مصباح کی قائدانہ اننگز، پاکستان بڑے سکور کی راہ پر

مصباح نے اعتماد سے انگلش بولروں کو کھیلا اور دن کے آخری اوور میں معین علی کو دو چھکے لگاتے ہوئے سنچری مکمل کی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمصباح نے اعتماد سے انگلش بولروں کو کھیلا اور دن کے آخری اوور میں معین علی کو دو چھکے لگاتے ہوئے سنچری مکمل کی
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی

کپتان مصباح الحق کی شاندار سنچری نے دبئی کرکٹ ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کو بڑے سکور تک پہنچانے کا راستہ دکھا دیا۔

پہلے دن کا کھیل ختم ہوا تو پاکستانی ٹیم 178 رنز چار کھلاڑی آؤٹ کے جھٹکے سے سنبھلتے ہوئے 282 رنز تک پہنچ چکی تھی۔

<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/ECKP90169" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پاکستان بمقابلہ انگلینڈ 2015: خصوصی ضمیمہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/indepth/pak_england_cricket_series_ak" platform="highweb"/></link>

مصباح الحق اپنی نویں ٹیسٹ سنچری پانچ چھکوں اور آٹھ چوکوں کی مدد سے مکمل کرتے ہوئے 102 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

انھوں نے کسی پاکستانی کپتان کی سب سے زیادہ سات سنچریوں کا انضمام الحق کا ریکارڈ بھی برابر کر دیا۔

ان کے ساتھی اسد شفیق 46 رنز پر کریز پر موجود ہیں اور دونوں پانچویں وکٹ کی شراکت میں 104 رنز کا اضافہ کر چکے ہیں۔

اس سے پہلے کپتان الیسٹر کک ٹاس ہارگئے لیکن ان کے بولرز نے حوصلہ نہیں ہارا۔

چار وکٹیں حاصل کرنا اسی حوصلے کا نتیجہ تھا لیکن اس کے بعد مصباح الحق ان کی آڑے آگئے۔

پاکستانی ٹیم نے 50 رن سے زیادہ کے آغاز کے بعد مزید 34 رنز پر تین وکٹیں گنوائیں۔

الیسٹر کک کھانے کے وقفے سے پہلے ہی چھ بولرز کو آزما چکے تھے جن میں سے معین علی اور بین سٹوکس محمد حفیظ اور شعیب ملک کی وکٹیں لے اڑے۔

دونوں بولرز ان کامیابیوں کے لیے شارٹ لیگ کے فیلڈر جانی بیرسٹو کے شکرگزار تھے۔

یونس خان اور مصباح الحق آخری 11 ٹیسٹ میچوں میں پچاس سے زائد رن کی نو شراکتیں قائم کر چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنیونس خان اور مصباح الحق آخری 11 ٹیسٹ میچوں میں پچاس سے زائد رن کی نو شراکتیں قائم کر چکے ہیں

شان مسعود نے پہلے ٹیسٹ کی ناکامی کو ذہن سے نکال کر عمدہ بیٹنگ کی اور سات چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے اپنی دوسری ٹیسٹ نصف سنچری سکور کی لیکن کھانے کے وقفے کے بعد پہلی ہی گیند پر ان کا اینڈرسن کی گیند پر وکٹ کیپر بٹلر کے ہاتھوں کیچ ہونا پاکستانی ٹیم کے لیے مایوس کن بات تھی۔

شان مسعود مسلسل تیسری اننگز میں اینڈرسن کی وکٹ بنے ہیں۔

یونس خان اور مصباح الحق کی پراعتماد بیٹنگ پاکستانی ٹیم کو اچھی پوزیشن میں لے جا رہی تھی لیکن چائے کے وقفے کے بعد یونس خان کی 56 رنز پر اہم وکٹ مارک ووڈ نے وکٹ کیپر بٹلر کے عمدہ کیچ کے ذریعے حاصل کی تو انگلینڈ کی ٹیم کے حوصلے پھر بلند ہوگئے۔

اس وقت پاکستان کا اسکور چار وکٹوں پر 178 رنز تھا۔

یونس خان اور مصباح الحق کی شراکت میں 93 رنز بنے۔ یہ دونوں آخری 11 ٹیسٹ میچوں میں پچاس سے زائد رنز کی نو شراکتیں قائم کر چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر ان کے درمیان 13 سنچری شراکتیں قائم ہوچکی ہیں۔

شان مسعود مسلسل تیسری اننگز میں جیمز اینڈرسن کی وکٹ بنے
،تصویر کا کیپشنشان مسعود مسلسل تیسری اننگز میں جیمز اینڈرسن کی وکٹ بنے

یونس خان کے آؤٹ ہونے کے بعد کپتان مصباح الحق کو صورتحال کا اندازہ تھا ۔

انھوں نے پراعتماد سے انگلش بولروں کو کھیلا اور دن کے آخری اوور میں معین علی کو دو چھکے لگاتے ہوئے سنچری مکمل کر لی۔

اسد شفیق 12 کے سکور پر رن آؤٹ ہونے سے بچے اور پھر 31 کے سکور پر ان کے خلاف ایل بی ڈبلیو ریویو بھی انگلینڈ نے ضائع کیا لیکن وہ آخر تک اپنے کپتان کا ساتھ دینے میں کامیاب رہے۔