پاکستانی ٹیم کی آزمائش شروع

پاکستانی ٹیم کی قوت اس بار بھی اس کی بولنگ ہے لیکن بیٹسمینوں کی متواتر خراب کارکردگی تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی ٹیم کی قوت اس بار بھی اس کی بولنگ ہے لیکن بیٹسمینوں کی متواتر خراب کارکردگی تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کولکتہ

آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی سخت آزمائش بدھ کے روز سے شروع ہورہی ہے اور اس کا پہلا مقابلہ بنگلہ دیش کے خلاف کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں ہے ۔

بنگلہ دیش کی ٹیم ورلڈ ٹی 20 سے قبل لگاتار دو ٹی 20 انٹرنیشنل میچوں میں پاکستانی ٹیم کو ہرا چکی ہے جن میں حالیہ ایشیا کپ میں جیت بھی شامل ہے اور اس شاندار کارکردگی کو دوہرانے کے لیے اس کے حوصلے بہت بلند ہیں۔

بنگلہ دیشی ٹیم ورلڈ ٹی 20 کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں ناقابل شکست رہی ہے اور اس نے ہالینڈ اور اومان کو شکست دی جبکہ آئرلینڈ کے خلاف میچ کا نتیجہ برآمد نہ ہوسکا۔

پاکستانی ٹیم سنہ 2009 میں ورلڈ ٹی 20 جیت چکی ہے لیکن اس کے بعد سے اپنے پسندیدہ فارمیٹ پر اس کی گرفت کمزور پڑ چکی ہے۔

سنہ 2010 اور 2012 میں پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچی تھی لیکن دو سال پہلے بنگلہ دیش میں کھیلے گئے ورلڈ ٹی 20 میں وہ سیمی فائنل میں بھی نہ پہنچ سکی۔

پاکستانی ٹیم کی حالیہ مایوس کن کارکردگی کے سبب مبصرین اور ماہرین ورلڈ ٹی 20 میں اسے فیورٹ ٹیموں میں شامل کرنے سے گریز کررہے ہیں لیکن یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ غیرمستقل مزاجی ہی پاکستانی ٹیم کی اصل خوبصورتی ہے جس کے نتیجے میں وہ کسی بھی وقت کسی بھی بڑی ٹیم کو چونکا سکتی ہے۔

پاکستانی ٹیم کی کولکتہ کے ایڈن گارڈنز سے خوشگوار یادیں وابستہ ہیں

،تصویر کا ذریعہChippu Abraham

،تصویر کا کیپشنپاکستانی ٹیم کی کولکتہ کے ایڈن گارڈنز سے خوشگوار یادیں وابستہ ہیں

پاکستانی ٹیم کی قوت اس بار بھی اس کی بولنگ ہے لیکن بیٹسمینوں کی متواتر خراب کارکردگی تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے۔

ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف صرف 83 رنز پر آؤٹ ہوکر پاکستانی ٹیم نے شائقین کی مایوسی کو انتہا پر پہنچادیا تھا۔

کپتان شاہد آفریدی اپنے بیانات کی وجہ سے اس وقت یقیناً شہ سرخیوں میں ہیں لیکن کارکردگی کے لحاظ سے وہ اپنے کریئر کے اختتامی موڑ پر مشکل میں گھرے ہوئے ہیں۔

ایشیا کپ کے بعد سری لنکا کے خلاف وارم اپ میچ میں بھی ان کی کارکردگی مایوس کن رہی اور پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہونے کے بعد بولنگ میں چار اوورز میں 40 رنز دے ڈالے۔

پاکستانی ٹیم کی کولکتہ کے ایڈن گارڈنز سے خوشگوار یادیں وابستہ ہیں۔

اسی میدان میں اس نے بھارت کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل سلیم ملک کی صرف 36 گیندوں پر 72 رنز کی شاندار اننگز کی بدولت جیتا تھا جبکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف نہرو کپ کے فائنل میں وسیم اکرم کے چھکے کی بدولت ملنے والی جیت بھی اسی میدان میں تھی۔