آج عیدِ آفریدی ہے مگر کتنے دن؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, احمر نقوی
- عہدہ, سپورٹس تجزیہ کار
پی ایس ایل کے دوران دنیا کے عظیم ترین بیٹسمینوں میں سے ایک اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کوچ سر ویوین رچرڈز احمد شہزاد کو ایک طرف لے گئے۔
احمد شہزاد کی کیمرے سے محبت کا اندازہ لگاتے ہوئے انھوں نے انھیں کیمرے سے زیادہ دیر دور نہیں رکھا اور کچھ مختصر باتیں کہیں۔
اپنے نرم لہجے لیکن بھاری بھرکم آواز میں میں ویوین رچرڈز نے نوجوان کھلاڑی شہزاد کو سمجھایا کہ انھوں نے ابھی دنیائے کرکٹ میں اپنا لوہا نہیں منوایا، ہاں انہیں شہرت حاصل ہوئی ہے لیکن شہرت جتنی جلدی آتی ہے اتنی جلدی چلی بھی جاتی ہے۔
ویوین رچرڈز نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا کہ پوری دنیا انھیں جانتی تھی، اور اس کی وجہ یہ تھی وہ خود کم اور ان کا بیٹ زیادہ بولتا تھا، اور شہزاد کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اپنے بیٹ کو باتیں کرنا نہ سکھایا تو دنیا انھیں جلد ہی بھول جائے گی۔
اس لمحے سے اس بات کا انداز ہ لگایا جا سکتا ہے کہ آخر پی ایس ایل کا مقصد کیا تھا، وہ یہ کہ پاکستانی کھلاڑی اپنے خول سے نکل کر باہر کی دنیا میں قدم رکھیں۔ ویسے تو پی ایس ایل نے پاکستان کو کوئی سپر سٹار بیٹسمین نہیں دیا لیکن اس نے کئی بیٹسمینوں کی گرتی ہوئی فارم کو سنبھالا ضرور۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شہزاد اور حفیظ نے بنگلہ دیش کے خلاف کرکٹ کے سب سے چھوٹے فارمیٹ میں ایک عرصے بعد عمدہ اننگز اور ورلڈ ٹی 20 میں پاکستان نے اپنا سب سے بڑا سکور کیا۔
فلیٹ بیٹنگ پچ پر پہلے بلے بازی کرنا ایک طرف، لیکن حفیظ اور شہزاد جس اعتماد اور روانی سے کھیلے اور وہ بھی ایک ایسی ٹیم کے خلاف جس نے انہیں محدود اوورز کے پچھلے پانچ میچوں میں شکست دی ہو، بذات خود بڑی بات ہے۔
انھوں نے اپنے کپتان شاہد آفریدی کے لیے ایک ایسا سٹیج تیار کر دیا جس پر وہ نے ایسی اننگز کھیلے جو وہ کبھی کبھار ہی وہ کھیلتے ہیں۔
آفریدی کی ففٹی ایک رنز سے رہ گئی لیکن قانونی نوٹسز اور انڈیا میں محبت ملنے جیسے متنازع بیانات کے بعد بوم بوم نے اس سب کا انتقام ایڈن گارڈن کے پُرجوش شائقین کے سامنے لیا۔
لگا کہ پاکستان اور کولکتہ میں تو عیدِ آفریدی تھی۔ لالا نے ایک ایسے وقت پر اپنے شائقین کو خوش کر دینے والی کارکردگی دکھائی جب ایسا لگتا تھا کہ ان کی فارم ختم ہو گئی ہے، لیکن وہ بنگلہ دیش پر چھائے رہے۔
یہ مثالی آفریدی میچ تھا، جب بیٹنگ، بولنگ یا کپتانی ایک ہی رفتار میں چل رہی ہوں اور سوچنے کے لیے زیادہ وقت نہ ہو، پھر ایسا تو ہوتا ہے۔
بنگلہ دیش نے اپنی اننگز کا آغاز کیا تو ان میں شاید وہ بھرم، بھرا ہوا تھا جو ایک ایسی ٹیم کا ہو سکتا ہے جو سفید گیند سے کھیلی جانے والی کرکٹ میں ایک بہتر ٹیم کے طور پر ابھری ہے۔
تمیم اور شبیر اننگز کے آغاز میں اتنا ہی عمدہ کھیلے جیسے وہ کھیلتے ہیں لیکن پھر دونوں ہی بوم بوم کے آگے ڈھیر ہوگئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بولنگ میں پاکستان ہمیشہ سے مضبوط رہا ہے۔ محمد عامر نے پہلے ہی اوور میں بنگلہ دیش کی پہلی وکٹ حاصل کی اور بعد میں تمام بولروں نے اپنے جوہر دکھائے ۔
محمد عرفان اور وہاب ریاض نے انتہائی ہوشیاری سے بولنگ کی اور ایسی جگہ گیندیں کرائیں جہاں وہ خطرناک ثابت ہو سکتی تھیں۔
کسی سپیشلسٹ سپنر کا نہ ہونا پاکستان کے لیے مشکل کا باعث ہو سکتا ہے اور عماد وسیم اور پارٹ ٹائم سپنر شعیب ملک کو آئندہ کڑے امتحان کا سامنا ہو سکتا ہے۔
بالآخر یہ پاکستان کے لیے ایک انتہائی کامیاب میچ ثابت ہوا۔ پاکستان یہ میچ ایسے کھیلا جیسے گذشتہ پانچ برسوں میں کچھ ہوا ہی نہ تھا، جیسے وہ اس ٹورنامنٹ میں اپنے بدترین ریکارڈ کا بوجھ لے کر کبھی آئے ہی نہ تھے، اور ایسے جیسے سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔
اگلے میچ کے لیے روایتی حریف انڈیا پاکستان کا منتظر ہے۔ ورلڈ کپ مقابلوں میں انڈیا پاکستان کے لیے ناقابل تسخیر رہا ہے۔
مگر لاکھ روپے کا سوال تو یہ ہے کہ آج کی اس کامیابی کے لمحات پاکستان کے ساتھ کب تک بغل گیر رہیں گے؟



