آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شاہین آفریدی کے چھکے میچ کو سُپر اوور میں لے گئے، لیکن زلمی نے قلندرز کو ہرا دیا
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی کو دنیا ایک ورلڈ کلاس بولر کے طور پر جانتی ہے لیکن پیر کی شب قذافی سٹیڈیم میں شائقین کو ان کا نیا روپ اس وقت دیکھنے کو ملا جب وہ اپنی جارحانہ بیٹنگ کے ذریعے لاہور قلندرز کو یقینی شکست سے بچاتے ہوئے میچ کو سُپر اوور میں لے گئے۔ تاہم پشاور زلمی نے اس میچ میں فتح حاصل کی۔
یہ اس پی ایس ایل میں پہلا میچ ہے جس کا فیصلہ سُپر اوور میں ہوا ہے۔ لیکن پی ایس ایل میں اب تک چار میچز سُپر اوور تک گئے ہیں اور ان میں تین میچز لاہور قلندرز کے ہیں۔
پشاور زلمی کے خلاف میچ کے آخری اوور میں لاہور قلندرز کو جیتنے کے لیے 24 رنز درکار تھے اور کوئی بھی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ ٹیل اینڈر شاہین آفریدی انہونی کو ہونی میں بدل سکتے ہیں لیکن محمد عمر کی گیندوں پر ان کے تین چھکوں اور ایک چوکے نے میچ کو ٹائی کر دیا۔
سُپر اوور میں کیا ہوا؟
سپر اوور میں لاہور قلندرز کے بیٹسمین فخر زمان اور ہیری بروک وہاب ریاض کی عمدہ بولنگ پر صرف 5 رنز بنانے میں کامیاب ہوسکے۔
پشاور زلمی کو جیتنے کے لیے صرف 6 رنز بنانے تھے۔ شعیب ملک اور محمد حارث بیٹنگ کے لیے آئے۔ شعیب ملک نے شاہین آفریدی کو لگاتار دو چوکے لگاکر زلمی کو جیت دلادی۔
اب کس کا مقابلہ کس سے؟
بدھ کے روز ہونے والے کوالیفائر میں دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز کا مقابلہ لاہور قلندرز سے ہوگا جو بہتر رن ریٹ پر لیگ میں دوسرے نمبر پر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پشاور زلمی کی ٹیم جو پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر رہی جمعرات کو پہلے ایلیمنیٹر میں اسلام آباد یونائٹڈ کا سامنا کرے گی۔اسلام آباد کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر چوتھے نمبر پر رہی ہے۔
پشاور زلمی پی ایس ایل کی وہ واحد ٹیم ہے جو ہر سال پلے آف تک پہنچنے میں کامیاب رہی ہے۔
لاہور قلندرز پی ایس ایل کی واحد ٹیم ہے جو ابھی تک چیمپئن نہیں بنی ہے۔
زلمی کی بیٹنگ میں بڑی اننگز غائب
پشاور زلمی نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ ضرور کی لیکن اس کی ٹاپ آرڈر بیٹنگ قلندرز کے رحم وکرم پر رہی اور وہ مقررہ بیس اوورز میں 7 وکٹوں پر 158 تک پہنچ پائی۔
پچھلے میچ کے مین آف دی میچ محمد حارث صرف پانچ گیندوں پر 6 رنز بناکر حارث رؤف کی وکٹ بنے۔
حضرت اللہ ززئی کا بیٹ ابھی تک خاموش ہے اور وہ اپنی شہرت کے مطابق اس پی ایس ایل میں ایک بھی بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہیں ہوپائےہیں ۔ اس بار انھوں نے اپنی وکٹ محمد حفیظ کی پہلی ہی گیند پر انہی کے ہاتھوں کیچ کی صورت میں 20 رنز پر گنوائی۔
کامران اکمل نے شاہین آفریدی کو ایک چھکا اور ایک چوکا ضرور رسید کیا لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ ان کا وقت بھی اب گزرتا جارہا ہے۔ 18 کے انفرادی اسکور پر آسٹریلوی اسپنر فواد احمد نے انہیں بولڈ کردیا۔
