نیٹ سیشن کے دوران نسیم شاہ کی عمدہ بولنگ: ’یہ تو بہت اچھی بولنگ کر رہا ہے، سب سے زیادہ خطرہ اسی سے ہو گا‘

میلبرن
    • مصنف, محمد صہیب
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

’جس طرح آپ کے ملک میں حکومتیں بدلتی ہیں ویسے ہی میلبرن کا موسم بدلتا ہے، کچھ پتا نہیں چلتا کب کیا ہو جائے۔‘

میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں کام کرنے والی رجنی، جن کا تعلق انڈیا سے ہے، کی خواہش ہے کہ ’جو بھی ہو لیکن بارش کے باعث میچ منسوخ نہ ہو‘ کیونکہ ’بہت دور دور سے لوگ یہاں میچ دیکھنے آئے ہوئے ہیں۔‘

پاکستان اور انڈیا کے میچ سے قبل پاکستانی ٹیم میلبرن کرکٹ گراؤنڈ سے ملحقہ میدان میں پریکٹس کے لیے داخل ہوئی تو بڑی تعداد میں اردگرد کھڑے انڈین اور پاکستانی شائقین آسمان سےگرتی ہوئی بوندوں اور موسم کے بدلتے تیور دیکھ کر دل ہی دل میں پریشان ہو رہے تھے۔

اس پریکٹس سیشن کے بھی بارش کے باعث منسوخ ہونے کے امکانات تھے لیکن بادل آئے، تھوڑی سی بارش برسی اور پھر دھوپ نکل آئی۔

میلبرن کے ہی ایک رہائشی نے ہمیں بتایا کہ میلبرن ایسا شہر ہے جہاں آپ ایک ہی دن میں چاروں موسموں کا تجربہ کر سکتے ہیں۔

میلبرن

اس پریکٹس سیشن کی خاص بات بڑی تعداد میں انڈین شائقین کی موجودگی تھی جو خاص کر اس کھلاڑی کو دیکھنے آئے تھے ’جو ہیلمٹ میں وراٹ کوہلی جیسا دکھتا ہے۔‘

بابر اعظم جیسے ہی پریکٹس کے لیے نیٹس میں داخل ہوئے تو بابر، بابر کی صدائیں بلند ہوئیں اور لوگ ان سے کور ڈرائیو مارنے کی فرمائش کرنے لگے۔

انڈیا کے شہر دہلی سے آنے والے شتج اپنے بیٹے کے ساتھ میلبرن خاص طور پر یہ میچ دیکھنے آئے ہیں اور اپنا شوق پورا کرنے کے ساتھ اسے پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں کے نام بتا رہے تھے۔

امریکہ کی ریاست سان فرانسسکو سے خاص طور پر اس میچ کے لیے اپنی اہلیہ پارشا کے ساتھ کئی ماہ سے اس میچ کے لیے میلبرن آنے کی تیاریاں کرنے والے پاکستانی نژاد پون بھی بارش نہ ہونے کی دعائیں کر رہے ہیں۔

اتنی بڑی تعداد میں انڈین شائقین کا پاکستان کا پریکٹس سیشن اتنے انہماک سے دیکھنا یوں تو خاصا حیرت انگیز معلوم ہوتا تھا لیکن وقت کے ساتھ ان سے بات کرنے پر اس کی وجہ معلوم ہوئی۔

انڈیا

اس پریکٹس سیشن میں ایک 16 سالہ نیٹ بولر وشوا بھی موجود تھے اور ان کے والد رام کمار اپنے بیٹے کو پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف لیگ سپن کرتا دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔

رام کمار نے بتایا کہ انھوں نے گذشتہ چند سالوں سے پاکستانی ٹیم کو فالو کرنا شروع کیا ہے۔

’میرے نزدیک اس پاکستانی ٹیم کی اچھی بات ان سے ملنے والا ایک مثبت تاثر ہے جو اس سے پہلے کی ٹیموں سے نہیں ملتا تھا۔‘

’مہارت کی کمی تو ان میں کبھی بھی نہیں تھی لیکن اب ان کے کھیل میں ایک تسلسل ہے۔۔۔ پہلے تو انڈیا پاکستان کے یکطرفہ مقابلے ہوتے تھے لیکن اب میچ دیکھنے میں مزا آتا ہے۔‘

رضوان، بابر بمقابلہ شاہین، نسیم اور حارث

پریکٹس سیشن کا آغاز ہوا تو میڈیا سمیت سب ہی شائقین اس نیٹ کے گرد جمع ہو گئے جہاں بابر اعظم اور محمد رضوان کو شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور نسیم شاہ بولنگ کروا رہے تھے۔

یعنی دنیا کے بہترین بولرز بمقابلہ بہترین بیٹرز آمنے سامنے اور اس آدھے گھنٹے کے سیشن نے کسی کو مایوس نہیں کیا۔

رضوان نے نیٹ شروع ہونے سے قبل تینوں بولرز کے لیے پچ پر ایک ڈبہ بنایا اور ان سے اس میں گیند کروانے کا کہا۔ حارث جب بھی کوئی گیند اس ڈبے میں کرواتے تو فاتحانہ انداز میں اس کا اعلان کرتے۔

تاہم اس پورے سیشن کے دوران شاید آنے والے دنوں میں پاکستانی بولنگ کی ایک جھلک نظر آ گئی۔

پریکٹس سیشن

شاہین شاہ آفریدی ابھی پوری طرح ردھم میں دکھائی نہیں دیے اور شاید انھیں انجری سے واپسی پر یہ کھویا ہوا ردھم واپس لانے میں کچھ وقت لگے گا۔

