کک نصف سنچری بنا کر آؤٹ، یاسر شاہ کی پہلی وکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی
دبئی میں دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز کھیل کے اختتام پر انگلینڈ نے تین وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز بنائے ہیں۔
کھیل کے اختتام پر کریز پر روٹ اور بیئر سٹو موجود تھے جس میں روٹ 76 اور بیئر سٹو 27 پر کھیل رہے ہیں۔
انگلینڈ کو اننگز کے آغاز پر پہلا نقصان معین علی کی صورت میں ہوا جنھیں پانچ کے مجموعی سکور پر وہاب ریاض نے آؤٹ کیا۔
<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/ECKP90169" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> پاکستان بمقابلہ انگلینڈ 2015: خصوصی ضمیمہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/indepth/pak_england_cricket_series_ak" platform="highweb"/></link>

،تصویر کا ذریعہGetty
ابھی انگلینڈ کی ٹیم ابھی ابتدائی نقصان سے سنبھل نہیں پائی تھی کہ بیل چار رنز بنا کر عمران خان کے گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
تاہم اس کے بعد کپتان کک اور روٹ کے درمیان عمدہ شراکت داری سے ٹیم کا مجموعی سکور 127 رنز تک پہنچ گیا۔ اس موقعے پر یاسر شاہ نے کک کی 65 رنز کی اننگز ختم کر کے میچ میں اپنی پہلی وکٹ حاصل کی۔
اس سے پہلے میچ کے دوسرے روز پاکستان کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگ میں 387 رن بنا کر آؤٹ ہوگئی ہے۔
پہلے روز کے اختتام پر پاکستان کی ٹیم نے چار وکٹوں کے نقصان پر 282 رن بنائے تھے لیکن دوسرے روز بلے باز کچھ خاص نہ کر سکے اور محض 105 رن کے اضافے کے ساتھ ہی ان کی چھ وکٹیں گر گئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
کپتان مصباح الحق جنھوں نے پہلے دن شاندار سنچری بنائی تھی، دوسرے روز بغیر کسی رن کے اضافے کے کرس براڈ کا شکار ہو گئے۔ انھوں نے 102 رن بنائے تھے۔
دوسرے روز آخری وکٹ شفیق کی گری جنھوں نے 83 رن بنائے، ان کا کیچ مارک وڈ کی گیند پر جو روٹ نے پکڑا۔
پہلےروز مصباح کی شاندار سنچری کی بدولت ہی پاکستانی ٹیم 178 رنز چار کھلاڑی آؤٹ کے جھٹکے سے سنبھلتے ہوئے 282 رنز تک پہنچ گئی تھی۔
مصباح کے بعد سرفراز احمد 32 رن بنا کر اور وہاب ریاض چھ رن بنا کر معین علی کا شکار ہوئے اور دونوں کا کیچ اینڈرسن نے پکڑا۔ یاسر شاہ نے 16 رن بنائے جنھیں راشد نے آؤٹ کیا اور بابر کو تین رن پر وڈ نے آؤٹ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
پہلے رز مصباح الحق نے اپنی نویں ٹیسٹ سنچری پانچ چھکوں اور آٹھ چوکوں کی مدد سے مکمل کی تھی۔ انھوں نے کسی پاکستانی کپتان کی سب سے زیادہ سات سنچریوں کا انضمام الحق کا ریکارڈ بھی برابر کر دیا۔
اس کے علاوہ اسی اننگز کے دوران وہ پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں مدثر نذر کو پیچھے چھوڑ کر ساتویں نمبر پر آ گئے ہیں۔



