دبئی میں سیریز بچانے کی آخری کوشش

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
اظہر علی کی قیادت میں پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز بچانے کی آخری کوشش کے طور پر جمعے کے روز دبئی کے میدان میں اترے گی۔
پاکستان نے پہلا ون ڈے چھ وکٹوں سے جیتنے کے بعد انگلینڈ کے خلاف دس سال میں پہلی ون ڈے سیریز جیتنے کا موقع گنوا دیا اور انگلینڈ کی ٹیم دوسرا ون ڈے 95 رنز اور تیسرا چھ وکٹوں سے جیت کر چار میچوں کی سیریز جیتنے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔
آخری دونوں میچوں میں پاکستانی بیٹسمینوں نے مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، خاص کر تیسرے ون ڈے میں وہ جس طرح اوپر تلے رن آؤٹ ہوئے اس پر انھیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
واضح رہے کہ تیسرے ون ڈے میں پاکستان نے ایک موقعے پر صرف دو وکٹوں کے نقصان پر 132 رنز بنا لیے تھے لیکن چھ وکٹیں سکور میں صرف 29 رنز کے اضافے پر گرگئیں۔
کپتان اظہرعلی اس سے قبل زمبابوے اور سری لنکا کے خلاف مسلسل تین ون ڈے سیریز جیت چکے ہیں، لیکن وہ اس سیریز میں زبردست دباؤ میں ہیں جس کا ایک بڑا سبب ان کی اپنی خراب بیٹنگ فارم ہے ۔
تین میچوں میں وہ بالترتیب آٹھ، 22 اور 36 رنز ہی سکور کر سکے ہیں۔
کوچ وقار یونس کے لیے بھی صورت حال مایوس کن ہے جو ٹیسٹ سیریز میں دو صفر کی جیت کے بعد ون ڈے سیریز میں بھی اپنے کھلاڑیوں سے اچھی کارکردگی کی توقع رکھے ہوئے تھے۔
وقار یونس بحیثیت کوچ آسٹریلیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیت چکے ہیں لیکن انھیں آٹھ میں سے پانچ ون ڈے سیریز میں شکست ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مبصرین اس سیریز میں ان پر بہت زیادہ تجربے کرنے پر تنقید کر رہے ہیں جبکہ وقاریونس کا کہنا ہے کہ یہ تجربے ٹیم کو بہتر کمبی نیشن پر لانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
اس سیریز میں پاکستانی ٹیم تین میچوں میں دو مختلف اوپننگ جوڑیوں کے ساتھ میدان میں اتری ہے۔
اظہر علی کے ساتھ بلال آصف اور بابر اعظم کسی بڑی شراکت کے بغیر اننگز کا آغاز کر چکے ہیں جبکہ باقاعدہ اوپنر احمد شہزاد اس دورے میں پہلا موقع ملنے کے منتظر ہیں۔
وقار یونس کا کہنا ہے کہ ٹیم کو چھٹے بولر کی ضرورت ہے اس لیے احمد شہزاد کو موقع نہیں مل سکا۔
خود احمد شہزاد بھی حالیہ میچوں میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ آخری دس ون ڈے اننگز میں وہ صرف دو نصف سنچریاں بنا پائے ہیں جبکہ آخری دس ٹی 20 اننگز میں ان کی صرف ایک نصف سنچری ہے۔
شعیب ملک پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ڈبل سنچری کے بعد سے بری طرح ناکام رہے ہیں اور آٹھ اننگز میں صرف 102 رنز بنانے میں کامیاب ہوسکے ہیں جس میں سب سے بڑا سکور 38 ہے۔



