پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا ون ڈے سیریز پر سمیع چوہدری کا کالم: بابر اعظم کو اپنے ’خول‘ سے نکلنا ہو گا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ون ڈے رینکنگ میں بابر اعظم دنیا کے بہترین بلے باز ہیں۔ ان سے پہلے کرکٹ کے چار بہترین بلے باز کوہلی، روٹ، سمتھ اور ولیمسن تھے۔
بابر کو دیکھنے کے بعد ناصر حسین نے کہا کہ یا تو ان چار میں سے کسی ایک کو ہٹا کر اس کی جگہ بابر کا نام لکھا جائے یا پھر بہترین کے اس گروپ ’فیبولس فور‘ کو ’فیبولس فائیو‘ میں بدل دیا جائے۔
بطور بلے باز بابر اعظم کی صلاحیتوں میں کسی کو کوئی شک نہیں۔ ان کا متوازن ’سٹانس’ ان کے بلے سے نکلے ہر سٹروک کو ایسا دلکش بناتا ہے کہ داد دیے بغیر رہا نہیں جاتا۔ بالخصوص ان کا ’لیٹ کٹ‘ تو خود خوبصورتی کی ایک منفرد مثال ہے اور بطور کپتان ان کا ریکارڈ دیکھا جائے تو اگرچہ یہ بہت خوش نما نہیں مگر یہ ایسا کوئی بدنما بھی نہیں۔
گو بابر اعظم کے آن فیلڈ فیصلوں پر ہمیشہ بحث کی گنجائش باقی رہتی ہے مگر یہ بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ وہ جارحیت کو ترجیح دیتے ہیں اور مثبت کرکٹ کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حالیہ پی ایس ایل سے پہلے تک بابر اعظم بطور کپتان اپنی حیثیت کافی حد تک ثابت کر چکے تھے۔ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی، انڈیا کے خلاف فتح اور پھر بنگلہ دیش کے خلاف کلین سویپ کے بعد بابر کے ستارے چمک رہے تھے لیکن پھر پی ایس ایل آ گئی۔
بابر اعظم کو پہلی بار پی ایس ایل میں بھی کپتانی دی گئی۔ وجہ یقیناً حالیہ کارکردگی ہی تھی مگر کراچی کنگز انھیں کپتانی تھمانے کے جوش میں ٹیم دینا ہی بھول گئی۔ جس طرح کا بے ہنگم جتھہ ان کے زیرِ انتظام تھا، اس کی قیادت کرتے کرتے بابر اعظم خود گہناتے چلے گئے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
یہ یقیناً پی ایس ایل کا ہی ’ہینگ اوور‘ تھا کہ کراچی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بابر اعظم ایسے دفاعی خول میں جکڑے نظر آئے کہ ریورس سوئنگ ہونے والی پرانی گیند سپنرز کے ہی بیچ گھماتے رہے۔ لاہور ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں بابر اعظم ایک اوسط سے کپتان نظر آئے جس کی کرکٹنگ فراست قابلِ بحث تھی۔
اس سارے سیاق و سباق میں کل سے قذافی سٹیڈیم میں شروع ہونے والی ون ڈے سیریز بابر اعظم کے لیے ایک نئی آزمائش ہو گی جہاں انھیں نہ صرف اپنی قیادت کی حیثیت ثابت کرنا ہو گی بلکہ ون ڈے سپر لیگ کے پوائنٹس ٹیبل میں پاکستان کی درجہ بندی بھی بہتر بنانا ہو گی جہاں فی الوقت پاکستان دسویں نمبر پر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
اور بابر کے لیے سب سے بڑی دقت شاداب خان کی عدم دستیابی ہے جو ابھی تک پی ایس ایل کے زخموں کو سہلا رہے ہیں۔ اگرچہ پاکستان کے پاس عثمان قادر کی شکل میں ایک اچھا لیگ سپنر دستیاب ہو گا مگر ایڈم زیمپا کی مہارت اور تجربے کا مقابلہ کرنا ایک چیلنج ہو گا۔
حالانکہ آسٹریلوی ٹیم بھی اپنے تمام سرکردہ کھلاڑیوں سے محروم ہو گی مگر یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ان کا ثانوی انتخاب بھی پاکستان کے لیے ایک کڑا ہدف ہو گا کیونکہ پچھلے سال ون ڈے سیریز میں پاکستان جس انگلش ٹیم کے ہاتھوں کلین سویپ کی خفت سے دوچار ہوا تھا، وہ بھی انگلینڈ کا ثانوی انتخاب تھا۔

،تصویر کا ذریعہPCB
ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے ہنگاموں نے کرکٹ کیلنڈر کو اس قدر مصروف کر رکھا ہے کہ ون ڈے میچز کی گنجائش ہی نہیں بن پاتی۔ ایسے میں اگر خال خال کہیں کسی ون ڈے سیریز کی شنید پڑے تو کوئی کوڑی لانا مشکل ہوتی ہے کیونکہ فارمیٹ میں کسی کی فارم کا حالیہ ڈیٹا دستیاب نہیں ہوتا۔
لیکن یہ بہرحال حقیقت ہے کہ پریشانی آسٹریلوی کیمپ میں زیادہ ہو گی جو نہ صرف اپنے بہترین انتخاب سے محروم ہے بلکہ کپتان ایرون فنچ کی حالیہ فارم بھی ایک الجھن ہے جبکہ ٹاپ آرڈر کے چنیدہ کھلاڑی دستیاب نہیں ہوں گے تو فنچ کی ذمہ داری بڑھ جائے گی۔
بابر اعظم اگر یہ سیریز جیت کر ٹیسٹ سیریز کا حساب چکانا چاہتے ہیں تو انھیں اپنے خول سے نکل کر کپتانی کرنا ہو گی۔ آسٹریلوی کرکٹ کے مائنڈ سیٹ کو مات دینے کا ایک ہی رستہ ہے کہ بھرپور جارحیت سے مقابلہ کیا جائے کیونکہ سٹار کاسٹ کی غیر حاضری میں پاکستان کے لیے یہ نادر موقع ہے کہ وہ حریف پر اپنی پوری اتھارٹی ثابت کرے۔
اور سپنرز کے سوا، پاکستان کے لیے اس سیریز میں کلیدی کردار شاہین آفریدی کو ادا کرنا ہو گا۔ اگر وہ نوآموز آسٹریلوی ٹاپ آرڈر میں کوئی دراڑ ڈالنے میں کامیاب ہو گئے تو بابر اعظم کا خون سیروں بڑھ جائے گا۔













