اب مقابلہ ہو گا ایک روزہ میچوں میں

ڈیل اسٹین کو پہلے دو ون ڈے میچز میں آرام دیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنڈیل اسٹین کو پہلے دو ون ڈے میچز میں آرام دیا گیا ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ٹیسٹ سیریز برابر ہونے کے بعد جنوبی افریقہ اور پاکستان بدھ سے محدود اوورز کی کرکٹ میں مدِمقابل ہیں۔

پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز کا پہلا پڑاؤ شارجہ میں ہے جو کسی زمانے میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا تھا۔

دبئی ٹیسٹ کی شکست کے بعد مصباح الحق کو حریف کے تیور معلوم ہوچکے ہیں اور انھوں نے اپنے کھلاڑیوں کو متنبہ کردیا ہے کہ ڈیل اسٹین اور ہاشم آملا کی غیرموجودگی میں سہل پسندی میں مبتلا ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔

ڈیل اسٹین کو پہلے دو ون ڈے میچز میں آرام دیا گیا ہے جبکہ ہاشم آملا بچے کی ولادت کے بعد ابھی تک جنوبی افریقہ میں ہیں۔

ون ڈے سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم مختلف شکل میں سامنا آئی ہے۔ ناصر جمشید۔ شاہد آفریدی۔ محمد حفیظ اور عمراکمل کے آنے سے بیٹنگ کو تقویت ملی ہے ۔

دونوں ٹیمیں اس سال ون ڈے کرکٹ میں کافی اتارچڑھاؤ دیکھ چکی ہیں۔

جنوبی افریقہ کے لیے یہ صورتِ حال اس لیے بھی حیران کن ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی نمبر ایک ٹیم ہے لیکن ون ڈے میں نتائج اسے پانچویں درجے پر رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان کے خلاف سیریز کی شکست اسے ایک درجہ نیچے کرکے پاکستان کو اس کی جگہ پانچویں نمبر پر لا کھڑا کردے گی۔

اس سال جنوبی افریقہ نے چیمپئنز ٹرافی کا سیمی فائنل کھیلا لیکن دو طرفہ سیریز میں اسے اپنے ہی ملک میں نیوزی لینڈ نے دو ایک سے ہرادیا۔پاکستان سے ہوم سیریز اس نے تین دو سے جیتی اور پھر سری لنکا کے میدانوں پر اسے چار ایک کی بھاری ناکامی برداشت کرنی پڑی۔

ون ڈے کے ان مایوس کن نتائج اور خاص کر بیٹنگ کی ناکامی پر قابو پانے کے لیے جنوبی افریقہ کو اپنے سابق کوچ گیری کرسٹن سے رجوع کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے جو بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے بیٹسمینوں کو دوبارہ اعتماد دینے کی کوشش کریں گے۔

پاکستانی ٹیم نے اس سال جنوبی افریقہ کے دورے میں سیریز ہارنے کے بعد چیمپئنز ٹرافی کے تمام میچز میں شکست کھائی جبکہ زمبابوے نے بھی ایک ون ڈے میں اسے حیران کن شکست سے دوچار کیا البتہ ہرارے میں سیریز دو ایک سے جیتنے کے علاوہ مصباح الحق ویسٹ انڈیز سے بھی سیریز جیت چکے ہیں۔

مصباح الحق انفرادی کارکردگی میں سب سے نمایاں ہیں۔ انھوں نے اکیس ون ڈے انٹرنیشنل میں گیارہ نصف سنچریوں کی مدد سے نوسو اکسٹھ رنز بنائے ہیں جو اس سال کسی بھی بیٹسمین کے سب سے زیادہ رنز ہیں۔