کامن ویلتھ گیمز میں پاکستانی خواتین ایتھلیٹس کی ناقص کارکردگی کی وجوہات کیا ہیں؟

ماہور، نورینہ، مہرین

،تصویر کا ذریعہCourtesy Mahoor, Noreena, Mehreen

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کسی بھی کھلاڑی کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی کرے لیکن پاکستان کی خاتون پیرا ایتھلیٹ انیلہ عزت بیگ کے لیے وہ لمحہ انتہائی تکلیف دہ تھا جب انھوں نے فیکٹری مالکان سے کہا کہ انھیں کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لینے کے لیے تیاری کرنی ہے تو انھیں جواب ملا کہ آپ کو ان دو ماہ چھٹیوں کی تنخواہ نہیں ملے گی۔

انیلہ عزت بیگ فیصل آباد کی ایک مشہور ٹیکسٹائل ملز میں صرف 17 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کرتی ہیں اور زندگی میں ان گنت مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔

انھوں نے کامن ویلتھ گیمز کے پیرا ایتھلیٹکس مقابلوں کے ڈسکس تھرو ایونٹ میں حصہ لیا۔

اگرچہ وہ اس ایونٹ میں ہارگئیں لیکن زندگی کے مسائل کا مقابلہ بلند حوصلے کے ساتھ کرتے ہوئے ہار ماننے کے لیے تیار نہیں۔

انیلہ عزت بیگ ان 25 خواتین کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنھوں نے برمنگھم میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

ان میں سے کئی کھلاڑی ایسی ہیں جو ملک میں کھیلوں کی سہولیات سے قطعاً مطمئن نہیں ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر انھیں ٹریننگ اور کوچنگ کی بنیادی سہولتیں میسر آ جائیں تو وہ اپنی کارکردگی میں غیرمعمولی بہتری لا سکتی ہیں۔

انیلہ

،تصویر کا ذریعہCourtesy Aneela

'مجھے صرف ایک اچھا کوچ دے دیں'

انیلہ عزت بیگ کامن ویلتھ گیمز سے قبل ٹوکیو پیرا لمپکس میں بھی حصہ لے چکی ہیں۔

وہ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ 'مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ فیکٹری مالکان کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ میں انٹرنیشنل لیول پر پاکستان کی نمائندگی کرتی ہوں لیکن اس کے باوجود وہ مجھے سپورٹ نہیں کرتے۔

'میں فیکٹری میں کام کرتے ہوئے اپنی ٹریننگ بھی نہیں کر سکتی۔ میں رات کو گھر واپس آتی ہوں اس کے بعد کوشش کرتی ہوں کہ کسی نہ کسی طرح اپنی ٹریننگ کر سکوں لیکن یہ بہت مشکل صورتحال ہے۔'

انیلہ عزت بیگ کہتی ہیں کہ 'فیصل آباد میں میرے پاس ٹریننگ کی کوئی جگہ بھی نہیں ہے اور مجھے ڈسکس تھرو کے لیے ڈسکس بھی کسی سے لینا پڑتا ہے۔ اگر مجھے ٹریننگ کی سہولتیں مل جاتیں تو میں کامن ویلتھ گیمز میں ضرور تمغہ جیت سکتی تھی۔'

انیلہ عزت بیگ کا کہنا ہے کہ 'میں حکومت سے صرف اتنا چاہتی ہوں کہ مجھے ڈِسکس مل جائیں تاکہ میں ان سے اپنی ٹریننگ کر سکوں اور اگر واپڈا میں مجھے ملازمت نہیں مل سکتی تو کم از کم اتنی ہی مہربانی کر دی جائے کہ میری ٹریننگ کے لیے مجھے واپڈا کا کوئی اچھا کوچ فراہم کر دیں۔'

انیلہ عزت بیگ جذباتی انداز میں کہتی ہیں کہ 'میں اس کھیل کو چھوڑنا نہیں چاہتی۔ میں نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا کہ پولیو کی وجہ سے میری بائیں ٹانگ متاثر ہے۔ میرے اندر جذبہ اور جنون ہے اور میں پاکستان کے لیے کچھ کر دکھانا چاہتی ہوں۔

