بھارت میں ’زیادہ پیار‘ ملنے کے بیان پر آفریدی پر تنقید

،تصویر کا ذریعہ
آئی سی سی ورلڈ ٹی20 مقابلوں کے لیے بھارت پہنچنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی کی جانب سے اس بیان کے سامنے آنے کے بعد کہ انھیں وہاں بہت پیار ملتا ہے پاکستانی مداح ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔
بھارتی شہر کولکتہ پہنچنے کے بعد کپتان شاہد آفریدی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہاں کے لوگوں سے جتنا پیار مجھے اور ٹیم کو ملا وہ میرے لیے یادگار ہے۔‘
آفریدی کے بھارت میں زیادہ پیار ملنے کے بیان کو پاکستان میں زیادہ پسند نہیں کیا گیا ہے۔
قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان کو اس حوالے سے لیگل نوٹس بھیجوایا گیا ہے۔
جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کے چیئرمین اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ لاہور کے ایڈریس پر یہ لیگل نوٹس بھیجوایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قومی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے بھارت جا کر پاکستان کے خلاف بیان دیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں بھارت آکر جتنا پیار ملا ہے وہ کبھی پاکستان میں نہیں ملا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
نوٹس کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ شاہد آفریدی کا کام کرکٹ کھیلنا ہے، سفارتی تعلقات پر بیان بازی کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، شاہد آفریدی کے بیانات سے پاکستانی عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، لیگل نوٹس میں شاہد آفریدی کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بیانات کی وضاحت کریں ورنہ ان کیخلاف آرٹیکل چھ کے تحت غداری کا مقدمہ درج کروانے کیلئے قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
پاکستان کے سابق مایہ ناز بیٹسمین جاوید میانداد نے بھی آفریدی کے بیان کی مزمت کی ہے۔
ایک بھارتی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شاہد آفریدی کے بیان سے انھیں ’صدمہ اور تکلیف‘ پہنچی ہے۔
ادھر سماجی رابطوں کی سائٹس پر بھی اس بیان پر خوب بحث چل رہی ہے۔
ایک پاکستانی مداح نے اس حوالے سے ٹوئٹ کیا ہے کہ ’آفریدی نہ بیٹنگ کر سکتے ہیں نہ باؤلنگ اور انتہائی ناقص کپتانی کرتے ہیں، اسی وجہ سے بھارتی ان سے بہت پیار کرتے ہیں۔‘
خیال رہے کہ پاکستان ٹیم آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 مقابلوں میں شرکت کے لیے سنیچر کی شام بھارت کے شہر کولکتہ پہنچی تھی جہاں سینکڑوں شائقین نے ٹیم کا استقبال کیا تھا۔