51 رنز پر تین وکٹوں کے گرنے کے بعد شعیب ملک اور حیدر علی اسکور میں 60 رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن چودہویں اوور میں حیدرعلی کے ایک چوکے اور ایک چھکے کے باوجود فواد احمد شعیب ملک کی اہم وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئےجنہوں نے32 رنز بنائے۔
فواد احمد افغانستان کے راشد خان کی جگہ لاہور قلندرز میں شامل کیے گئے ہیں۔
حیدرعلی نے اپنے کریئر کی ابتدا میں اپنے ٹیلنٹ سے جتنا متاثر کیا تھا اب وہ اپنی غیرمستقل مزاجی سے اس سے کہیں زیادہ مایوس کررہے ہیں۔شعیب ملک کے آؤٹ ہونے کے بعد ان پر بڑی ذمہ داری عائد ہوگئی تھی لیکن انہوں نے 25رنز پر اپنی وکٹ ڈیوڈ ویزے کودے ڈالی جس کا کریڈٹ شاہین آفریدی کے سر جاتا ہے جنہوں نے ایکسٹرا کور پر گیند کو خوبصورتی سے کیچ کرلیا۔
وہاب ریاض نوبال پر ملنے والی فری ہٹ کی گیند پر رن آؤٹ ہوئے۔ حسین طلعت اور عثمان خالد ملنے والی بیس گیندوں پر ستائیس رنز کا اضافہ کرپائے۔
شاہین آفریدی کے چھکے جو قلندرز کو جیت کے قریب لائے
لاہور قلندرز نے 159 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پہلی ہی گیند پر فخرزمان کا نقصان برداشت کیا جو اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں لیکن اس اننگز میں بغیر کوئی رن بنائے شعیب ملک کی گیند پر کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ قذافی اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین کو ان کا جلد آؤٹ ہوجانا بالکل پسند نہ آیا۔
کامران غلام نے اسپنر خالد عثمان پر اٹیک کرتے ہوئے ان کے پہلے ہی اوور میں 14رنز بٹورے۔ محمد عمر کے اگلے ہی اوور میں کامران غلام کے چوکے کو کمنٹیٹر نے شاٹ آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا تو اسی اوور میں فل سالٹ کے دو لگاتار چوکے بھی زلمی کے زخم پر نمک کے مترادف تھے۔
فل سالٹ یہ جارحانہ انداز زیادہ دیر نہ اپنا سکے اور ارشد اقبال نے انھیں 14 رنز پر بولڈ کردیا۔
کامران غلام 25 رنز بناکر ارشد اقبال کی گیند پر حضرت اللہ ززئی کے ہاتھ سے نکلے ہوئے کیچ کے محمد حارث کے ہاتھوں دبوچے جانے پر آؤٹ ہوئے۔
لاہور قلندرز اس صورتحال میں پچھلے میچ کے ہیرو ہیری بروک اور پروفیسر سے ایک بڑی پارٹنرشپ کی توقع کررہی تھی لیکن ہیری بروک صرف 2 رنز بناکر عماد بٹ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
لاہور قلندرز کی ٹیم دس اوورز ختم ہونے پر صرف 67 رنز تک پہنچ سکی تھی۔قلندرز کے سابق کپتان سہیل اختر صرف 19 رنز بناکر عمر کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔
ڈیوڈ ویزے صرف ایک رن بناکر خالد عثمان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے تو لاہور قلندرز کی ٹیم جیت سے اب بھی65 رنز دور تھی اور صرف محمد حفیظ کی شکل میں مستند بیٹسمین باقی بچا تھا۔
محمد حفیظ نے49 کے انفرادی اسکور پر 19 ویں اوور کی پہلی ہی گیند پر باؤنڈری پر محمد حارث کو آسان کیچ تھماکر نہ صرف وہاب ریاض کو پہلی وکٹ دلادی۔