'پاکستان پیرالمپک کمیٹی نے میرے کریئر میں بہت مدد کی ہے لیکن حکومت کی طرف سے بالکل خاموشی ہے۔ وہ ہم ڈس ایبلڈ کھلاڑیوں کی طرف بھی توجہ دے۔ ہم بھی تو آخر پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔'

پاکستان کی قومی پیرالمپکس کمیٹی کی میڈیا ڈائریکٹر ہما بیگ کا کہنا ہے کہ 'پیرا ایتھلیٹس بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے دیگر عام ایتھلیٹس۔ نیشنل پیرالمپکس کمیٹی نے پرائیوٹ اداروں سے سپانسرشپ لے کر اپنے کھلاڑیوں کی بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کو ممکن بنایا ہے اور ان ایتھلیٹس نے شاندار کارکردگی بھی دکھائی ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ فنڈنگ کا ہے۔'

انیلہ

،تصویر کا ذریعہCourtesy Anila

پاکستان میں یہ سوال عام ہے کہ خواتین کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کیوں نہیں کرپاتی ہیں؟ لیکن اس بات کی گہرائی میں کوئی بھی نہیں جانا چاہتا کہ تمغے جیتنے کی خواہشات ہزار لیکن سہولیات صفر ہیں۔

انیلہ عزت بیگ کی کہانی پاکستان میں خواتین کھلاڑیوں کے معاشی اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔ دیگر کھلاڑیوں کی کہانیاں بھی مختلف نہیں ہیں۔

'بھائی میری باکسنگ کے سخت مخالف تھے'

مہرین بلوچ پہلی خاتون باکسر ہیں جنھوں نے کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

اس سے قبل انھوں نے سنہ 2019 میں کٹھمنڈو میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

مہرین بلوچ کا تعلق کراچی کے علاقے لیاری سے ہے اور انھیں بھی اپنے کریئر کے اوائل میں معاشرتی مسائل کا سامنا رہا۔

خود ان کے بھائی اس بات کے حق میں نہیں تھے کہ ان کی بہن باکسنگ کھیلے۔

مہرین بلوچ بی بی سی اردو سے بات کرتی ہوئے کہتی ہیں 'میں نے جس ماحول میں پرورش پائی اس میں خواتین کا کھیلنا اور خاص کر باکسنگ کو اپنانا بہت مشکل تھا۔

مہرین

،تصویر کا ذریعہCourtesy Mehreen Baloch

'میرے والد کے کزن ملنگ بلوچ انٹرنیشنل باکسر رہے ہیں۔ میرے والد نے فٹبال کھیلی ہے۔ والدین نے میرے باکسنگ کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا البتہ بھائیوں نے کہا کہ باکسنگ لڑکیوں کا کھیل نہیں ہے اور انھوں نے مجھ سے بات کرنا بھی چھوڑ دی تھی لیکن جب میں نے قومی سطح پر تمغے جیتنے شروع کیے تو ان کی رائے بھی تبدیل ہوگئی۔'

مہرین بلوچ کہتی ہیں کہ 'یہ میرا باکسنگ میں ساتواں سال ہے۔ میں جب اس کھیل میں آئی تو مجھ سے پہلے بھی کئی لڑکیاں ٹریننگ کر رہی تھیں لیکن ان کا معیار ایک خاص حد تک ہے اسی لیے میں اپنی کارکردگی میں بہتری لانے اور زیادہ سے زیادہ تجربہ حاصل کرنے کے لیے مرد کھلاڑیوں کے ساتھ ٹریننگ کرتی ہوں۔'

