’اقربا پروری سے ٹیم کی کارکردگی پر اثر پڑ رہا ہے‘

وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے لیے نئے کوچ کا انتخاب کیا جائے: میانداد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوقت آ گیا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے لیے نئے کوچ کا انتخاب کیا جائے: میانداد

پاکستان کے سینیئر کرکٹروں نے قومی کرکٹ ٹیم کی انگلینڈ کے خلاف تیسرے ایک روزہ کرکٹ میچ میں شکست کا ذمہ دار بہت حد تک کوچ وقار یونس کو ٹھہرایا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان سے بات کرتے ہوئے سابق کپتان جاوید میانداد کا کہنا تھا کہ اس میچ میں کھیلنے والی ٹیم وقار یونس کی پسند اور ناپسند کو مدِنظر رکھتے ہوئے منتخب کی گئی اور اس لیے وہی بہت حد تک شکست کے ذمہ دار ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ افتتاحی بلے باز احمد شہزاد بھی کوچ کی اسی پسند و ناپسند کا شکار ہوئے ہیں۔

میانداد کا کہنا تھا کہ اقربا پروری کھلاڑیوں اور ٹیم کی کارکردگی پر اثرانداز ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے لیے نئے کوچ کا انتخاب کیا جائے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز بھی شکست کے لیے کپتان اظہر علی اور کوچ وقار یونس کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

میچ میں پاکستان کی ناقص کارکردگی کے بعد سابق انگلش کپتان مائیکل وان کی جانب سے شکوک کے اظہار پر بات کرتے ہوئے سرفراز نے کہا کہ جب 2010 میں انگلینڈ کے دورے میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل سامنے آیا تھا تب بھی وقار ہی کوچ تھے۔

انھوں نے بھی کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ وقار کو ہٹا کر نیا کوچ لایا جانا چاہیے۔‘

سرفراز نواز نے کہا کہ مائیکل وان کے الزامات کے تناظر میں کپتان اظہر علی سے بھی تفتیش کی جانی چاہیے اور اس معاملے کی ترجیحی بنیادوں پر تفتیش ہونی چاہیے۔

خیال رہے کہ وان نے تیسرے ون ڈے کے دوران پاکستان کے بارے میں ٹوئٹر پر کہا تھا: ’تین رن آؤٹ اور کچھ مشکوک شاٹ۔ میں نے پہلے ایسا کبھی نہیں دیکھا۔‘

اس کے بعد ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سب شاید سمجھتے ہیں کہ ہم بے وقوف ہیں۔‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ایک اور سابق کپتان وسیم باری کے خیال میں غیر ضروری تجربات اور کھیل کے بنیادی اصولوں سے روگردانی شکست کی وجہ بنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک معمہ ہے کہ نئے اوپنروں کی غیرمعیاری کارکردگی کے باوجود ٹیم کے باقاعدہ اوپنر احمد شہزاد کو باہر بٹھایا جا رہا ہے۔

سابق اوپنر عامر سہیل کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے کوچنگ سٹاف نے اس سیریز میں مسلسل تکنیکی غلطیاں کیں اور بیٹنگ آرڈر میں بار بار تبدیلی مسائل پیدا کر رہی ہے۔

ان کے مطابق: ’پاکستان ٹیلنٹ اور تجربے دونوں کے لحاظ سے انگلینڈ سے بہتر ٹیم ہے لیکن ہم نے میدان میں حکمتِ عملی کی غلطیوں کی قیمت ادا کی ہے۔‘