بلے بازوں نے ڈبویا، خراب روشنی نے بچا لیا

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ابوظہبی
پاکستانی بیٹسمینوں کی غیرذمہ دارانہ بیٹنگ نے ابوظہبی ٹیسٹ اپنے ہاتھ سے گنوانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔
انگلینڈ کو میچ جیتنے کے لیے 19 اوورز میں99 رن کا ہدف ملا تھا۔ جب کھیل مقامی وقت کے مطابق پانچ بجکر 46 منٹ پر ختم ہوا تو لائٹس ٹاور روشن ہوچکے تھے اور انگلینڈ کا سکور 4 وکٹوں کے نقصان پر 74 رن تھا اور اسے جیت کے لیے اب بھی 25 رن درکار تھے۔
پاکستانی سپنرز ذوالفقار بابر اور شعیب ملک کی دو، دو وکٹوں کے علاوہ وقت کی کمی نے انگلینڈ کو ہدف تک پہنچنے نہیں دیا۔
میچ کے آخری دن عادل رشید پاکستانی بیٹنگ لائن پر بجلی بن کر گرے اور64 رن کے عوض پانچ وکٹوں کی شاندار کارکردگی سے پاکستان کی دوسری اننگز صرف 173 رن پر تمام کر دی۔
یہ وہی عادل رشید ہیں جو پہلی اننگز میں 163 رن دے کر ایک بھی وکٹ حاصل نہ لے سکے تھے جو کسی بھی بولر کی اپنے اولین ٹیسٹ میں سب سے خراب ترین کارکردگی ہے۔
معین علی اور جیمز اینڈرسن میں بھی دو، دو وکٹوں کے بٹوارے میں پاکستانی ٹیم کم نقصان نہیں پہنچایا۔
پاکستان کی دوسری اننگز حواس باختگی کی تصویر بنی رہی۔
شان مسعود دوسری اننگز میں بھی جیمز اینڈرسن کے ہاتھوں بولڈ ہوئے۔
دونوں اننگز میں ناکامی کے بعد اب ٹورنگ سلیکشن کمیٹی کے لیے یہ آسان ہوگیا ہے کہ اظہر علی کی دوسرے ٹیسٹ میں واپسی شان مسعود کی جگہ ہوگی تاہم ابھی یہ طے ہونا ہے کہ شعیب ملک اور اظہرعلی میں سے نمبر تین پر کون بیٹنگ کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
جیمز اینڈرسن نے اپنے ایک ہی اوور میں شان مسعود کے بعد پہلی اننگز کے ڈبل سنچری میکر شعیب ملک کو بھی اٹھتی ہوئی گیند پر بیرسٹو کے ہاتھ کیچ کرایا۔
جب محمد حفیظ 34 رن بنا کر غیرضروری طور پر رن لینے کی کوشش میں بین سٹوکس کی تھرو پر آؤٹ ہوئے تو پاکستانی ٹیم کا سکور 47 تھا اور اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے اسے 38 رن درکار تھے۔
کپتان مصباح الحق کو کٹھن صورتحال سے گزرنا پڑا۔ سٹوئرٹ براڈ اور معین علی کی گیندوں پر ایل بی ڈبلیو کی دو زوردار اپیلوں پر بچ نکلنے کے بعد امپائر بروس آکسنفرڈ نے انھیں اینڈرسن کی گیند پر گلی پوزیشن میں کیچ آؤٹ دے دیا۔
مصباح الحق نے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور ٹی وی امپائر کا فیصلہ ان کے حق میں گیا۔ یہ سب انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے لیے حیران کن تھا جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ مصباح الحق کی وکٹ انھیں مل گئی ہے ۔
میچ کو محفوظ مقام پر لے جانے کے لیے پاکستانی ٹیم کپتان مصباح الحق اور یونس خان کے وسیع تجربے پر انحصار کر رہی تھی لیکن 66 رن کی شراکت یونس خان کے آؤٹ ہونے سے ٹوٹی تو انگلینڈ کی ٹیم کے حوصلے پھر سے بلند ہوگئے۔
یونس خان 45 کے انفرادی سکور پر عادل رشید کو پہلی ٹیسٹ وکٹ کا نہ بھولنے والا تحفہ دے گئے جنھوں نے یہ وکٹ 265 گیندیں کرانے کے بعد حاصل کی۔
عادل رشید نے اسد شفیق کو بھی پویلین کا راستہ دکھایا تو پاکستان کی برتری صرف 64 رن کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
کپتان مصباح الحق نصف سنچری بنا کر معین علی کی گیند پر غیرذمہ دارانہ شاٹ پر بولڈ ہوئے تو مایوسی نے پاکستانی ٹیم کو بری طرح جکڑ لیا تھا۔
سرفراز احمد جو عام طور پر مشکل حالات میں دلیرانہ بیٹنگ کے لیے شہرت رکھتے ہیں نہ خود بڑی اننگز کھیلے نہ ٹیل اینڈرز کو بچاسکے اور پاکستان کی آخری سات وکٹیں صرف 60 رن کا اضافہ کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔
اس سے قبل الیسٹر کک نےانگلینڈ کی پہلی اننگز 598 رن نو کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کی۔
یہ اننگز 206 اوورز تک محیط رہی اور یہ 1236 گیندیں سنہ 80-1979 میں آسٹریلیا کےخلاف فیصل آْباد ٹیسٹ میں پاکستانی بولرز کی جانب سے کرائی گئی 1266گیندوں کے بعد کسی بھی ٹیسٹ میں پاکستانی بولرز کی کرائی گئی سب سے زیادہ گیندیں ہیں۔
پاکستانی بولرز میں سب سے زیادہ لمبی بولنگ ذوالفقار بابر نے کی جنہوں نے 72 اوورز (432 گیندیں) میں 183 رن دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔
ذوالفقار بابر سے زیادہ گیندیں کسی ایک ٹیسٹ اننگز میں صرف تین پاکستانی بولرز فضل محمود (512 گیندیں)، حسیب احسن (504 گیندیں) اور ثقلین مشتاق (444 گیندیں) کرا چکے ہیں۔



