پاکستان اور مصر: جونئر سکواش فائنل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور مصر کی ٹیمیں عالمی جونئر سکواش چمپئن شپ کے فائنل میں پہنچ گئیں ہیں۔ مصحف علی سکواش کملپس اسلام آباد میں جاری تیرھویں عالمی جونئر سکواش کے پہلے سیمی فائنل میں پاکستان نے کویت کی ٹیم کو تینوں میچوں میں ہرا کر فائنل کے لیے باآسانی کوالیفائی کیا۔ پہلا میچ پاکستانی ٹیم کے کپتان خالد اطلس اور کویت کے علی ال رمزی کے درمیان ہوا خالد نے یہ میچ تین سٹریٹ گیمز سے جیتا۔ پہلی گیم 4/9 سے دوسری گیم 2/9 سے اور تیسری گیم 5/9 سے۔ دوسرا میچ پاکستان کے یاسر بٹ اور کویت کے سلیمان ال خمیس کے درمیان ہوا یہ میچ مکمل طور پر یک طرفہ نظر آیا اور یاسر کھیل پر پوری طرح چھائے رہے۔ یاسر نے یہ میچ 1/9، 0/9 ،2/9 سے جیتا۔ ٹیم ایونٹ میں جو ٹیم تین میچوں میں سے دو میں جیت جائے وہ فاتح ٹیم ہوتی ہے تاہم قاعدے کے مطابق تیسرا میچ بھی کھیلا جاتا ہے۔ لہذا تیسرا میچ پاکستان کے فرحان محبوب اور کویت کے سلیم محمد کے درمیان ہوا فرحان نے بھی اپنا میچ سٹریٹ گیمز سے جیتا۔ پہلا میچ انفرادی ایونٹ کے فاتح مصری کھلاڑی رامی آشور اور کرس سمپسن کے درمیان تھا۔ برطانوی کھلاڑی جونئر عالمی چمپئن کی تیز اور جاندار شاٹس کا مقابلہ نہ کر سکا اور رامی عاشور نے یہ میچ 3/9، 2/9، 6/9 سے جیت لیا۔ دوسرا میچ جو کہ احمد سوافی اور ٹام رچرڈ کے درمیان تھا بہت سخت اور طویل تھا اور میچ کا جھکاؤ کبھی مصر کی جانب تو کبھی برطانیہ کی جانب دکھائی دیتا۔ پہلی گیم میں برطانوی کھلاڑی رچرڈ نے مصری کھلاڑی احمد سوافی کو بے بس کر دیا اور یہ گیم 0/9 سے جیت لی۔تاہم دوسری گیم میں پانسا پلٹا اور یہ گیم سوافی نے 0/9 سے جیت لی۔تیسری گیم میں کافی سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا اور برطانوی کھلاڑی رچرڈ نے یہ گیم 7/9 سے جیت لی۔چوتھی گیم بھی خوب کانٹے دار رہی تاہم یہ گیم سوافی 7/9 سے جیت گئے۔ اب فیصلہ پانچویں اور آخری گیم پر ہونا ٹھہرا۔ اس گیم میں سوافی نے جاندار کھیل پیش کیا۔اگرچہ رچرڈ نے مزاحمت کی لیکن سوافی نے یہ گیم 3/9 سے جیت کر اپنے ٹیم کو بھی فتح سے ہمکنار کیا اور فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔ اب فائنل پاکستان اور مصر کے درمیان کھیلا جائے گا۔فائنل کے مہمان خصوصی صدر پاکستان جرنل پرویز مشرف ہوں گے جن کی سیکیورٹی کے لیے تیاریاں کئی روز سے جاری ہیں۔ پاکستان کے کوچ رحمت خان پر امید ہیں کہ پاکستان کی ٹیم فائنل جیت جائے گی۔انہوں نے کہا کہ خالد اطلس اور رامی آشور کا مقابلہ سخت ہو گا اور اگر خالد نے اپنا بھرپور کھیل کھیلا تو وہ آشور کو ہرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رحمت خان نے کہا کہ اگر اطلس نہ جیت سکا پھر بھی ہماری جیت کا امکان زیادہ ہے کیونکہ ہمارے باقی دو کھلاڑی یاسر بٹ اور فرحان محبوب مصری کھلاڑیوں سے بہتر ہیں۔ جمعہ کو سیمی فائنل مقابلے عالمی جونئر سکواش کے صدر جہانگیر خان نے بھی دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے مجموعی طور پر تو سکواش کا معیار گرا ہے لیکن جو ممالک محنت کر رہے ہیں انہوں نے انہوں نے کہا کہ اگر چہ عالمی جوئنر سکواش میں بتیس ٹیموں کو آنا چاہیے تھا لیکن کئی ممالک سکیورٹی کے اندیشے کے سبب نہیں آتے عالمی سکواش ان پر دباؤ نہیں ڈال سکتی۔ جہانگیر خان نے کہا کہ البتہ بائیس ممالک کا آنا بھی خوش آئند بات ہے اور یہ ممالک واپس جا کر یہ تاثر دیں گے کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||