ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ڈائری: انڈیا، پاکستان میچ اور میلبرن میں تیاریاں

ایم سی جی، میلبرن
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، میلبرن

ʹپاکستان کے سیاسی حالات کیا کہہ رہے ہیں؟‘

ذرا سوچیں آپ کے ذہن میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہو اور آپ اس کے علاوہ کسی دوسرے موضوع پر بات کرنا نہ چاہتے ہوں لیکن کوئی شخص آپ سے اچانک سیاست پر بات شروع کر دے۔

میرے ساتھ بھی یہی کچھ اس وقت ہوا جب دو پروازوں کے ذریعے 16 گھنٹے کا تھکا دینے والا سفر ختم کر کے میں میلبرن ایئرپورٹ سے باہر آیا۔

تھکاوٹ اور نیند کے غلبے کے باوجود ذہن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا لیکن میں نے ایئرپورٹ سے ہوٹل کے لیے جو ٹیکسی لی اس کے ڈرائیور سعید صاحب راولپنڈی کے رہائشی نکلے اور پھر انھوں نے وہی موضوع چھیڑ دیا جو ملک سے باہر رہنے والے پاکستانی ملنے پر اکثر کیا کرتے ہیں: یعنی پاکستان کے سیاسی حالات کہاں جا رہے ہیں؟ آپ کو کیا لگتا ہے کیا ہو گا؟

’صاحب میں تو ایک ہی بات جانتا ہوں کہ سیاستدان کوئی بھی ہو وہ پاکستان سے مخلص نہیں ہے۔ پاکستان میں بھائی بہن رہتے ہیں لیکن اب وہاں جانے کا دل نہیں کرتا۔ آسٹریلیا میں ہی رہ کر پاکستان کی باتیں سن لیتے ہیں تو فرسٹریشن (پریشانی) بڑھ جاتی ہے۔‘ سعید صاحب نے سیاست میں میری عدم دلچسپی دیکھتے ہوئے خود ہی بتایا۔

ایم سی جی، میلبرن

میلبرن پہنچنے کے بعد میں نے ورلڈ کپ ایکریڈیٹیشن کارڈ کے لیے میلبرن کرکٹ گراؤنڈ کا رُخ کیا تو ایک عجیب سی خاموشی نے اس گراؤنڈ کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔

گراؤنڈ کے تمام اطراف آسٹریلیا کی کھیلوں کی تاریخ میں گراں قدر خدمات انجام دینے والے کھلاڑیوں کے مجسمے ہر نظر کو اپنی جانب متوجہ کر لیتے ہیں۔ ان میں عظیم سر ڈان بریڈمین بھی شامل ہیں۔

سر ڈان بریڈمین

اس خاموش ماحول میں گہما گہمی صرف گراؤنڈ سے باہر قائم آئی سی سی میڈیا سینٹر میں نظر آئی جہاں صحافی اپنے کارڈ کے حصول کے لیے آئے ہوئے تھے۔ میں یہی سوچ رہا تھا کہ دو تین دن کی تو بات ہے پھر یہ خاموشی کیسی؟ اتوار کے روز یہ خالی گیٹ بالکل مختلف منظر پیش کر رہے ہوں گے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ شروع ہو چکا ہے لیکن دنیا کو 23 اکتوبر کا شدت سے انتظار ہے۔ اس روز پاکستان اور انڈیا میلبرن کے ایم سی جی میں مدمقابل ہونے والے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ہمیشہ کی طرح شائقین کی بہت بڑی تعداد دنیا بھر سے میلبرن کا رُخ کر رہی ہے تاکہ اس میچ کے ایک ایک لمحے سے بھرپور لطف اٹھایا جا سکے۔ عام شائقین ہوں یا بولی وڈ سٹار یا پھر بزنس ٹائیکون یہ سب اس میچ کے شدت کے منتظر ہیں لیکن سب ہی کو صرف ایک بات کا دھڑکا لگا ہوا ہے کہ بارش رنگ میں بھنگ نہ ڈال دے۔

