اور دونوں گیمز 4/9 اور 1/9 کے سکور سے جیت لیں۔

اب فیصلہ آخری اور تیسرے میچ پر ہونا تھا جو کہ پاکستان کے فرحان محبوب اور مصر کے محمود عادل کے درمیان تھا۔اس تمام میچ میں فرحان محبوب مکمل طور پر چھائے رہے ان کے زبردست کھیل سے کورٹ میں بیٹھے تماشائی بہت محظوظ ہوئے۔

جہانگیر خان
جونیئر کھلاڑی سکوائش کے لیجنڈ جہانگیر خان کے ساتھ

انہوں نے تیسرا اور فیصلہ کن میچ تین سٹریٹ گیمز سے جیت کر اپنے ملک کو فتح دلائی اور یوں پاکستان کی ٹیم اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میں کامیاب ہوئی۔

تیسرے نمبر پر برطانیہ کی ٹیم رہی۔برطانیہ نے کویت کی ٹیم کو ایک کے مقابلے دو میچز مین شکست دی۔

پاکستان اور مصر کے درمیان میچ کو عالمی سکواش فیڈریشن کے صدر جہانگیر خان نے بھی دیکھا جہانگیر خان نے پاکستان جونئر ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پاکستانی کھلاڑی عالمی چمپئن شپ کا انفراڈی ایونٹ تو نہ جیت سکے لیکن ٹیم کے لحاظ سے اسوقت وہ جونیئر میں سب سے مضبوط ٹیم کے طور پر ابھرے ہیں۔

اس مقابلے کے مہمان خصوصی صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف تھے وہ گو کہ تمام میچ ختم ہونے کے بعد محض انعامات تقسیم کرنے آئے تاہم انہوں نے پاکستان کی ٹیم کو پچاس لاکھ روپے انعام میں دینے کا اعلان کیا۔

صدر پاکستان کی سکیورٹی کے لیے سکواش کمپلیکس کے ارد گرد شدید حفاظتی انتظامات کیے گئے اور یہ کاروائی گذشتہ تین دن سے جاری تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد