سرفراز ان فٹ ہوگئے تو کیا ہوگا؟

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کی منیجمنٹ اس بارے میں سخت پریشان ہے کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران اگر وکٹ کیپر سرفراز احمد اچانک ان فٹ ہوگئے تو ان کی جگہ وکٹ کیپنگ کون کرے گا؟
پاکستانی ٹیم منیجمنٹ نے سلیکشن کمیٹی کو اپنی اس تشویش سے مطلع کرتے ہوئے بیک اپ میں کسی وکٹ کیپر کو متحدہ عرب امارات بھیجنے کی بات بھی کی ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین ہارون رشید ابھی تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکے ہیں۔
<link type="page"><caption> پہلے ٹیسٹ سے قبل سپنر یاسر شاہ زخمی ہو گئے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/10/151012_yasir_shah_hurt_as.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’یاسر شاہ کی کمی شدت سے محسوس ہوئی ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/10/151015_mushtaq_yasir_shah_injury_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
پاکستانی ٹیم منیجمنٹ کی یہ پریشانی اس لیے بھی قابل فہم ہے کیونکہ پاکستانی ٹیم میں کوئی دوسرا وکٹ کیپر موجود نہیں ہے اور اس کے سامنے یاسر شاہ کی مثال موجود ہے جو انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے قبل کمر کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے تھے اور ان کی جگہ لینے کے لیے کوئی دوسرا سپنر موجود نہ تھا۔
پاکستانی ٹیم منیجمنٹ کی درخواست پر لیفٹ آرم سپنر ظفرگوہر کو ابوظہبی بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن وہ وقت پر نہ پہنچ سکے اور مجبوراً تیز بولر عمران خان کو ٹیم میں شامل کرنا پڑا تھا جس پر کپتان مصباح الحق نے سخت تنقید کرتے ہوئے اس معاملے کو بورڈ کی بدانتظامی قرار دیا تھا۔
ٹیم منیجمنٹ نہیں چاہتی کہ وکٹ کیپر کے معاملے میں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات کی سخت گرمی میں کھیلی جانے والی اس سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں وکٹ کیپر سرفرازاحمد نے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں 206 اوورز وکٹ کیپنگ کی تھی جبکہ دوسری اننگز میں بھی وہ 11 اوورز تک وکٹ کے پیچھے رہے تھے۔
پاکستانی ٹیم منیجمنٹ ٹیم سلیکشن سے بھی خوش دکھائی نہیں دیتی اس کا خیال ہے کہ ٹیم میں بڑی تعداد میں بیٹسمین اور فاسٹ بولرز شامل ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات میں سیریز ہونے کی صورت میں ٹیم میں یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر کے علاوہ کسی تیسرے سپنر کو ضرور شامل کرنا چاہیے تھا۔
کپتان مصباح الحق یہ کہہ چکے ہیں کہ 15 یا 16 رکنی ٹیم کے انتخاب میں ان سے رائے ضرور لی جاتی ہے لیکن حتمی فیصلہ سلیکشن کمیٹی کا ہوتا ہے۔