مہرین بلوچ کا کہنا ہے 'ملک میں پہلے خواتین باکسرز اتنی اچھی نہیں تھیں لیکن اب ان کا معیار بہتر ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ہمیں ان چھ سات برسوں کےدوران ٹریننگ کے لیے بین الاقوامی دورے اور لگاتار ٹریننگ کیمپ مل جاتے تو ہم بھی بہت اچھی کارکردگی دکھاسکتے تھے۔'

مہرین بلوچ کہتی ہیں کہ 'کامن ویلتھ گیمز میں آنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ ہم دیگر ممالک سے بہت پیچھے ہیں۔ ہمیں انٹرنیشنل ٹریننگ اور تواتر کے ساتھ کیمپ کی ضرورت ہے تاکہ ہمیں تجربہ ملے۔'

مہرین بلوچ اس وقت کنٹریکٹ پر پاکستان ایئرفورس سے وابستہ ہیں۔

ماہور

،تصویر کا ذریعہCourtesy Mahoor Shehzad

'نیشنل بیڈمنٹن اکیڈمی کا وجود ہی نہیں'

ماہور شہزاد پاکستان کی صف اول کی بیڈمنٹن کھلاڑی ہیں جو باقاعدگی سےبین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے رہی ہیں لیکن انھیں اس بات پر حیرت ہے کہ پاکستان میں ایک بھی نیشنل اکیڈمی موجود نہیں ہے۔

ماہور شہزاد کہتی ہیں 'پاکستان میں بیڈمنٹن کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انڈیا میں ایک ایک شہر میں کئی اکیڈمیاں ہیں لیکن پاکستان میں بین الاقوامی معیار کی ایک بھی نیشنل بیڈمنٹن اکیڈمی نہیں ہے۔'

وہ کہتی ہیں کہ 'کھلاڑی خود اپنے طور پر پرائیوٹ کورٹس میں ٹریننگ کرتے ہیں۔ کوچز بھی خود ڈھونڈنے پڑتے ہیں۔ جو بھی ہے وہ کھلاڑی کو خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ 'میری اپنی مثال ہے میں ایک پرائیوٹ کلب میں کھیلتی ہوں۔ جب آپ کسی کلب میں کھیلتے ہیں تو دوسرے ممبرز بھی ہوتے ہیں انھیں بھی کھیلنا ہوتا ہے لہٰذا کورٹ ہر وقت آپ کو دستیاب نہیں ہوتا اور اچھے کوچ بھی نہیں ملتے۔'

ماہور شہزاد کہتی ہیں 'پاکستان بیڈمنٹن فیڈریشن جتنا سپورٹ کر سکتی ہے وہ کرتی ہے لیکن اسے بھی وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔

'جب اس کے پاس فنڈز نہیں ہوں گے تو وہ کھلاڑیوں کو ٹریننگ کے لیے ملک سے باہر کیسے بھیج سکتی ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

ماہور شہزاد پاکستان سپورٹس بورڈ کی ذمہ داری سے مطمئن نہیں ہیں۔

وہ کہتی ہیں 'پاکستان سپورٹس بورڈ سے کھلاڑیوں کے لیے ٹریننگ کیمپ لگانے کے لیے کہا گیا لیکن اس کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا بلکہ اس نے بیڈمنٹن کو کامن ویلتھ گیمزکے دستے کی فہرست سے ہی خارج کر دیا جس کے بعد پاکستان اولمپک اسوسی ایشن نے بیڈمنٹن کے کھلاڑیوں کو برمنگھم بھیجا ہے۔'

ماہور شہزاد کہتی ہیں کہ 'متعدد غیرملکی دوروں کے اخراجات خود انھیں برداشت کرنے پڑتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی سپانسر نہیں ہے۔

'چند ٹورنامنٹس میں انھوں نے ایشین بیڈمنٹن پروجیکٹ کے ذریعے شرکت کی ہے جس کے لیے میرا نام فیڈریشن نے تجویز کیا تھا جبکہ پاکستان اولمپک اسوسی ایشن کی کوششوں کے نتیجے میں میرا نام انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی سکالرشپ میں شامل ہوا ہے۔

