آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پی ایس ایل: لاہور قلندرز فائنل میں، اسلام آباد یونائیٹڈ کو چھ رنز سے شکست
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
لاہور قلندرز کو پی ایس ایل کے ساتویں سیزن کا دوسرا ایلیمنیٹر ہمیشہ یاد رہے گا کہ ہوم گراؤنڈ میں ہوم کراؤڈ کے سامنے اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے اس نے 168 رنز کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے اسلام آباد یونائیٹڈ کو چھ رنز سے ہرا دیا۔
لاہور قلندرز نے دوسری مرتبہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔
اتوار کو ہونے والے فائنل میں اس کا مقابلہ دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز سے ہو گا۔ لاہور قلندرز اس سے قبل 2020 میں فائنل کھیلی تھی جس میں اسے کراچی کنگز نے ہرایا تھا۔
ڈیوڈ ویزے کے چھکے ٹیم کو حوصلہ دے گئے
لاہور قلندرز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور پاور پلے میں تیز رنز بنانے کی حکمت عملی ذہن میں رکھتے ہوئے فخر زمان کے ساتھ فل سالٹ کو اوپنر بھیجا۔
لیکن اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے فخرزمان کی وکٹ یونائیٹڈ کو پہلے ہی اوور کی چوتھی گیند پر اس وقت مل گئی جب لیئم ڈاسن کی بولنگ پر شارٹ تھرڈ مین پر وقاص مقصود نے ان کا آسان کیچ کر لیا۔
ڈاسن جنھوں نے پہلے ایلیمنیٹر کے آخری اوور میں اپنے چوکے چھکے سے یونائیٹڈ کو جیت دلائی تھی اس مرتبہ بولر کے روپ میں چھا گئے۔ انھوں نے اپنے دوسرے اوور میں فل سالٹ کو بھی بولڈ کر کے قلندرز کے حامیوں میں مایوسی پھیلا دی۔
سات رنز پر دو وکٹیں گرنے کے بعد عبداللہ شفیق اور کامران غلام نے اعتماد سے بیٹنگ کی۔ خصوصاً عبداللہ شفیق کے بیٹ سے کئی خوبصورت سٹروکس نکلے۔ کامران غلام نے بھی خوب ہاتھ کھولے۔ انھوں نے محمد وسیم کو ایک اوور میں دو چھکے مارے تاہم شاداب خان ان کی 30 رنز کی عمدہ اننگز کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
قلندرز کے لیے بڑا دھچکہ عبداللہ شفیق کی وکٹ تھی جو 52 رنز بنا کر وقاص مقصود کی گیند پر شاداب خان کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ صرف 28 گیندوں کی اس اننگز میں تین چھکے اور چار چوکے شامل تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہیری بروک کا صرف دو رنز پر رن آؤٹ ہونا قلندرز کی مایوسی میں اضافہ کر گیا۔ اس مرحلے پر اس نے پانچ وکٹیں صرف 102 رنز پر گنوا دی تھیں۔ کامران غلام کے آؤٹ ہونے کے بعد محمد حفیظ کریز پر آئے اور انھوں نے 28 گیندوں پر 28 رنز ہی بنائے۔ ان کی اننگز میں صرف ایک چوکا شامل تھا۔
لاہور قلندرز سات وکٹوں پر 168 رنز تک پہنچنے کے لیے ڈیوڈ ویزے کی شکر گزار تھی جنھوں نے صرف آٹھ گیندوں پر آؤٹ ہوئے بغیر 28 رنز بنا ڈالے۔ اننگز کے آخری اوور میں جو وقاص مقصود نے کیا 27 رنز بنے جن میں ویزے کے تین چھکے اور ایک چوکا شامل تھا۔ انھیں مین آف دی میچ کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔
