BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 April, 2004, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیز بولرز کا دن

بالاجی
بالاجی نے اپنے کیریئر کی بہترین بولنگ کی
راولپنڈی ٹیسٹ کا پہلا دن تیز بولرز کے نام رہا۔ بھارتی کپتان سوروگنگولی اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ ٹاس جیتنے کی صورت میں انہیں وکٹ سے فائدہ اٹھانے کا موقع پہلے مل گیا اور ان کے بولرز نے بھی انہیں مایوس نہیں کیا۔ وہ پاکستان کو پہلی اننگز میں 224 رنز پر آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جواب میں پاکستان کا وار بھی مہلک تھا خطرناک وریندر سہواگ بھارتی اننگز کی پہلی ہی گیند پر یاسر حمید کے انتہائی شاندار کیچ پر پویلین کی راہ دیکھنے پر مجبور ہوگئے۔

انضمام الحق نے سیریز کے فیصلہ کن ٹیسٹ کے لئے ایک ایسی وکٹ کو ترجیح دی جس پر وہ اپنے سب سے مضبوط شعبے یعنی تیز بولرز کے ذریعے بھارتی بیٹنگ کو قابو کرسکیں۔ لیکن ون ڈے سیریز کے تمام پانچوں میچوں میں ٹاس جیتنے والے پاکستانی کپتان ملتان اور لاہور کے بعد راولپنڈی ٹیسٹ میں بھی ٹاس نہ جیت سکے۔

لاہور میں ٹاس ہارنا ان کے لئے اس لئے فائدہ مند رہا تھا کہ راہول ڈریوڈ نے پہلے بیٹنگ کرکے اپنے لئے مشکلات پیدا کردی تھیں لیکن اس مرتبہ گنگولی نے وہ غلطی نہیں دوہرائی۔

کھانے کے وقفے تک پاکستان ٹیم موو ہوتی ہوئی گیندوں سے نبرد آزما ہوتے ہوئے چار وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی۔ دونوں اوپنرز ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ یاسر حمید سلپ میں دبوچے گئے اور کپتان انضمام الحق وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

چائے کے وقفے پر مزید چار وکٹیں گریں اور آخری سیشن میں بساط لپیٹ دی گئی ۔عرفان پٹھان کی گیند یوحنا کے بلے کو چھوتی ہوئی بیلز اڑا گئی لاہور ٹیسٹ میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے عاصم کمال ایک گھنٹہ وکٹ پر ٹھہرے لیکن وہ بھی وکٹ کے سامنے پیڈ لانے کی پاداش میں ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔

محمد سمیع اور فضل اکبر نویں وکٹ کی شراکت میں 70 رنز بناکر پاکستان ٹیم کی مشکلات میں کسی حد تک کمی کرنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے ملتان ٹیسٹ میں یوسف یوحنا اور شعیب اختر کا نویں وکٹ کے لئے 70 رنز کی شراکت کا بھارت کے خلاف ریکارڈ بھی برابر کیا۔ محمد سمیع پچاس واں رن لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہوئے۔

وکٹوں کے بٹوارے میں بالاجی سب سے کامیاب رہے انہوں نے 63 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں جو ان کی بہترین بولنگ بھی ہے ۔ اشیش نہرا اور عرفان پٹھان بھی پاکستانی بیٹسمینوں پر دھاک بٹھانے کے معاملے میں پیچھے نہیں رہے۔ بھارتی کپتان اس وکٹ پر اپنے تکونی بولنگ اٹیک سے جو توقعات رکھتے تھے وہ پوری ہوئیں۔

بھارت نے آکاش چوپڑا کے ڈراپ ہونے کے بعد سہواگ کے اوپننگ پارٹنر کے طور پر پارتھیو پٹیل کا انتخاب کیا لیکن پاکستان کو اننگز کی پہلی ہی گیند پر سہواگ کی قیمتی وکٹ مل گئی۔ شعیب اختر کی گیند پر ان کا کیچ یاسر حمید نے دوسری کوشش میں گرتے ہوئے دبوچ لیا لیکن اس کے بعد پٹیل اور ڈراوڈ ذمہ داری سے کھیلتے ہوئے پندرہ اوورز گزار گئے جس میں بھارت کا اسکور 23 رنز تھا۔

انضمام الحق کی کوشش ہوگی کہ بھارت کو ایک بڑے اسکور سے روکنے کے لئے دوسرے دن کے ابتدائی لمحات میں وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوں۔بازی ان کے ہاتھ سے ابھی نہیں نکلی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد