راولپنڈی ٹیسٹ: امام الحق کی پہلی ٹیسٹ سنچری، پاکستان کا 245 رنز پر ایک کھلاڑی آؤٹ

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1998 میں آسٹریلیا کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ کے آغاز پر جب پاکستانی ٹیم کے کوچ جاوید میانداد سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ آپ کتنے سپنرز کے ساتھ میدان میں اتریں گے تو ان کا حیران کن جواب کچھ اس طرح تھا ’میں آپ کو کیوں بتاؤں؟ ہوسکتا ہے کہ ہم تین سپنرز کے ساتھ کھیلیں، ہوسکتا ہے میں پورے گیارہ سپنرز کھلا دوںʹ۔

جاوید میانداد نے اس ٹیسٹ میں تین سپنرز مشتاق احمد، ثقلین مشتاق اور محمد حسین کھلائے تھے لیکن ان تینوں کو آسٹریلیا کی واحد اننگز میں صرف چھ وکٹیں مل سکیں اور ان کے مقابلے میں آسٹریلوی ٹیم میں شامل واحد سپنر سٹورٹ مک ِگل نے اکیلے ہی میچ میں نو وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کو اننگز اور 99 رنز کی ہزیمت سے دوچار کردیا تھا۔

آج 24 سال گزر جانے کے بعد بھی پاکستان کی حکمت عملی راولپنڈی ٹیسٹ میں اسی انداز کی نظر آئی ہے یعنی صرف دو فرنٹ لائن فاسٹ بولرز شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کے ساتھ تین سپنرز میدان میں اتارے گئے ہیں جن میں دو مستند سپنرز نعمان علی اور ساجد خان کے علاوہ تیسرے سپنر افتخار احمد ہیں جنہیں بیٹنگ مضبوط کرنے کے مقصد کے تحت ٹیم میں جگہ دی گئی ہے۔

پاکستان کا تین سپنرز کھلانے کا فیصلہ کیا نتیجہ لائے گا؟ ابھی کہنا قبل ازوقت ہے۔

نئی اوپننگ جوڑی اور سنچری شراکت

پاکستان نے راولپنڈی ٹیسٹ کے پہلے دن ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 245 رنز بنائے اور اس کی صرف ایک وکٹ گری ہے۔

امام الحق 132 اور اظہر علی 64 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں۔ یہ دونوں دوسری وکٹ کی شراکت میں 140 رنز کا اضافہ کرچکے ہیں۔

کھیل کے آخری سیشن میں رنز کی رفتار خاصی دھیمی پڑگئی تھی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امام الحق کے چوکے کی مدد سے سنچری مکمل کرنے کے بعد اگلا چوکا 55 گیندوں کے بعد لگا۔

آسٹریلوی بولرز کے لیے پہلا دن تھکا دینے والا رہا جس میں وہ 90 اوورز کی بولنگ کے بعد صرف ایک وکٹ حاصل کرپائے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں مجموعی طور پر 1089 وکٹیں حاصل کرنے والے چار ریگولر بولرز پیٹ کمنز، مچل سٹارک، جوش ہیزل ووڈ اور نیتھن لائن کے علاوہ ٹراوس ہیڈ، سٹیو سمتھ، مارنس لبوشین اور کیمرون گرین کو بھی بولنگ کرنی پڑگئی۔

دوسری نئی گیند کے ساتھ کیے گئے آٹھ اوورز بھی آسٹریلوی ٹیم کو کوئی وکٹ نہ دلاسکے۔

بنگلہ دیش میں پاکستان نے عبداللہ شفیق اور عابد علی کے ساتھ اننگز شروع کی تھی لیکن عابد علی کے عارضہ قلب میں مبتلا ہوکر ٹیم سے الگ ہونے کے بعد اب آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں عبداللہ شفیق کے ساتھ امام الحق کو لایا گیا ہے۔

امام الحق نے آخری بار ٹیسٹ میچ دسمبر 2019 میں آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ میں کھیلا تھا۔ گزشتہ قائداعظم ٹرافی میں ایک ڈبل سنچری اور ایک سنچری کی مدد سے بنائے گئے 531 رنز کی بدولت انہوں نے واپسی کا اپنا کیس بہت مضبوط کرلیا تھا۔

سکواڈ میں شامل شان مسعود بھی واپسی کے لیے اتنے ہی مضبوط دعویدار تھے۔ انہوں نے بھی قائداعظم ٹرافی میں تین سنچریوں اور ایک نصف سنچری کی مدد سے 502 رنز بنائے تھے اور ان کی موجودہ فارم بھی پی ایس ایل میں بہت زبردست دکھائی دی لیکن امام الحق کو غالباً اس لیے فوقیت دی گئی کیونکہ وہ بنگلہ دیش کے دورے میں ٹیم کا حصہ تھے۔