لاہور کو آخری اوور میں 24 رنز درکار تھے۔ کپتان شاہین آفریدی اس اوور میں اپنی جارحانہ بیٹنگ سے میچ کو برابری پر لے آنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کی 39 رنز کی اننگز میں چار چھکے اور دو چوکے شامل تھے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل: 'کیا ہمیں نیا بوم بوم آفریدی مل گیا؟'
میچ میں عام لوگوں کی دلچسپی تو تھی ہی مگر صدر مملکت عارف علوی سے بھی رہا نہیں گیا۔ انھوں نے بھی ٹویٹ کے ذریعے پی ایس ایل کی تفریح کا خاص ذکر کیا اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہا۔
ویسٹ انڈیز کے سابق فاسٹ بولر این بشپ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ انھیں شاہین شاہ آفریدی کی قیادت سے محبت ہوگئی ہے۔
اگرچہ راشد خان پی ایس ایل کو خیرباد کہہ کر اپنے وطن واپس چلے گئے ہیں مگر ان کی نظریں اب بھی اپنی ٹیم کے میچوں پر ہے۔ شاہین شاہ آفریدی کی بیٹنگ دیکھ کر انھوں نے بھی زوردار آواز میں اپنے لاہور قلندرز کے کپتان کو ایسے پکارا جیسے وہ کابل سے لاہور تک بغیر کسی ڈیوائس کے ہی اپنی صدا پہنچا رہے تھے۔
اسی طرح پاکستان کے سابق آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے لکھا 'شاہین آفریدی، یو بیوٹی۔' یہ جملہ دراصل شاہد آفریدی کے لیے رمیز راجہ نے ادا کیا تھا جب انھوں نے انڈیا کے خلاف میچ میں ایشون کو آخری اوور میں دو چھکے لگا کر پاکستان کو جیت سے ہمکنار کیا تھا۔
صارف مظہر ارشد نے سوال کیا کہ 'کیا ہمیں نیا بوم بوم آفریدی مل گیا؟' جبکہ ایمن نے اپنے تجریے میں لکھا کہ 'لاہور قلندرز کی کپتانی سے شاندار نتائج مل رہے ہیں۔'
ان سب تبصروں کے دوران نور نامی صارف نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ وہ یقین سے کہتی ہیں کہ 'سٹار بوائے ایک سپر سٹار بن گیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ (شاہین) اس کھیل کا اگلا آئیکن ہے۔ شکر ہے، یہ ہمارا ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
دوست کی شادی مگرذہن پی ایس ایل کی طرف
پشاور زلمی کے فاسٹ بولر سلمان ارشاد لاہور قلندرز کے خلاف میچ نہیں کھیلے لیکن یہ پی ایس ایل ان کے لیے بہت کامیاب رہی ہے اور وہ ابھی تک اپنی ٹیم کی طرف سے سب سے زیادہ 12 وکٹیں حاصل کرنے والے بولر ہیں۔
سلمان ارشاد کہتے ہیں کہ وہ گزشتہ سال پی ایس ایل نہیں کھیل پائے تھے۔ اس سال انہیں پشاور زلمی نے سلور کیٹگری میں حاصل کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب پی ایس ایل کا ڈرافٹ ہورہا تھا تو وہ اپنے کسی دوست کی شادی کی تقریب میں تھے لیکن ان کا ذہن پی ایس ایل کے ڈرافٹ کی جانب لگا ہوا تھا اور جب انہیں پتہ چلا کہ زلمی نے انہیں سلیکٹ کیا ہے تو ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔
سلمان ارشاد کا تعلق راولاکوٹ سے ہے ۔ ُانھیں لاہور قلندرز نے اپنے ٹیلنٹ پروگرام کے تحت سلیکٹ کیا تھا۔ وہ تین سال لاہور قلندرز کی طرف سے کھیلے تھے ۔ 2018 ء میں لاہور قلندرز کی طرف سے اپنی پہلی ہی گیند پر انہوں نے اسلام آباد یونائٹڈ کے کپتان مصباح الحق کو آؤٹ کیا تھا۔