BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 April, 2004, 13:43 GMT 18:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چھکا چھکے چھڑا دیتا ہے

جاوید میانداد
میانداد کے چھکے کی برتری عالمی کپ میں سچن کے چکھے سے ختم ہوئی
سن اسی کی دہائی سے لے کر گزشتہ عالمی کرکٹ ورلڈ کپ تک پاکستان کو جو ہندوستان پر برتری حاصل تھی وہ ورلڈ کپ میں سچن تندولکر کی دھماکہ خیز بیٹنگ کے باعث ختم ہو گئی۔

کم از کم برٹش میڈیکل جرنل کی ایک تحقیق کے مطابق یہی ہوا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جیتنے اور ہارنے میں بڑا کردار دماغی طور پر مضبوطی کا ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شارجہ میں 1986 کے آسٹریلیشیا کپ میں نمایاں جیت کے بعد پاکستان لگاتار میچز جیتتا رہا۔

اُس وقت سے حالیہ پاک بھارت سیریز تک پاکستان نے چوالیس ایک روزہ اور تین ٹیسٹ میچوں میں میں بھارت کو شکست دی جبکہ بھارت اس کے مقابلے میں پاکستان کو صرف ایک ٹیسٹ اور بائیس ایک روزہ میچوں میں شکست دے پایا۔

جریدے کے پاکستان میں نمائندے کامران عباسی نے کہا کہ شارجہ کے اس میچ میں پاکستان ہار رہا تھا لیکن جاوید میاں داد نے ہمت نہ ہاری اور تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ان کے مشہور زمانہ چھکے نے پاکستانی ٹیم کو کچھ اس طرح کی نفسیاتی برتری دلائی جس سے بھارتی ٹیم سچن کی عالمی کپ میں دھواں دھار بیٹنگ سے پہلے تک نہ نکل پائی۔

کامران عباسی نے تحقیقی نتائج کا مزید ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب سچن تندولکر نے شعیب اختر کی گیندوں کو دھواں دھار طریقے سے باؤنڈری لائن کا راستہ دکھانا شروع کیا تو نہ صرف پوری پاکستانی ٹیم زبردست دباؤ میں آگئی بلکہ فتح کے ساتھ ہی بھارت مستقل ذہنی دباؤ سے بھی نکل آیا۔

کامران عباسی کے بقول اب پاکستانی ٹیم اسی طرح کے ذہنی دباؤ کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

سچن اور شعیب
سچن کے چکھے سے یہ اثر ہوا کہ شعیب ہمیشہ سچن کو آؤٹ کرنے میں لگے رہتے ہیں

سابق پاکستانی ٹیسٹ وکٹ کیپر سلیم یوسف اس تحقیق کے نتائج سے مکمل اتفاق کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ شارجہ کپ کے بعد سے بھارتی ٹیم ہمیشہ دباؤ کا شکار رہی لیکن اب اس احساس کمتری میں عالمی کپ کے بعد سے پاکستانی ٹیم مبتلا دکھائی دیتی ہے۔

تاہم پاکستانی کوچ جاوید میانداد اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ عالمی کپ کے بعد سے پاکستانی ٹیم تعمیرنو کے مرحلے سے گزر رہی ہے اور اس میں بہت زیادہ بہتری آئی ہے۔

لیکن جاوید میانداد اس بات سے ضرور اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کو ذہنی طور پر زیادہ مضبوط کھلاڑیوں کی ضرورت ہے۔ میانداد کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈھانچہ اب کھلاڑیوں کی ذہنی پختگی میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا جبکہ ماضی میں صورتحال ایسی نہیں تھی۔

میانداد کا یہ بھی کہنا تھا کہ گو موجودہ پاک بھارت سیریز کے دوران تو اس مشکل کا حل تلاش نہیں کیا جا سکتا لیکن سیریز کے بعد ضرور پاکستانی کرکٹ حکام اس مشکل کے ازالے کی کوشش کریں گے۔

اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو کون کہہ سکتا ہے کہ مستقبل میں کوئی اور تاریخی چھکا دونوں ملکوں میں کرکٹ کا توازن ایک بارپھر بدل دے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد