کیا گیند کا جواب دینے کے لیے بلا تیار ہے؟

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم ابوظہبی میں ہاتھ آئی برتری دبئی میں گنوانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔
کپتان گریم سمتھ اور اے بی ڈی ویلیئرز کی شاندار بیٹنگ اور پانچویں وکٹ کی ریکارڈ شراکت جنوبی افریقہ کو سات سال میں ملک سے باہر پہلی ٹیسٹ سیریز کی شکست کے خطرے سے دور کرکے جیت کی راہ پر لے آئی ہے ۔
دونوں بیٹسمینوں کو پاکستانی بولنگ پر بھاری بھرکم سکور کرنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔
اے بی ڈی ویلیئرز کی پاکستان کے خلاف یہ چوتھی اور اسی سال تیسری سنچری ہے جس پر انہیں ڈربن میں بیٹھے ہاشم آملا کی ٹوئٹر پر مبارک باد بھی ملی ہے۔
اے بی ڈی ویلیئرز کھاتہ کھولے بغیر ہی پویلین لوٹ جاتے اگر وکٹ کیپر عدنان اکمل محمد عرفان کی گیند پر کیچ لے لیتے۔
پچیس کے اسکور پر قسمت ویلیئرز پر پھر مہربان تھی جب سعید اجمل کی گیند پر ایل بی ڈبلیو کی اپیل امپائر نے مسترد کردی کہ گیند نے پہلے بلے کا کنارہ لیا ہے لیکن ری پلے نے دکھایا کہ گیند پہلے پیڈ پر لگی تھی۔
بے بس پاکستانی ٹیم کے پاس ریویو نہیں بچا تھا۔
کپتان گریم سمتھ ٹخنے کے آپریشن کے سبب پانچ ماہ کرکٹ سے دور رہے لیکن ڈبل سنچری نے ان کے حوصلے پھر سے بلند کردیے ہیں۔ان کی بھی پاکستان کے خلاف یہ چوتھی سنچری ہے۔
اگر جنوبی افریقی ٹیم یہ ٹیسٹ میچ جیتنے میں کامیاب ہوئی تو یہ جیتے ہوئے میچز میں سمتھ کی سترہویں سنچری ہوگی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوبی افریقہ کے ہارے ہوئے کسی بھی ٹیسٹ میں ان کی سنچری شامل نہیں ہے۔
پہلے دن عمران طاہر کے اسپن تماشا نے امید جگائی تھی کہ سعید اجمل اور ذوالفقار بابر اپنے زیادہ تجربہ کار ہونے کے سبب زیادہ موثر ثابت ہوسکیں گے لیکن سیدھی سادی وکٹ پر وہ بھی سیدھے سادے بولرز ثابت ہوئے۔
محمد عرفان کی کچھ گیندوں نے بیٹسمینوں کو پریشان کیا لیکن وہ خود وکٹ کے ممنوعہ حصے پر دوڑنے پر امپائر ای این گلڈ کی وارننگ سے پریشان رہے جس پر مصباح الحق کو ان کا اینڈ تبدیل کرنا پڑا۔
نائٹ واچ مین ڈیل سٹین کو پویلین بھیجنے کے بعد پاکستانی بولرز کے ہاتھ کچھ بھی نہ آیا۔ نئی گیند کی چمک بھی بیٹسمینوں کو متاثر نہ کرسکی۔سمتھ اور ویلیئرز نے بیٹنگ کو بہت آسان بنائے رکھا ۔ جب بھی دل چاہا گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھائی۔ کھیل کے آخری لمحات میں پاکستانی ٹیم نے دوسری نئی گیند ملنے کے بعد حاصل ہونے والے دو ریویوز میں سے ایک پھر ضائع کر دیا۔
جنوبی افریقہ کی برتری تین سو اکسٹھ رنز ہوچکی ہے۔ سمتھ کوغالباً اس کے چار سو تک پہنچنے کا انتظار ہے جس کے بعد گیند دوبارہ ڈیل سٹین اور عمران طاہر کے ہاتھوں میں ہوگی لیکن کیا گیند کا جواب دینے کے لئے بلا بھی تیار ہے؟



