مصباح کیا آؤٹ ہوئے، فتح کا بند راستہ کُھل گیا

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
دبئی میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کے کپتان مصباح الحق کے آؤٹ ہوتے ہی جنوبی افریقہ کے لیے بند راستہ کھل گیا۔
مصباح الحق اپنے آؤٹ ہونے پر خود کو معاف نہیں کر سکیں گے کیونکہ اسد شفیق کے ساتھ ان کی انتہائی ذمہ دارانہ بیٹنگ نے گریم سمتھ کی جھنجھلاہٹ میں اضافہ کردیا تھا اور ایک موقع پر ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ یہ مزاحمت میچ کو پانچویں دن تک لے جائے گی۔
جنوبی افریقہ کا تکونی پیس اٹیک نئی گیند سے بھی دونوں بیٹسمینوں کو مرعوب نہ کر سکا اور پرانی ہوتی گیند پر عمران طاہر بھی غیر موثر رہے لیکن کبھی کبھی کھوٹا سکہ بھی چل جاتا ہے توگریم سمتھ نے یہی سوچتے ہوئے ڈین الگر کو بولنگ دینے کا جوا کھیلا جو ان کی جھولی میں سب سے قیمتی وکٹ ڈال گیا۔
اپنے ساتویں ٹیسٹ میں صرف تیسری مرتبہ بولنگ کرنے والے لیفٹ آرم سلو بولر الگر کی گیند کو مصباح الحق باؤنڈری کے باہر پھینکنا چاہتے تھے لیکن بلے کا کنارہ لیتی ہوئی گیند سلپ میں کیلس کے ہاتھوں میں چلی گئی۔
مصباح الحق اور اسد شفیق نے 75 اوورز تک مستند بولرز کا اعتماد سے مقابلہ کیا تھا لیکن غیر مستند بولر کے خلاف پہلی ہی غلطی آخری ثابت ہوئی۔
مصباح الحق کے آؤٹ ہونے کے بعد عمران طاہر کو عدنان اکمل اور سعید اجمل کی وکٹیں مل گئیں۔
عدنان اکمل نے وکٹ کیپنگ میں کوئی تاثر نہ چھوڑا لیکن بیٹنگ میں انہیں جن توقعات پر سرفراز احمد پر ترجیح دیتے ہوئے ٹیم میں شامل کیا گیا تھا وہ ان پر بھی پورا نہ اترسکے۔
جے پی ڈومینی نے تیسرے دن اظہر علی کی اہم وکٹ کا گھاؤ لگایا تھا آج وہ عرفان اور اسد شفیق کو بھی آؤٹ کرنے کے ذمہ دار تھے۔
اسد شفیق کیریئر بیسٹ ایک سو تیس رنز بناکر آؤٹ ہونے والے آخری بیٹسمین تھے۔ مصباح الحق کے آؤٹ ہونے کے بعد بھی ان کے اعتماد میں کوئی کمی نہیں آئی تھی اور ٹیل اینڈرز کی موجودگی میں وہ جو کچھ کرسکتے تھے انہوں نے وہ کیا۔
اسد شفیق نے اسی جنوبی افریقی بولنگ اٹیک کے خلاف کیپ ٹاؤن میں بھی سنچری بنائی تھی اور دبئی کی یہ شاندار اننگز بھی ان کے باصلاحیت ہونے کی عکاس ہے لیکن خود اسد شفیق کو بھی اس بات کا یقین کرنا ہوگا کہ وہ کتنے بڑے بیٹسمین ہیں۔
ماضی میں وہ کئی اہم مواقعوں پر نصف سنچری بناکر وکٹ گنواچکے ہیں جس پر انہیں زبردست تنقید کا سامنا رہا ہے لیکن اس اننگز کے بعد ممکن ہے کہ ان کی سوچ میں تبدیلی آجائے۔
یہ شکست مصباح الحق کے لیے یقیناً اس لیے تکلیف دہ ہے کہ دنیا کی عالمی نمبر ایک ٹیم کے خلاف پہلا ٹیسٹ جیتنے کے بعد انہیں سیریز اپنے نام کرنے کا جو موقع ملا تھا وہ بیٹسمینوں کی پہلے ہی دن کی مایوس کن کارکردگی کے سبب ضائع ہوگیا جس کے بعد جنوبی افریقہ نے کسی بھی موقع پر پاکستانی ٹیم کو دباؤ سے آزاد ہونے نہیں دیا۔



