لاہوری ُمنڈا آیا اور چھا گیا

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
جنوبی افریقی ٹیم دوسرے ٹیسٹ میں پلٹ کر جوابی وار کرے گی اس کا اندازہ سب کو تھا لیکن وہ پاکستانی ٹیم کا اتنا برا حشر کرے گی اس بارے میں کم ہی سوچا گیا ہوگا۔
مصباح الحق کو اس بار سّکے نے خوش کردیا کہ وہ دسویں ٹیسٹ میں پہلا ٹاس جیتے لیکن جنہیں اصل خوشی دینی تھی وہ پھر مایوس کرگئے۔ پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں بیٹسمینوں نے جو حواس باختگی دکھائی تھی اس سے کہیں زیادہ خوفناک منظر اس بار دیکھنے میں آیا۔
ڈیل اسٹین نے فٹنس کا امتحان پاس کرنے کے بعد پاکستانی بیٹسمینوں کو سخت امتحان میں ڈال دیا۔
پہلے ٹیسٹ کے سنچری میکر خرم منظور اور یونس خان کی وکٹیں ان کی جھولی میں گریں تو اظہرعلی کی وکٹ پر مورکل نے ہاتھ صاف کیا لیکن لکھنے اور بیان کرنے کے لیے بہت سارا مواد لیگ اسپنر عمران طاہر نے فراہم کردیا۔
شان مسعود کور ڈرائیو کھیلنے گئے لیکن گیند بلے کا کنارہ لیتی ہوئی بیلز گرا گئی۔
مصباح الحق گگلی پر دھوکہ کھا گئے جبکہ عدنان اکمل نے بے بسی سے بیلز اڑتے دیکھیں۔
اسد شفیق کو لائن سے ہٹ کر کھیلنے کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور پھر محمد عرفان کا شکار عمران طاہر کے لئے سب سے آسان رہا۔
عمران طاہر کو رابن پیٹرسن کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ وہ آخری ٹیسٹ گزشتہ سال آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ میں کھیلے تھے جسے وہ یقیناً کبھی بھی یاد نہ رکھنا چاہیں کیونکہ پہلی اننگز میں 180 اور دوسری اننگز میں 80 رنز کی بھاری قیمت چکا کر بھی انہیں کوئی وکٹ نہ مل سکی تھی لیکن پہلی مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹوں کی زبردست کارکردگی کے سبب وہ دبئی ٹیسٹ ضرور یاد رکھیں گے۔
چونتیس سالہ عمران طاہر لاہور میں پیدا ہوئے ۔ یہاں کئی ٹیموں کی طرف سے قسمت آزمائی کی۔ وہ پاکستان کی انڈر19 ٹیم اور پاکستان اے کی طرف سے بھی کھیلے لیکن پھر روشن مستقبل کی تلاش میں وہ انگلینڈ پہنچے جہاں انہوں نے پانچ کاؤنٹی ٹیموں کی نمائندگی بھی کی لیکن یہ سفر جنوبی افریقہ جاکر ختم ہوا۔
جنوبی افریقی سابق کپتان کیپلر ویسلز کو پہلے دن کی وکٹ دوسرے دن کی طرح کی دکھائی دی ہے جبکہ وقاریونس کا خیال ہے کہ پاکستانی ٹیم کو اضافی اسپنر کے ساتھ میدان میں اترنا چاہیے تھا۔
دل کو تسلی دینے کے لئے اسی دبئی اسٹیڈیم میں گزشتہ سال انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کی مثال دی جاسکتی ہے جب پہلے ہی دن پاکستانی ٹیم 99 پر آؤٹ ہوگئی تھی لیکن چوتھے دن وہ 71 رنز سے ٹیسٹ میچ جیتنے میں کامیاب ہوگئی تھی لیکن ایسا سو سال میں صرف دوسری مرتبہ ہوا تھا کہ کسی ٹیم نے پہلی اننگز میں سو سے کم اسکور پر آؤٹ ہونے کے باوجود ٹیسٹ میچ جیتا۔ اس میچ میں انہونی کو ہونی میں بدلنے کے لئے دو بیٹسمینوں نے دوسری اننگز میں سنچریاں بنائی تھیں اور اسپنرز کا جادو بھی سر چڑھ کر بولا تھا ۔
کیا اس بار بھی ایسا ہی ہوگا؟