'یہ میری انٹرنیشنل مقابلوں میں کارکردگی کی وجہ سے ہوا ہے۔ میری کوشش ہوگی کہ میں اپنی عالمی رینکنگ میں بہتری لاؤں تاکہ میں اولمپکس کے لیے کوالیفائی کر سکوں۔'

نورینہ

،تصویر کا ذریعہCourtesy Noreena Shams

'کارکردگی سے زیادہ خوبصورتی پر نظر'

سکواش کی انٹرنیشنل کھلاڑی نورینہ شمس کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔

اگرچہ وہ کامن ویلتھ گیمز کے دستے میں شامل نہیں لیکن خواتین کھلاڑیوں کے مسائل پر گہری نظر رکھتی ہیں۔

نورینہ شمس بی بی سی اردو کو بتاتی ہیں کہ 'مجھے اپنے کریئر کے شروع میں اس طرح کی باتیں بھی سننے کو ملیں کہ میں بہت خوبصورت ہوں یا بہت پُرکشش ہوں لہٰذا ہر کوچ میرے ساتھ ٹریننگ کرنا چاہتا تھا۔

'لیکن بعد میں یہ صورتحال میرے اپنے رویے اور ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی وجہ سے تبدیل ہوئی۔'

وہ بتاتی ہیں کہ 'دراصل سکواش کھیلنے والی جن لڑکیوں کے بھائی اور والد ہیں وہ اپنی بیٹیوں کے لیے ڈھال ہوتے ہیں لیکن جن لڑکیوں کے والد یا بھائی نہیں ہیں انھیں گھر سے باہر نکلنے پر مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے مجھے کرنا پڑا۔'

نورینہ شمس کہتی ہیں 'ہمارے معاشرے میں کسی لڑکی کے لیے گھر سے اجازت اور اس کا ٹریک سوٹ پہننا ہی سب سے پہلی جنگ ہے۔

نورینہ

،تصویر کا ذریعہCourtesy Noreena Shams

'بجٹ اور ٹریننگ کی سہولتیں تو بعد کی باتیں ہیں۔ میں نے کارلا خان اور ماریہ طور کی طرح شارٹس پہن کر اسکواش کھیلی تو میری کارکردگی کے بجائے میرے شارٹس کو دیکھا جاتا تھا اس پر اعتراض بھی ہوا۔

'اس بات کا کسی کو اندازہ نہیں کہ ایک خاتون کھلاڑی جس ذہنی اذیت سے گزرتی ہے اس ذہنی صدمے سے نکلنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔'

وہ کہتی ہیں کہ 'خواتین کھلاڑیوں کا بجٹ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ ان کی ٹریننگ بھی اس طرح نہیں ہوتی جس طرح مرد کھلاڑیوں کو دی جاتی ہے۔

'ہمارا نظام تباہ ہو چکا ہے جو حق دار لڑکیاں ہیں انھیں آگے نہیں آنے دیا جاتا۔

'ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب خواتین کھلاڑی اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتی ہیں تو انھیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔'

مراعات یافتہ خواتین کرکٹرز

پاکستان میں دوسرے کھیلوں کے مقابلے میں کرکٹ مالی طور پر ایک مستحکم کھیل کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

نہ صرف مرد بلکہ خواتین کھلاڑیوں کو بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے تمام ضروری سہولتیں اور آسائشیں حاصل ہیں جن میں سینٹرل کنٹریکٹ، ٹریننگ اور کوچنگ نمایاں ہیں۔

پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم کو پچھلے کچھ عرصے سے غیرملکی کوچ کی خدمات بھی حاصل ہیں تاہم ان تمام سہولتوں کے باوجود پاکستانی خواتین ٹیم کی کارکردگی ایک خاص حد تک رہی ہے۔ کامن ویلتھ گیمز میں 15 رکنی پاکستانی ٹیم نے انتہائی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اسے بارباڈوس، انڈیا اور آسٹریلیا کے خلاف اپنے تینوں میچوں میں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