سمیع چوہدری کا کالم: پاکستان نے جدید ون ڈے کرکٹ سیکھ ہی لی

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

بالآخر پاکستان نے ماڈرن ون ڈے کرکٹ کو برتنے کا گُر سیکھ ہی لیا۔ حالانکہ ایک ہی دن پہلے وہ 1998 والی ون ڈے کرکٹ کھیل رہے تھے مگر یہاں ہمیں ایک بالکل مختلف بیٹنگ اپروچ دکھائی دی۔

جب سبھی کچھ داؤ پہ ہو تو ایک مقام ایسا آتا ہے جہاں دماغ مزید سوچنا بند کر دیتا ہے اور لمحۂ موجود پہ مرتکز ہو جاتا ہے۔

پاکستان کا بھی سبھی کچھ داؤ پہ لگا ہوا تھا۔ ایسے تاریخی دورے پہ مہینہ بھر گزرنے کے بعد بھی فتح کا منھ دیکھنا نصیب نہ ہو پایا تھا۔ آسٹریلیا کے خلاف متواتر ناکامیوں کی لڑی کو پانچ سال ہونے کو تھے اور سب سے بڑھ کر، سیریز بھی داؤ پر لگی تھی۔

اور ان سب سے بڑی الجھن یہ تھی کہ ورلڈ کپ سپر لیگ کے ٹیبل میں پاکستان جہاں آن کھڑا ہوا تھا، وہاں سے ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنے کے لیے بھی اگر مگر کا سلسلہ شروع ہونے کو تھا۔ یہ کیسی ہزیمت تھی کہ رواں ون ڈے سپر لیگ سائیکل میں پاکستان کی کارکردگی محض زمبابوے اور آئرلینڈ سے ہی بہتر تھی۔

مگر بھلا ہوا کہ شاہین شاہ آفریدی بھی واپس آ گئے اور حسن علی کو بھی آرام دے دیا گیا اور یوں پاکستانی ٹیم کا بنیادی توازن درست ہو گیا۔ ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ اگرچہ مشکل ضرور تھا مگر شاہین کی ابتدائی کامیابی نے ہی وہ متوقع مجموعہ آسٹریلیا کی رسائی سے دور کر دیا جو اس پچ کے شایانِ شان ہوتا۔

جدید ون ڈے کرکٹ کے تقاضوں کے اعتبار سے یہ ایک اچھی پچ تھی۔ گیند کھل کر بلے پہ آ رہا تھا، آؤٹ فیلڈ تیز تھی اور بولرز کے لیے غلطی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر تھی۔ جہاں لینتھ ذرا پیچھے رہ گئی یا لائن ذرا آف سٹمپ سے باہر ہوئی، وہاں باؤنڈری یقینی تھی۔

فنچ

،تصویر کا ذریعہPCB

لیکن پاکستان نے ابتدائی اوورز اور ڈیتھ اوورز میں دانشمندانہ بولنگ کی۔ جہاں آسٹریلیا کا متوقع مجموعہ چار سو کے لگ بھگ تھا، وہاں پاکستان انھیں 350 سے بھی کم پہ روکنے میں کامیاب رہا۔ شاہین شاہ آفریدی نے بولنگ اٹیک کے قائد کا کردار بخوبی نبھایا۔

مگر پھر بھی یہ مجموعہ پاکستانی بیٹنگ لائن کے لیے کسی ہمالیہ سے کم نہیں تھا۔ ایسا بھاری بھرکم ہدف پاکستان نے ون ڈے کرکٹ میں آج تک حاصل نہیں کیا تھا۔ اور پچھلے میچ میں جس طرح سے پاکستان نے بیٹنگ کی تھی، یہاں فتح کی امید خواب و خیال سی ہی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ماڈرن ون ڈے کرکٹ میں بیٹنگ لائن کا طریقہ وارادات اوپر سے حملہ کرنا ہوتا ہے۔ اب وہ دن گزر چکے کہ وکٹیں ہاتھ میں رکھ کر انتظار کیا جاتا رہے۔ اب کامیاب ترین ٹیمیں وہی ہیں جو پہلے پاور پلے میں ستر کے لگ بھگ رنز بنا لیتی ہیں۔

پاکستان مگر اسی پرانی ڈگر پہ چل رہا تھا کہ دھیرے دھیرے اننگز بڑھائی جائے اور پھر آخری اوورز میں ان بچائی ہوئی وکٹوں کا فائدہ اٹھا کر مار دھاڑ کی جائے۔ لیکن یہ کلیہ اب زیادہ کامیاب نہیں ہوا کرتا۔ سو، اپنی عزت، وقار اور بھرم کے ساتھ ساتھ سیریز بھی بچانے کے لیے پاکستان کو اپنی بیٹنگ اپروچ میں یہ انقلابی بدلاؤ لانا ضروری تھا۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اور اس تبدیلی کی پہلی جھلک ہمیں تب ملی جب تیسرے ہی اوور میں امام الحق نے قدموں کا استعمال کرتے ہوئے کریز سے نکل کر ایبٹ کو چھکا جڑا۔

اس کے بعد فخر زمان ہوں کہ بابر اعظم، خوشدل ہوں کہ افتخار، سبھی کی بیٹنگ میں یہی اپروچ دیکھنے کو ملی۔ جہاں جہاں خطرہ مول لینا ضروری ہوا، ان بلے بازوں نے جرات کا مظاہرہ کیا۔ سکور کارڈ دیکھیے تو یقین ہی نہیں ہوتا کہ یہ وہی ٹیم ہے۔ ایک بلے باز کے سوا جتنے بھی کریز پہ آئے، کسی کا بھی سٹرائیک ریٹ سو سے کم نہیں تھا۔

اور ماڈرن ون ڈے کرکٹ میں جیت کا اکلوتا گُر یہی ہے۔ پاکستان نے بالکل بجا موقع پہ یہ گر سیکھ کر نہ صرف سیریز کو زندہ کیا بلکہ ورلڈ کپ سپر لیگ کے لیے بھی امیدیں روشن کر دیں۔