پی ایس ایل 7 پر سمیع چوہدری کا کالم: اسلام آباد یونائیٹڈ نے ’سمارٹ‘ کرکٹ نہیں کھیلی

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

یہ میچ مکمل طور پر اسلام آباد یونائیٹڈ کی گرفت میں تھا۔ حالانکہ اوائل ہی میں قلندرز کی بولنگ نے یونائیٹڈ کے ٹاپ آرڈر کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے مگر پھر اعظم خان ایسا کھیلے کہ میچ قلندرز سے بہت دور جاتا دکھائی دیا۔

شاہین شاہ آفریدی اگرچہ نوآموز کپتان ہیں مگر یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انھوں نے پی ایس ایل کے اس ایڈیشن کے دوران کمال جذے سے اپنی ٹیم کی قیادت کی اور فاسٹ بولر ہونے کے باوجود جو نرم مزاجی ان کا خاصہ ہے، وہی ان کی کپتانی میں بھی خوب جھلکی۔

کتنے بھی پریشر کے لمحات ہوں، وہ گھبراتے نہیں ہیں۔ ان کے بولرز کو پے در پے باؤنڈریز رسید ہو رہی ہوں، تب بھی ان کے اوسان خطا نہیں جاتے بلکہ تحمل اور تدبر سے بولر کو حوصلہ دیتے ہیں اور اسے اپنی مکمل حمایت فراہم کرتے ہیں۔

اپنے دوسرے ہی اوور میں دو کلیدی وکٹیں حاصل کر کے شاہین نے اپنی بیٹنگ لائن کے مجموعے کی کمیابی کی کچھ تلافی تو کی۔ بہرحال اس وکٹ پر قلندرز کے مجموعے کی نسبت دس پندرہ رنز مزید بنائے جا سکتے تھے۔ آخری مہنگے اوور کے باوجود قلندرز یہاں ناقابلِ تسخیر مجموعہ نہیں بنا پائے۔

اسلام آباد کو پال سٹرلنگ کی واپسی کا بھی اضافی فائدہ تھا اور ہیلز نے پچھلے میچ میں جو فاتحانہ اننگ کھیلی تھی، اس فارم کی تشفی بھی میسر تھی مگر شاہین شاہ آفریدی کی تزویراتی چال نے یونائیٹڈ کے وسائل کو خوب زک پہنچائی اور سٹرلنگ کے بعد جیکس بھی فوری چلتے بنے۔

لیکن اس سب کے بعد بھی اعظم خان اپنی ٹیم کو ایک ایسی پوزیشن میں لے آئے تھے جہاں سے لاہور کی جیت کا خواب محض دیوانے کی بڑ کہلا سکتا تھا۔ مطلوبہ رن ریٹ آٹھ سے بھی کم تھا اور یونائیٹڈ کے ہاتھ میں ابھی چھ وکٹیں بھی باقی تھیں۔

جس طرح کی فارم آصف علی نے اس ٹورنامنٹ میں دکھائی ہے، اس کے تناظر میں اعظم پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ میچ مکمل کر کے جائیں کیونکہ جیسے جیسے یہ ٹورنامنٹ اختتامی مراحل کی جانب بڑھ رہا ہے، پچز کا رویہ اور کھیل کے پہلو بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔

لیگ میچز میں اکثر ہمیں یہی نظر آیا کہ آخری پانچ اوورز میں 70 رنز بھی باآسانی حاصل ہو سکتے ہیں مگر لیگ راؤنڈ کے آخری کچھ مقابلوں سے یہ رِیت یکسر بدلنے لگی اور زیرِ بحث اس میچ میں تو ہمیں حارث رؤف ڈیتھ اوورز میں باقاعدہ ہلکی سی ریورس سوئنگ بھی کرتے نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیے

سو، جب شاٹ کھیلنے والے ایلکس ہیلز ہی سنگل کے لیے بھاگنے میں متامل تھے تو اعظم خان نے جانے کیا سوچ کر رن لینے کی ٹھانی اور گیند پر نگاہ جمائے بغیر ہی کریز سے بھاگ نکلے۔ اگر اعظم خان یہ غیر ضروری جلد بازی نہ کرتے تو قلندرز شاید کبھی اس میچ میں واپس آ ہی نہیں سکتے تھے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی بنیادی شناخت سمارٹ کرکٹ کھیلنا ہے جہاں ڈیٹا کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے اور شاداب خان کی قیادت میں آنے کے بعد اس ٹیم کی تزویراتی قوت کے ساتھ ساتھ جارحانہ جذبہ بھی بڑھ گیا مگر یہاں یونائیٹڈ کو سمارٹ کرکٹ کھیلنے کی ضرورت تھی اور انہوں نے سارا دھیان جوش پر دے چھوڑا۔

مطلوبہ رن ریٹ اتنا کم تھا کہ صرف سٹرائیک گھمانے سے ہی یونائیٹڈ ہنستے کھیلتے جیت سکتے تھے مگر یونائیٹڈ نے نجانے کیوں اپنی ہی رواج کردہ سمارٹ کرکٹ کو چھوڑ کر جوش و جارحیت کو ترجیح دی اور ایک معقول سے ہدف کے جواب میں بھی صرف باؤنڈریز ہی کی تلاش انھیں ایک اور یقینی فائنل کی رسائی سے دور لے گئی۔