مصباح الحق کی شاندار سنچری، پاکستان کے 282 رن

مصباح الحق نے ایک بار پھر ذمہ دارانہ انداز میں بلے بازی کی ہے
،تصویر کا کیپشنمصباح الحق نے ایک بار پھر ذمہ دارانہ انداز میں بلے بازی کی ہے

متحدہ عرب امارات میں انگلینڈ کے خلاف دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے پہلے دن پاکستانی بلے بازوں نے سست روی سے مگر پراعتماد انداز میں بلے بازی کی ہے۔

جمعرات کو کھیل کے اختتام پر پاکستان نے چار وکٹوں کے نقصان پر 282 رن بنا لیے تھے۔

<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/ECKP90169" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پاکستان بمقابلہ انگلینڈ 2015: خصوصی ضمیمہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/indepth/pak_england_cricket_series_ak" platform="highweb"/></link>

دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں جب کھیل ختم ہوا تو کریز پر کپتان مصباح الحق ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی نویں سنچری مکمل کرنے کے بعد موجود تھے۔

آخری سیشن میں سست روی سے بلے بازی کے بعد مصباح نے دن کے آخری اوور میں دو چھکے لگا کر سنچری بنائی۔

کریز پر ان کا ساتھ اسد شفیق دے رہے ہیں جنھیں جمعے کو ون ڈے کریئر کی دسویں نصف سنچری بنانے کے لیے مزید چار رن درکار ہوں گے۔

یونس خان نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچری تو بنائی لیکن ایک غیر ضروری شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنیونس خان نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچری تو بنائی لیکن ایک غیر ضروری شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے

ان دونوں بلے بازوں کے درمیان پانچویں وکٹ کے لیے 104 رن کی شراکت ہو چکی ہے۔

اس میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

پاکستان کے آؤٹ ہونے والے آخری بلے باز یونس خان تھے جنھوں نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچری تو بنائی لیکن ایک غیر ضروری شاٹ کھیل کر وڈ کو وکٹ دے بیٹھے۔

یونس کے علاوہ پہلے ٹیسٹ میں ناکام رہنے والے اوپنر شان مسعود بھی نصف سنچری بنانے میں کامیاب رہے اور 54 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔

ابوظہبی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ڈبل سنچری بنانے والے شعیب ملک پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز کے بعد اس میچ میں بھی ناکام رہے اور صرف دو رن بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے۔ ان کی وکٹ سٹوکس نے حاصل کی۔

پہلے ٹیسٹ میں ناکام رہنے والے شان مسعود 54 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپہلے ٹیسٹ میں ناکام رہنے والے شان مسعود 54 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے

ان کے علاوہ محمد حفیظ کی وکٹ معین علی نے لی جنھوں نے 19 رنز بنائے۔

پاکستان کے نقطۂ نظر سے اہم بات یہ ہے کہ لیگ سپنر یاسر شاہ فٹ ہونے کے بعد یہ ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں۔ ان کی ٹیم میں واپسی راحت علی کی جگہ ہوئی ہے۔

پاکستانی ٹیم کو ایک بار پھر قابل اعتماد بیٹسمین اظہرعلی کی خدمات حاصل نہیں جو اپنی ساس کے انتقال کی وجہ سے وطن واپس چلے گئے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ ابوظہبی میں ڈرا ہوگیا تھا۔

پاکستان نے دبئی میں کھیلے گئے آٹھ ٹیسٹ میچوں میں چار جیتے ہیں اور ان چار فتوحات میں دو انگلینڈ کے خلاف ہیں۔

بقیہ چار میچوں میں سے دو میں اسے شکست ہوئی ہے اور دو بے نتیجہ رہے تھے۔