پاکستان، انڈیا

جب سے آسٹریلوی محکمہ موسمیات نے اتوار کے روز بارش کی پیشگوئی کی ہے، ہر کوئی اس بات سے پریشان ہے کہ اگر یہ میچ نہ ہو سکا تو پھر دوبارہ نہیں ہو سکے گا کیونکہ یہ ایسا میچ نہیں ہے جس میں ریزرو ڈے رکھا جاتا ہے۔

میلبرن کے رہائشی انڈیا، پاکستان میچ کو کسی فیسٹیول کی طرح منانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ میلبرن میں مقیم شاعرہ عندلیب صدیقی نہ صرف خود بلکہ ان کی پوری فیملی کھیل کے معاملے میں جذباتی واقع ہوئی ہے۔

عندلیب صدیقی ورلڈ کپ کی شرٹ ملنے پر بہت زیادہ خوش ہیں۔ وہ میلبرن میں ایک مقامی چینل پر پروگرام بھی کرتی ہیں۔

انھوں نے اپنی عام شاعری سے ہٹ کر انڈیا پاکستان میچ کی مناسبت سے ایک گانا لکھ کر اپنے پروگرام میں گا دیا جس کے بول کچھ اس طرح تھے: ’ورلڈ کپ کے آئے زمانے، کیا دن ہیں سہانے، تو بلا (بیٹ) لے کر آ جا بالما۔‘

عندلیب صدیقی
،تصویر کا کیپشنعندلیب صدیقی

عندلیب صدیقی نے بتایا کہ ’میلبرن اور سڈنی میں پاکستانی اور انڈین کمیونٹی بہت بڑی تعداد میں رہتی ہے۔ یہ سب اپنی اپنی ٹیموں کی زبردست انداز میں حوصلہ افزائی کرتے ہیں لیکن ان میں آپس میں کبھی بھی لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز ہونے والے میچ کے لیے بھی پاکستانی کمیونٹی نے خوب تیاری کر رکھی ہے اور پاکستانی شائقین شہر کے مرکز میں واقع یارا ریور (دریا) کے قریب جمع ہوں گے اور وہاں سے ایک ساتھ پیدل چلتے ہوئے گراؤنڈ جائیں گے۔

ورلڈ کپ میں ابھی پاکستان اور انڈیا کی ٹیمیں مدمقابل نہیں آئی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ میلبرن کے قدرے ٹھنڈے موسم میں کرکٹ کا ماحول ابھی گرم نہیں ہوا ہے۔

لیکن انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سیکریٹری جے شاہ نے یہ بیان داغ کر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آئندہ سال ایشیا کپ پاکستان کے بجائے نیوٹرل مقام پر ہو گا۔

انڈیا، پاکستان، ورلڈکپ ڈائری

جے شاہ ایشین کرکٹ کونسل کے بھی صدر ہیں اور انڈین کرکٹ بورڈ میں اثر و رسوخ کے معاملے میں سب سے نمایاں ہیں۔ اس کی وجہ ان کے والد امیت شاہ ہیں جو بی جے پی کی حکومت میں انتہائی اہم پوزیشن رکھے ہوئے ہیں۔

جے شاہ نے اس بیان کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کیا ہے جب پاکستان اور انڈیا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا اہم میچ کھیلنے والے ہیں۔ ان کا یہ بیان اس لیے بھی سب کے لیے حیران کن ہے کہ ابھی ایشیا کپ میں کئی ماہ باقی ہیں، لہذا ابھی انھیں یہ کہنے کی کیا ضرورت محسوس ہوئی؟

دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایشیا کپ کا میزبان پاکستان ہے لہذا ایشیین کرکٹ کونسل نے یا جے شاہ نے پاکستانی کرکٹ بورڈ سے بات کیے بغیر یہ کیسے کہہ دیا کہ ایشیا کپ نیوٹرل مقام پر ہو گا؟

پاکستان کرکٹ بورڈ نے جے شا کے بیان پر سخت مایوسی ظاہر کی ہے اور اس کا کہنا ہےکہ اس کا اثر پاکستانی ٹیم کے 2023 اور 2031 کے انڈیا کے دوروں پر بھی پڑسکتا ہے جن میں اسے ورلڈ کپ کھیلنا ہے۔