چیمپیئنز ٹرافی:پاکستان کو لگاتار تیسرے میچ میں بھی شکست

اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے

بھارت میں جاری چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ میں فتح کی دیوی پاکستان سے بدستور روٹھی ہوئی ہے۔

منگل کو پول اے میں اپنے تیسرے میچ میں بھی پاکستانی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا نے یہ میچ صفر کے مقابلے میں تین گول سے جیت لیا ہے۔

کالنگا سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے پہلے کوارٹر میں کوئی بھی ٹیم گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی لیکن دوسرے کوارٹر میں میچ کے 23ویں منٹ میں آسٹریلوی ٹیم کو برتری ملی۔

یہ گول جیمی ہیورڈ نے پنلٹی کارنر پر کیا۔

تیسرے کوارٹر میں آسٹریلیا نے مزید برتری حاصل کرنے اور پاکستان نے برتری ختم کرنے کی کئی کوششیں کیں لیکن سکور کارڈ میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔

چوتھے اور آخری کوارٹر میں میچ ختم ہونے سے چھ منٹ قبل آسٹریلیا کو ایک اور پنلٹی کارنر ملا جس پر جیمی ہیورڈ نےدوبارہ گیند کو گول میں پہنچا کر اپنی ٹیم کی برتری دوگنی کر دی۔

آسٹریلیا کی جانب سے تیسرا اور میچ کا آخری گول میچ کے 59ویں منٹ میں جیکب ویٹن نے کیا۔

اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے اور اب تک وہ تین میچوں میں ایک بھی پوائنٹ حاصل نہیں کر سکی ہے۔

پاکستان اپنے ابتدائی میچ میں بیلجیئم سے ہار گیا تھا جبکہ دوسرے میچ میں انگلینڈ نے یکطرفہ مقابلے کے بعد اسے دو کے مقابلے میں آٹھ گول سے شکست دی تھی۔

دوسرے میچ میں انگلینڈ نے یکطرفہ مقابلے کے بعد پاکستان کو دو کے مقابلے میں آٹھ گول سے شکست دی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندوسرے میچ میں انگلینڈ نے یکطرفہ مقابلے کے بعد پاکستان کو دو کے مقابلے میں آٹھ گول سے شکست دی تھی

منگل کو کھیلے گئے بقیہ میچوں میں پول اے میں بیلجیئم اور انگلینڈ کا مقابلہ ایک ایک گول سے برابر رہا جبکہ پول بی میں ارجنٹائن نے جرمنی کو تین گول سے شکست دی۔

اس وقت پول اے میں انگلینڈ کی ٹیم سات پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ بیلجیئم دوسرے، آسٹریلیا تیسرے اور پاکستان چوتھے اور آخری نمبر پر ہے۔

ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کی وجہ سے پاکستان بغیر کوئی پوائنٹ حاصل کیے بھی اگلے راؤنڈ میں پہنچ سکتا ہے۔

چھ سے 14 دسمبر تک کھیلے جانے والے اس ٹورنامنٹ میں کل آٹھ ٹیمیں شریک ہیں۔

گذشتہ برس سے یہ ٹورنامنٹ راؤنڈ رابن لیگ کی بجائے پول سسٹم کے تحت کھیلا جا رہا ہے جس کی وجہ سے دونوں گروپوں کی تمام ٹیمیں ہر حال میں کوارٹر فائنل مرحلے تک پہنچ ہی جاتی ہیں۔