کک کی ڈبل سنچری سے انگلینڈ کی پوزیشن مضبوط

انگلینڈ کی اننگز میں بھی تین کیچ پاکستانی فیلڈرز سےگرے جن میں سے دو کپتان الیسٹرکک کے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنانگلینڈ کی اننگز میں بھی تین کیچ پاکستانی فیلڈرز سےگرے جن میں سے دو کپتان الیسٹرکک کے تھے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ابوظہبی

ابوظہبی ٹیسٹ میں کپتان الیسٹر کک کی شاندار بیٹنگ نے انگلینڈ کی پہلی اننگز کو مضبوط سہارا فراہم کر دیا۔

ان کے شاندار 263 رنز کی بدولت انگلینڈ کی ٹیم آٹھ وکٹوں پر 569 رنز بنا کر پاکستان پر 46 رنز کی برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

گرم موسم اور سپاٹ وکٹ پر پاکستانی بولرز چوتھے دن بھی پسینہ بہا کر پانچ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے جس میں الیسٹر کک کی قیمتی وکٹ بھی شامل تھی۔

کک نے دوسرے دن آخری سیشن میں اننگز کا آغاز کیا تھا اور مجموعی طور پر 836 منٹ بیٹنگ کی جو وقت کے اعتبار سے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی تیسری طویل ترین اننگز ہے۔

ان سے زیادہ وقت کریز پر گزارنے والے بیٹسمین پاکستان کے حنیف محمد (970 منٹ) اور جنوبی افریقہ کے گیری کرسٹن (878 منٹ) ہیں۔

جس طرح پاکستان کی اننگز میں انگلینڈ نے محمد حفیظ اور اسد شفیق کے کیچ گرائے تھے اسی طرح انگلینڈ کی اننگز میں بھی تین کیچ پاکستانی فیلڈرز سےگرے جن میں سے دو کپتان الیسٹرکک کے تھے۔

گرم موسم اور سپاٹ وکٹ پر پاکستانی بولرز چوتھے دن بھی پسینہ بہا کر چار وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنگرم موسم اور سپاٹ وکٹ پر پاکستانی بولرز چوتھے دن بھی پسینہ بہا کر چار وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے

چوتھے دن 173 کے انفرادی سکور پر وہاب ریاض کی گیند پر وکٹ کیپر سرفراز احمد نے کیچ نہ لے کر انگلش کپتان کو اپنی تیسری ڈبل سنچری کی طرف جانے کا راستہ دکھایا۔

وہاب ریاض نے وکٹ میں کچھ بھی نہ ہونے کے باوجود دل سے بولنگ کی اور اپنی تیزگیندوں سے انگلش بیٹسمینوں کو غلطی پر مجبور کرنے کی کوشش کرتے رہے جس میں انہیں جونی بیرسٹو کی وکٹ بھی مل گئی ۔

روٹ نویں ٹیسٹ سنچری سے پندرہ رنز کی دوری پر راحت علی کی گیند پر سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

جو روٹ نے اپنے کپتان کے ساتھ چوتھی وکٹ کی شراکت میں 141 رنز کا اضافہ کیا جو انگلینڈ کی اس اننگز میں بننے والی تیسری سنچری پارٹنرشپ تھی۔

کک کو بین سٹوکس کی شکل میں ایک اور قابل بھروسہ ساتھی میسر آیا جنہوں نے نہ صرف نصف سنچری بنائی بلکہ اس اننگز میں اپنے کپتان کے ساتھ 91 رنز کا اضافہ بھی کیا۔

وہ شعیب ملک کے ہاتھوں بولڈ ہوکر اس میچ میں کسی سپنر کے ہاتھوں آؤٹ ہونے والے پہلے بیٹسمین بھی بنے۔

کک کو بین سٹوکس کی شکل میں ایک اور قابل بھروسہ ساتھی میسر آیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکک کو بین سٹوکس کی شکل میں ایک اور قابل بھروسہ ساتھی میسر آیا

سپنر کو اس پہلی کامیابی کے لیے 170 اوورز کا طویل اور صبر آزما انتظار کرنا پڑا ۔

شعیب ملک ہی نے چوتھے دن کی سب سے اہم وکٹ الیسٹر کک کی حاصل کی جو سوئیپ کرنے کی کوشش میں شان مسعود کو کیچ دے بیٹھے۔

ذوالفقار بابر کو پہلی وکٹ اپنے 69 ویں اوور میں ملی جب انہوں نے بٹلر کو اسد شفیق کے ہاتھوں کیچ کرایا۔

ذوالفقار بابر اس لحاظ سے بدقسمت رہے کہ ان کی گیندوں پر کک اور بیل کے کیچز بھی ڈراپ ہوئے۔

اس اننگز میں چاروں ریویوز بھی پاکستانی ٹیم کے کام نہ آ سکے ہیں۔