امام الحق اور عبداللہ شفیق نے خاموش لیکن پراعتماد انداز سے آغاز کیا اور پھر آہستہ آہستہ سکور کی رفتار کو بڑھاتے گئے۔ ان دونوں نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 105 رنز کا اضافہ کیا۔ یہ آخری تین ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی تیسری اوپننگ سنچری پارٹنرشپ ہے جس میں عبداللہ شفیق شریک رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بنگلہ دیش کے خلاف چٹاگانگ ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں عبداللہ شفیق اور عابد علی نے پہلی وکٹ کے لیے سو سے زائد رنز کا اضافہ کیا تھا۔ وہ عبداللہ شفیق کا ڈیبیو ٹیسٹ تھا۔

کھانے کے وقفے کے بالکل قریب آکر پاکستان نے پہلی وکٹ گنوائی جب نیتھن لائن نے کپتان پیٹ کمنز کی مدد سے عبداللہ شفیق کو 44 رنز کے انفرادی سکور پر پویلین واپس بھیج دیا۔ نیتھن لائن کی یہ آسٹریلیا سے باہر 200 ویں ٹیسٹ وکٹ تھی۔

امام الحق نے ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کے سنہری موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ انہوں نے ہر بولر کو بڑے اعتماد سے کھیلا اور اپنے کریئر کے بہترین سکور کو عبور کرگئے ۔اس سے قبل انہوں نے آسٹریلیا ہی کے خلاف دبئی میں 76 رنز سکور کیے تھے۔

امام الحق نے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری 283 منٹ میں 200 گیندوں پر 13 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے مکمل کی۔

اظہر علی نے اپنے مخصوص انداز میں سیٹ ہونے میں وقت لیا لیکن موقع ملتے ہی وہ گیند کو باؤنڈری کی شکل دکھانے سے نہیں رکے۔

اظہر علی نے آخری مرتبہ مئی 2021 میں زمبابوے کے خلاف ہرارے ٹیسٹ میں سنچری بنائی تھی جس کے بعد 9 اننگز میں یہ ان کی دوسری نصف سنچری ہے۔

راڈنی مارش کے سوگ میں سیاہ پٹیاں

راولپنڈی ٹیسٹ کے آغاز سے قبل ایڈیلیڈ سے یہ افسوسناک خبر آئی کہ اپنے دور کے عظیم وکٹ کیپر راڈنی مارش 74 برس کی عمر میں وفات پاگئے ہیں۔ وہ دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے ہسپتال میں زیرعلاج تھے۔

آسٹریلوی ٹیم کے کھلاڑیوں نے راڈنی مارش کے سوگ میں بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں۔

راڈنی مارش نے 96 ٹیسٹ میچوں میں جارحانہ بیٹنگ کی بدولت تین ہزار سے زائد رنز بنانے کے علاوہ 355 کیچز اور سٹمپڈ کیے تھے جو اس وقت عالمی ریکارڈ تھا۔ راڈنی مارش اور ڈینس للی کی دوستی مثالی تھی۔ ایک ساتھ کھیلتے ہوئے انہوں نے کئی یادیں چھوڑی ہیں۔ ستر اور اسی کے عشرے میں بین الاقوامی کرکٹ میں ’کاٹ مارش بولڈ للیʹ کا جملہ مشہور رہا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں مارش نے للی کی بولنگ پر 95 کیچ لیے تھے۔

عثمان خواجہ اپنا ہی گھر سمجھو

راولپنڈی ٹیسٹ کے پہلے دن پنڈی سٹیڈیم میں تماشائیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ یہ سب چوبیس سال بعد آسٹریلوی ٹیم کے پاکستان آکر کھیلنے پر بہت زیادہ پرجوش دکھائی دے رہے تھے۔ ان میں کچھ نے دلچسپ فقروں والے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ ایک میں آسٹریلوی ٹیم کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا ʹاگلی مرتبہ چوبیس سال نہ لگا دینا'۔

ایک پلے کارڈ پر عثمان خواجہ کی تصویر کے ساتھ لکھا تھا ’عثمان خواجہ اپنا ہی گھر سمجھوʹ ۔

یاد رہے کہ آسٹریلوی اوپنر عثمان خواجہ راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے اور جب وہ چار سال کے تھے اس وقت ان کے والدین نے آسٹریلیا میں سکونت اختیار کرلی تھی۔