آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پی ایس ایل 7 پر سمیع چوہدری کا کالم: ’شاہین آفریدی کے بولر بازی لے اڑے‘
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
ہفتوں طویل کسی ٹورنامنٹ میں اگر کوئی سٹار کھلاڑی اپنی زندگی کی بہترین فارم میں ہو تو ایونٹ میں اس کی ٹیم کا سفر بہت سہل ہو جاتا ہے کہ ایک کھلاڑی کی فارم کے بل پر ہی پوری ٹیم ٹائٹل کے عین قریب آ جاتی ہے۔
سنہ 2015 کے ورلڈ کپ میں کیوی ٹیم نے شاندار کارکردگی دکھائی۔ کپتان برینڈن میکلم بہترین فارم میں تھے اور ہر میچ کے آغاز میں ہی اپنی ٹیم کو ایسا برق رفتار آغاز مہیا کر دیا کرتے تھے جس کے بعد جیت کا حصول ٹیم کے لیے کچھ زیادہ دشوار نہیں رہتا تھا۔
اور ان کی اسی فارم کی بنا پر کیوی ٹیم نے اپنا پہلا ورلڈ کپ فائنل بھی کھیلا مگر آسٹریلوی بولنگ اٹیک نے اپنے سارے دامِ تزویر ان کے گرد بچھا دیے اور فائنل میں ان کی وکٹ نہایت سستے میں حاصل کر لی۔ میکلم کے بعد کیوی بیٹنگ کا شیرازہ بکھر گیا اور ٹرافی کا خواب خواب ہی رہ گیا۔
ملتان سلطانز کے لیے بھی اس سیزن میں محمد رضوان کی فارم نے بنیادی کردار ادا کیا اور دوسرے کنارے سے شان مسعود کی کارکردگی نے تو سونے پر سہاگہ کر دیا۔
جبھی ملتان پی ایس ایل کی تاریخ میں لیگ مرحلے کی کامیاب ترین ٹیم بن کر اُبھری۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر اس روشن داستان کا تاریک پہلو یہ تھا کہ محمد رضوان اور شان مسعود ہی اننگز کا اتنا بوجھ اٹھا رہے تھے کہ سچ پوچھیے تو مڈل اور لوئر مڈل آرڈر پر کبھی کوئی بھاری ذمہ داری پڑی ہی نہیں۔
ٹم ڈیوڈ اور رائلی روسو نے بھی بہترین ٹورنامنٹ کھیلا مگر ان پر کبھی بھی اننگز کی تعمیرِ نو کی ذمہ داری نہیں پڑی۔
شان مسعود اور رضوان آغاز اچھا کرتے اور جاتے تک ایسا پلیٹ فارم مہیا کر جاتے جہاں آ کر ڈیوڈ، روسو اور خوشدل کے لیے صرف زور سے بلا گھمانا ہی مقصود رہتا، اننگز کا مومینٹم طے کرنے کا بوجھ نہیں پڑتا تھا۔
مگر فائنل جیسے اہم ترین پریشر میچ میں جب شان مسعود اور رضوان کا اوپننگ سٹینڈ توقعات کے برعکس جلد ٹوٹا تو سلطانز کا مڈل آرڈر گڑبڑا گیا اور یہ سمجھ ہی نہ پایا کہ اب یہاں سے کس رُخ کو جائیں کہ جیت ہاتھ لگے۔
ٹاس پر رضوان نے کہا تھا کہ یہ پریشر کا مقابلہ ہے اور جو ٹیم پریشر کو جتنا بہتر جھیلے گی، وہی جیتے گی۔ اور ایسا ہی ہوا۔ ملتان کی بیٹنگ لائن اس میچ کے دباو کو سہہ نہیں پائی اور ٹائٹل کا دفاع خواہش ہی رہ گیا۔
ایسا نہیں کہ لاہور کی بیٹنگ دباؤ میں نہیں آئی۔ جب فخر زمان جلد آؤٹ ہوئے تو لاہور کے ڈریسنگ روم میں بھی اعصاب تن گئے۔ پاور پلے میں لاہور کی اننگز بے سمت اور لاحاصل سی رہی۔
اگرچہ عمومی دانش یہی ہے کہ پاور پلے میں بہترین کھیل دکھانے والی ٹیم میچ پر زیادہ گرفت حاصل کیا کرتی ہے مگر یہاں ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ مڈل اوورز میں محمد حفیظ نے جو دباؤ ملتان کے بولرز پر واپس منتقل کیا، اس کا وہاں سے کوئی جواب نہ آ پایا۔
اور پھر ڈیوڈ ویزے نے جب پچھلے میچ کی اپنی اننگز کو ہو بہو آٹھ گیندوں پر اٹھائیس رنز سے دہرایا تو سلطانز کے امکانات کا دائرہ مزید محدود ہو چلا۔ کیونکہ یہ وکٹ اپنے اندر 190 کے لگ بھگ رنز رکھتی تھی اور اننگز بھر ملتان کی بولنگ ایسی رہی کہ لاہور خاصا پیچھے رینگتا نظر آیا۔
لیکن آخری پانچ اوورز کا جیسا استعمال ہیری بروک اور ڈیوڈ ویزے نے کیا، اس کے بعد ملتان کے لیے واحد امید یہی رہ گئی تھی کہ رضوان اور شان ایک پر اعتماد آغاز فراہم کرتے جو لاہور کی بولنگ پر کچھ دباؤ ڈال پاتا۔
مگر جس طرح سے اس کلیدی مقابلے میں شاہین آفریدی نے اپنے وسائل کا استعمال کیا، ان کے بولرز بازی لے اڑے۔