روس اور قطر کی ورلڈ کپ کی میزبانی کو خطرہ

قطر فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ میزبانی کا حق حاصل کرنے کےطریقہ کار کے حوالے سے ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنقطر فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ میزبانی کا حق حاصل کرنے کےطریقہ کار کے حوالے سے ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے

فیفا کے اعلیٰ اہلکار ڈومينيكو سكالا نے کہا ہے کہ اگر 2018 اور 2022 میں فٹبال کے عالمی ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے رشوت دیے جانے کے شواہد سامنے آ گئے تو روس اور قطر کی ورلڈ کپ کی میزبانی سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔

دونوں ملک ورلڈ کپ کی میزبانی حاصل کرنے کے لیے ووٹوں کی خریداری سے انکار کرتے ہیں۔ فیفا اہلکار نے تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے ابھی تک روس اور قطر کی جانب سے رشوت دیے جانے کے شواہد نہیں دیکھے ہیں۔

<link type="page"><caption> بلیٹر کے استعفے کے بعد فیفا کا مستقبل کیا؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/06/150603_blatter_resignation_questions_rwa" platform="highweb"/></link>

فیفا کی آڈیٹ اور کمپلائنس کمیٹی کے سربراہ ڈومينيكو سكالا نے کہا کہ اگر ایسے شواہد سامنے آتے ہیں کہ قطر اور روس کو ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق خریدے گئے ووٹوں کے ذریعے ملے تو دونوں ملک میزبانی کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے اخبار سونتاگزیٹنگ سے بات کرتے ہوئے ڈومینیکو سکالا نے کہا :’ آج تک ایسی کوئی شہادت پیش نہیں کئی گئی ہے۔‘

ڈومینیکو سکالا نے 2013 میں بھی ایسا ہی بیان تھا لیکن حالیہ ایام میں فیفا اہلکاروں کی گرفتاری کے بعد ان کے اس بیان کو زیادہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

پچھلے ماہ فیفا کے صدر کے انتخابات سے دو روز پہلے فیفا کے سات اہلکاروں کو زیورخ میں گرفتار کیا تھا۔ فیفا کے صدر سیپ بلاٹر انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

فیفا کے گرفتار ہونے والے سات اہلکار ان چودہ افراد میں شامل ہیں جنہیں امریکہ میں مقدمات کا سامنا ہے۔ ان افراد پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے چوبیس برسوں میں 150 ملین ڈالر سے زیادہ فنڈز بطور رشوت لیے۔

سوئٹزرلینڈ نے بھی 2018 اور 2022 کے عالمی فٹبال کی میزبانی کے حقوق کے حوالے سے ایک علیحدہ تحقیق شروع کر رکھی.