اسلام آْباد یونائیٹڈ کی بولنگ اس اننگز میں لاہور قلندرز کو مکمل طور پر قابو میں رکھنے میں ناکام رہی۔ حسن علی تین اوورز میں 34 رنز دینے کے بعد بولنگ کے قابل نہ رہے اور انھیں میدان سے باہر جانا پڑا۔ وقاص مقصود نے بھی تین اوورز میں 38 رنز دے ڈالے۔ آخری پانچ اوورز میں قلندرز نے 56 رنز کا اضافہ کیا۔
حارث رؤف اور ویزے ہیرو
اسلام آْباد یونائیٹڈ ہدف تک پہنچنے کے لیے جس مستحکم ابتدا کی توقع کر رہی تھی وہ اسے نہ مل سکی۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کوالیفائر کھیل کر واپس آنے والے پال سٹرلنگ نے شاہین آفریدی کے پہلے ہی اوور میں ایک چھکا اور ایک چوکا مار کر اپنے خطرناک عزائم ظاہر کیے۔
لیکن شاہین آفریدی کا کم بیک بہت ہی زبردست رہا اور انھوں نے اپنے دوسرے ہی اوور میں پال سٹرلنگ اور ِول جیکس کو حارث رؤف کے ہاتھوں کیچ کرا کر حساب چکتا کیا۔
شاداب خان نے زمان خان کو چوکا مارنے کے بعد اگلی ہی گیند پر اپنی وکٹ گنوائی۔ یہ باہر جاتی ہوئی گیند تھی جسے کھیلنے کی کوشش میں وہ فل سالٹ کے خوبصورت کیچ پر آؤٹ ہوئے۔
لیئم ڈاسن نے تین چوکے مار کر ٹیم پر سے دباؤ کم کرنے کی کوشش کی لیکن کامران غلام کی عمدہ فیلڈنگ نے انھیں رن آؤٹ کر دیا۔
اسلام آباد یونائیٹڈ کی چار وکٹیں صرف 46 رنز پر گرنے کے یہ مناظر الیکس ہیلز مایوسی کے ساتھ دیکھتے رہے۔ اس صورتحال نے انھیں بھی محتاط روی پر مجبور کر دیا تھا اس دوران زیادہ تر رنز اعظم خان کے بیٹ سے نکل رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
پھر ہیلز نے بھی اٹیک کرنا شروع کیا اور سمت پاٹل کے ایک اوور میں ایک چوکا اور ایک چھکا مارا۔ یہ دونوں شاہین آفریدی اور اعظم خان کے ہاتھوں سے کیچ ڈراپ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سکور میں 79 رنز کا اضافہ کر چکے تھے کہ حارث رؤف کی براہ راست تھرو نے اعظم خان کی 40 رنز کی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔
اسلام آباد یونائیٹڈ کو آخری پانچ اوورز میں جیت کے لیے صرف 39 رنز درکار تھے لیکن حارث رؤف، الیکس ہیلزکو 38 کے انفرادی سکور پر کامران غلام کے ہاتھوں کیچ کرانے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ وہی کامران غلام ہیں جنھیں پچھلے میچ میں حارث رؤف کی گیند پر کیچ چھوڑنے پر ان کا تھپڑ کھانا پڑا تھا۔
لاہور قلندرز کو ساتویں وکٹ بھی مل جاتی اگر شاہین آفریدی کی گیند نو بال قرار نہ پاتی۔ اس گیند پر حسن علی کا کیچ ڈیوڈ ویزے کے ہاتھ آ گیا تھا۔
شاہین آفریدی کا یہ اوورز یونائیٹڈ کے سکور میں قیمتی 13 رنز کا اضافہ کر گیا تاہم لاہور قلندرز کو ساتویں وکٹ کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور حسن علی صرف چھ رنز بنا کر زمان خان کی گیند پر عبداللہ شفیق کو کیچ دے گئے۔اس وقت یونائیٹڈ جیت سے 21 رنز کی دوری پر تھی۔
اننگز کے 19ویں اوور میں حارث رؤف نے 25 رنز بنانے والے آصف علی کی اہم وکٹ حاصل کر ڈالی یہ ان کی اس میچ میں دوسری وکٹ تھی۔ حارث رؤف نے ان دو وکٹوں کے ساتھ ساتھ دو کیچ بھی کیے اور ایک رن آؤٹ بھی کیا۔