وہ دائیں ہاتھ کے بیٹرز کو بولنگ کرواتے ہوئے گیند باہر کی جانب تو باآسانی نکال رہے تھے، لیکن ان کی مشہور ان سوئنگ گیند فی الحال نیٹ پریکٹس کے دوران دکھائی نہیں دی۔

تاہم جس بولر نے سب کی توجہ حاصل کی وہ نسیم شاہ تھے۔ ان کی ایک گیند یقیناً رضوان کی جانب سے بنائے گئے ڈبے میں پڑی ہو گی اور انھیں بیٹ کرتے ہوئے آف سٹمپ زمین سے اکھاڑ کر لے گئی۔

میرے ساتھ کھڑے انڈین طالبعلم نے اپنے ساتھی سے پوچھا ’اس کی ویڈیو بنائی تھی؟‘ جب اس نے نفی میں جواب دیا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ تو بہت اچھی بولنگ کر رہا، سب سے زیادہ خطرہ اسی سے ہو گا۔‘

شان مسعود کے سر پر گیند لگنے کا واقعہ

نیٹ سیشن کے دوران بابر اور رضوان کی ہر اچھی شاٹ کو داد دی جاتی رہی۔ ادھر شان مسعود نے اپنی بیٹنگ کا آغاز سپنر شاداب خان کے خلاف کیا جو شاید ٹیم میں ان کے رول کی نشاندہی بھی ہے۔

تاہم اس بہترین ماحول میں جب سب ہی بہترین موسم اور اپنے من پسند کھلاڑیوں کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے ایسے میں شان مسعود کے ساتھ ہونے والے واقعے نے اچانک ماحول افسردہ کر دیا۔

شان مسعود سپنرز کے خلاف نیٹ سیشن مکمل کر کے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے جب ایک گیند ان کے سر پر آ لگی اور وہ زمین پر لیٹ گئے۔

شان مسعود

یہ بھی پڑھیے

ٹیم فزیو کی جانب سے ان کا معائنہ کیا گیا جس کے بعد انھیں فوری طور پر سکین کے لیے ہسپتال پہنچایا گیا تاہم پی سی بی کی جانب سے موصول ہونے والی تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق ان کے سکین معمول کے مطابق ہیں۔ کل انھیں دوبارہ ٹیسٹ کے لیے لے جایا جائے گا۔

جیسے ہی شان مسعود کو گراؤنڈ سے لے جایا گیا تو تمام نظریں فخر زمان پر مرکوز تھیں جو تاحال صرف تھائی پیڈ پہنے کھڑے ہوئے تھے۔

انھوں نے مزید کچھ دیر بھی بیٹنگ نہیں کی اور جب بالآخر بیٹنگ کے لیے آئے تو صرف سپن بولرز کے خلاف ہی بیٹنگ کرتے رہے۔

انھیں ریزرو پلیئر سے 15 رکنی سکواڈ میں شامل کیا گیا تھا، لیکن کم از کم پہلے پریکٹس سیشن کے دوران وہ فاسٹ بولرز کے سامنے کھیلتے دکھائی نہیں دیے اور ان کی شمولیت کے بارے میں جب میچ کے بعد شاداب خان سے بھی سوال کیا گیا تو انھوں نے بات ٹال دی۔

اگر شان اور فخر زمان دونوں ہی اتوار کو سلیکشن کے لیے دستیاب نہ ہوئے تو پھر شاید پاکستان کو نمبر تین پر حیدر علی کو آزمانا پڑے اور زخمی کھلاڑیوں کی جگہ خوشدل شاہ کو ٹیم میں شامل کیا جائے جو گذشتہ کئی میچ سے آؤٹ آف فارم دکھائی دے رہے ہیں۔

پریکٹس سیشن

قادر بھائی کا بیٹا ہے بھائی تو

پریکٹس کے اختتام پر شاہین آفریدی اور حارث رؤف نے بیٹنگ کر کے بھی داد وصول کی اور شاداب خان اور دیگر بلے بازوں نے سنگِ مر مر کی ٹائل پر پانی چھڑک کر شارٹ گیند کھیلنے کی مشق کی۔

پاکستان کے بیٹنگ کوچ محمد یوسف نے آخر کار پریکٹس کے اختتام پر پیڈ باندھے اور گزرے وقتوں کی یادیں تازہ کیں۔

انھیں گیند کروانے کے لیے عثمان قادر آئے جنھوں نے گیند کروانے سے پہلے کہا کہ ’لیجینڈ بمقابلہ نا تجربہ کار بولر۔‘

محمد یوسف اس بات پر ہنس دیے لیکن کچھ گیندوں کے بعد جب عثمان قادر کی ایک گوگلی کھیلنے میں وہ ناکام رہے تو انھوں نے کہا کہ ’قادر بھائی کا بیٹا ہے بھائی تو۔‘

ہوٹل واپس پہنچنے کے بعد موسم نے پھر انگڑائی لی اور اس تحریر کو لکھتے وقت بھی میلبرن میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے اور باہر یخ بستہ ہوائیں چل رہی ہیں۔

اس پر مجھے رام کمار کی یہ بات یاد آ گئی کہ میلبرن کا موسم ایسا ہے کہ یہاں آپ ایک ہی دن میں چاروں موسموں کا تجربہ کر لیتے ہیں۔

یہاں موجود دنیا بھر سے کئی گھنٹوں کا سفر کر کے آنے والے شائقین یقیناً یہی امید کریں گے کہ اتوار کے روز موسم جیسا بھی ہو، بس بارش نہ ہو۔