پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا تیسرا ٹیسٹ میچ: فواد عالم کا کھڑے ہونے کا انداز پھر زیر بحث، سٹارک کی رضوان کو کی گئی گیند کے چرچے

،تصویر کا ذریعہEPA
لاہور میں کھیلے جا رہے تیرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن آسٹریلیا کے فاسٹ بولروں نے میچ کے آخری گھنٹے میں انتہائی عمدہ بولنگ کرتے ہوئے صرف دس اوروں میں سات وکٹیں حاصل کر کے میچ پر آسٹریلیا کی گرفت مضبوط کر لی ہے۔
آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز میں 391 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں پاکستان کی ٹیم پہلی اننگز میں 268 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی ہے۔
یاد رہے کہ لاہور ٹیسٹ سے پہلے پاکستان اور آسٹریلیا کی درمیان راولپنڈی اور کراچی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ برابر ہوگئے تھے۔
پاکستان نے تیسرے دن کا کھیل 90 رنز کے سکور پر ایک کھلاڑی آؤٹ پر شروع کیا اور دونوں ناٹ آؤٹ بیٹسمینوں اظہر علی اور عبداللہ شفیق محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کے سکور میں اضافہ کرتے رہے۔
نوجوان کھلاڑی عبداللہ شفیق 81 رنز بنا کر سپنر نیتھن لائن کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ اظہر علی اور عبداللہ شفیق کی شراکت میں 150 رنز بنے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پاکستان آسٹریلیا کے 391 رنز کے جواب میں بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہو گا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
عبداللہ شفیق کے آؤٹ ہونے کے بعد کپتان بابر اعظم نے اظہر علی کے ساتھ مل کر ٹیم کے سکور کو آگے بڑھانا شروع کیا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
جب فاسٹ بولر پیٹ کمنز نے اپنی ہی گیند پر اظہر علی کا ایک انتہائی شاندار کیچ کر کے میچ میں اپنی دوسری وکٹ حاصل کی، تو پاکستان کی ٹیم کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فواد عالم کے وکٹ پر آنے کے بعد آسٹریلیا کی بولنگ اچانک انتہائی موثر لگنے لگی۔ فواد عالم کو آسٹریلین بولروں کو کھیلنے میں سخت مشکلات پیش آ رہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہEPA
فواد عالم جب 13 رنز بنا کر مچل سٹارک کی گیند پر بولڈ ہوئے تو اس کے بعد پاکستان کی وکٹیں خزاں کے پتوں کی طرح جھڑنے لگیں اور صرف دس اوروں میں سات وکٹیں گر گئیں۔
جب تک بابر اعظم وکٹ پر رہے تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پاکستان آسٹریلیا کے سکور کے قریب پہنچ جائے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا اور ایک اینڈ سے مسلسل وکٹیں گرتی رہیں۔ بابر اعظم 67 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستانی بیٹسمین آسٹریلین فاسٹ بولروں کی ریورس سوئنگ کا مقابلہ نہ کر سکے۔ فاسٹ بولر مچل سٹارک نے جنھوں نے پاکستان کی اننگز کی تباہی کا آغاز کیا، چار اور کپتان پیٹ کمنز نے پانچ وکٹیں لے کر ٹیم کی پوزیشن کو انتہائی مضبوط بنا دیا ہے۔
تیسرے دن کے اختتام پر آسٹریلیا نے اپنی دوسری اننگز میں بغیر کسی نقصان کے 11 رنز بنائے اور آسٹریلیا کی مجموعی برتری 134 رنز کی ہو چکی ہے۔
رضوان اس گیند کا کچھ نہیں کر سکتے تھے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
سٹارک نے رضوان کو ایک انتہائی عمدہ گیند پر بولڈ کیا جسے تجزیہ کاروں کی جانب سے اور سوشل میڈیا پر بھی خوب سراہا جا رہا ہے اور اس کے کلپس شیئر کیے جا رہے ہیں۔ رضوان صرف ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔
کرکٹ تجزیہ کار عامر ملک نے لکھا کہ رضوان ’اس کا کچھ نہیں کر سکتے تھے‘۔
عاطف نواز نے آسٹریلوی بولرز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کی وکٹوں میں سے سب سے عمدہ سٹارک کی رضوان کو کی گئی وہ گیند تھی جس پر وہ آؤٹ ہوئے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
رضوان سے پہلے فواد عالم کریز پر مشکل میں نظر آئے اور صرف 13 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ ان کا نام پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔ دوسری جانب میچ کے دوران فواد عالم کے کریز میں کھڑے ہونے کے انداز پر ایک مرتبہ پھر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ فواد کے کھڑے ہونے اور بلا پکڑنے کے غیر روایتی انداز پر اکثر تبصرے کیے جاتے ہیں۔
احمر راجہ نے لکھا کہ ’فواد نے اس سیریز میں کوالٹی بولنگ کے سامنے مایوس کیا ہے۔‘
ہادیل عبید نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا ہم کبھی ان کے انداز پر تبصرہ کرنے سے تھکیں گے۔ ’سال ہے 2030۔ کمنٹیٹر آج بھی فواد عالم کے سٹانس پر بات کر رہے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
فرید خان نے لکھا کہ ’فواد عالم نے اس سے زیادہ مشکل کنڈیشنز میں کھیلا ہے اور وہ زیادہ مضبوطی سے واپس آئیں گے۔ یہ کھیل کے بہترین کھلاڑئوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
حماد نامی صارف نے ایک میم شیئر کی جس میں فواد عالم کے آؤٹ ہونے اور اس کے بعد رضوان کے کریز پر آنے سے متعلق جذبات کی عکاسی کے لیے بطور میزبان پی ایس ایل میں خدمات سرانجام دینے والی ایرن ہالینڈ کے تاثرات کا استعمال کیا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4