جب آخری اوور شروع ہوا تو اسلام آباد یونائیٹڈ کو جیت کے لیے صرف آٹھ رنز درکار تھے لیکن محمد وسیم پانچ رنز بنا کر رن آؤٹ ہو گئے اور پھر ڈیوڈ ویزے کی اگلی ہی گیند پر مڈوکٹ باؤنڈری پر کھڑے عبداللہ شفیق نے وقاص مقصود کا عمدہ کیچ لے کر لاہور قلندرز کی جیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔
'ڈیوڈ ویزے دل سے لاہور کے لیے کھیلے'
لاہور قلندرز کے فینز کو یہ میچ اس لیے بھی یاد رہے گا کیونکہ ایک بُرے آغاز کے باوجود ان کی ٹیم نے جیت کا مشکل سفر طے کیا ہے۔ اور یہی چیز سوشل میڈیا پر صارفین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے کہ کیسے لاہور کے کھلاڑیوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔
اس میچ کے بہترین کھلاڑی ڈیوڈ ویزے کی آل راؤنڈ کارکردگی پر لاہور کے فینز انھیں ایک منفرد انداز میں خراج تحسین پیش کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
جیسے ٹوئٹر پر مظہر ارشد لکھتے ہیں کہ ’ڈیوڈ ویزے نے بیٹنگ کرتے ہوئے 20ویں اوور میں 27 رنز بنائے۔ پھر وہ 20واں اوور کرایا جس کے نتیجے میں دو وکٹیں ملیں۔۔۔ لاہور میں ایک سڑک ان کے نام پر ہونی چاہیے!‘
ایسی ہی ایک خواہش حیدر اظہر کی ہے جو کہتے ہیں کہ لبرٹی چوک پر ’مینارِ ویزے‘ ہونا چاہیے۔ ہارون نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ لاہور کے قذافی سٹیڈیم کا نام تبدیل کر کے ’ڈیوڈ ویزے سٹیڈیم‘ ہونا چاہیے۔
آمنہ زبیر کے مطابق ’لاہور میں ڈیوڈ ویزے کے نام کا ایک انڈر پاس بن جانا چاہیے اب تک۔‘ ماہنور کہتی ہیں کہ ’کیا کوئی ویزے سے پوچھ سکتا ہے کہ وہ ڈیتھ اوورز میں اپنے اعصاب پر قابو کیسے پاتے ہیں کیوںکہ وہ ہمیشہ لاہور کے لیے ڈیلیور کرتے ہیں۔‘
تاہم فرید خان اپنا سنجیدہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ڈیوڈ ویزے 'مین آف دی میچ' ضرور ہیں مگر عبداللہ شفیق دوسرے نمبر پر ہیں۔
’انھوں نے حیرت انگیز ففٹی سکور کی، جب لاہور قلندرز کا سکور چار اوورز کے بعد 9/2 تھا۔۔۔ انھوں نے دو کیچز بھی پکڑے۔‘
بشریٰ نامی صارف نے لاہور قلندرز کی جیت پر اپنے شاعرانہ اظہار میں کہا ہے کہ ’لاہور قلندرز ایک ٹیم نہیں، یہ ایک جذبہ ہے۔ ڈیوڈ ویزے اور حارث رؤف کی بہترین کوشش، شاہین شاہ آفریدی کی بہترین کپتانی۔ پوری ٹیم اچھا کھیلی۔‘
ارسلان جٹ کہتے ہیں کہ ڈیوڈ ویزے کو ’آج سے ہم لاہوری ڈکلیئر کرتے ہیں۔‘ وہ یقین سے کہتے ہیں کہ ’تیاری پکڑ لو، ٹرافی لاہور آ رہی۔‘ جبکہ عامر ممتاز کہتے ہیں کہ ’لاہور کے لیے اگر کوئی انسان دل و جان سے کھلیتا ہے تو وہ ڈیوڈ ویزے ہے۔‘
دوسری طرف سوشل میڈیا صارفین میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان کے لیے بھی ہمدردی پائی جاتی ہے۔
ارفا فیروز نے لکھا ہے کہ شاداب خان نے پی ایس ایل میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے۔ ’انھوں نے گیند کے علاوہ بلے کے ساتھ بھی اپنا بہترین کھیل پیش کیا۔۔۔ وہ انجری کے باوجود ایک جنگجو کی طرح لڑے۔‘