پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا تیسرا ٹیسٹ: سیریز کے آخری روز پاکستان کو جیت کے لیے 278 رنز آسٹریلیا کو 10 وکٹیں درکار

اوپنرز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سٹیو سمتھ نے دن کے آخری اوور میں سلپ میں ایک اور آسان کیچ ڈراپ کیا اور یوں پاکستانی اوپنرز نے 73 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت کے ساتھ دن کا اختام کیا۔

ایک ایسی ٹیسٹ سیریز جس میں 'مردہ پچز' پر ہی تمام توجہ مرکوز رہی ہے، 14 دنوں کے کھیل کے بعد اب بالآخر اس کا فیصلہ آخری ٹیسٹ کے آخری دن ہونے جا رہا ہے۔

پاکستان کو جیت کے لیے مزید 94 اوورز میں 278 رنز درکار ہیں اور آسٹریلیا بدستور 10 وکٹوں کے درپے۔

آسٹریلوی سپنروں کو ہر گزرتے اوور کے ساتھ پچ سے مزید سپن مل رہی ہے جبکہ فاسٹ بولر ایک مرتبہ پھر تیسرے دن والی ریورس سوئنگ کی تلاش میں ہیں۔

ایسے میں یہ کہنا درست ہو گا کہ اس وقت بھی میچ میں آسٹریلیا کا پلڑہ بھاری ہے اور پاکستان کی ایک دو وکٹیں گرتے ہی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔

راولپنڈی ٹیسٹ میچ میں دو سنچریاں بنانے والے امام الحق اس وقت 42 رنز جبکہ عبداللہ شفیق 27 رنز بنا کر کریز پر موجود ہیں اور پانچویں دن کے کھیل پر تمام نظریں مرکوز ہیں۔

اوپنرز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

قدافی سٹیڈیم میں جاری تیسرے ٹیسٹ کے چوتھے روز آسٹریلیا نے اپنے گذشتہ شب کے 11 رنز بغیر کسی نقصان سے بیٹنگ شروع کی اور اسے پاکستان پر 134 رنز کی برتری حاصل تھی۔

پہلے سیشن میں آسٹریلوی اوپنرز نے بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نصف سنچریاں سکور کیں اور کھانے کے وقفے سے کچھ ہی دیر قبل اوپنر ڈیوڈ وارنر 51 رنز بنا کر شاہین آفریدی کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

تاہم پاکستان اس وکٹ کے بعد پاکستان آسٹریلیا کی بیٹنگ کو ڈھیر کرنے میں ناکام رہا اوپنر عثمان خواجہ نے اس سیریز میں اپنی عمدہ فارم برقرار رکھتے ہوئے ایک اور سنچری بنا کر آسٹریلیا کی برتری بڑھا کر 350 رنز کر دی۔

سٹیو سمتھ 17 جبکہ مارنس لبوشین نے 36 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ ٹریوس ہیڈ نے 11 رنز کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کی جانب سے نعمان علی، نسیم شاہ، اور شاہین آفریدی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

پاکستانی اوپنرز امام الحق اور عبداللہ شفیق جب بیٹنگ کے لیے آئے تو ہر کسی کے ذہن میں گذشتہ روز کا تیسرا سیشن چل رہا تھا جس میں پاکستان نے صرف 41 رنز کے عوض سات وکٹیں گنوا دی تھیں۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم پاکستانی اوپنرز عبداللہ شفیق کا کیچ جہاں سٹیو سمتھ سے ڈراپ ہوا، وہیں ڈی آر ایس کے باعث وہ اپنے خلاف دیے گئے ایک فیصلے کو تبدیل کروانے میں کامیاب رہے۔

دونوں اوپنروں نے سپنرز کے سامنے قدموں کا استعمال کیا اور فاسٹ بولرز کو قدرے محتاط انداز میں کھیلا اور جیسے جیسے لاہور میں دن ڈھلنے لگا، ویسے ہی نیتھن لائن کی گیند مزید ٹرن کرنے لگی۔

دونوں ہی اوپنرز نے نوجوان لیگ سپنر مچل سویپسن کو نشانہ بنایا اور ان کی بولنگ پر چار کی اوسط سے رنز سکور کرتے رہے۔

تاہم پاکستان کو اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ ان کے بیٹنگ لائن اپ میں ساتویں نمبر سے ہی بولرز شروع ہو جاتے ہیں اس لیے بیٹنگ کو خاصے محتاط انداز میں کھیلنا ہو گا کیونکہ نئے آنے والے بلے بازوں کے لیے اس پچ پر کھیلنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@msaliknoman

’خان صاحب کا تو علم نہیں لیکن آسٹریلیا نے اپنا پتا پھینک دیا ہے‘

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ آسٹریلیا نے کمال دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اننگز ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کچھ صارفین اسے پاکستان کے لیے ایک بہترین موقع بھی قرار دے رہے ہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’خان صاحب کا تو علم نہیں لیکن آسٹریلیا نے اپنا پتا پھینک دیا ہے، اب پاکستان اس نہلے پہ دہلا مار پاتا ہے یا نہیں یہ دیکھنا ہو گا۔‘

اسی طرح کچھ صارفین کی جانب سے سٹیو سمتھ پر بھی تنقید کی گئی ہے جنھوں نے اس ٹیسٹ سیریز میں پہلی سلپ میں متعدد کیچ ڈراپ کیے ہیں۔ آج بھی دن کے آخری اوور کی آخری گیند پر انھوں نے اوپنر عبداللہ شفیق کا کیچ ڈراپ کر دیا۔ ان کے کراچی ٹیسٹ میں ڈراپ کیے گیے کیچوں کی بدولت پاکستان کو میچ ڈرا کرنے میں مدد ملی تھی۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’سمتھ ہمیں آپ سے پیار ہے، ایک اور کیچ ڈراپ، انھیں ستارہ امتیاز دے دو۔‘ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’سمتھ نے ایک اور کیچ ڈراپ کر دیا۔ مجھے آسٹریلیا کی جانب سے انھیں سلپ میں برقرار رکھنے کے حوالے سے خدشات ہیں۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@sudipto

ایک صارف نے لکھا کہ ’پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے کا شاندار موقع ملا ہے۔ کل آخری ٹیسٹ کا پانچواں دن ہو گا، دیکھتے ہیں قومی ٹیم کیا کر پاتی ہے۔