پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا: سٹیو سمتھ کے مطابق آسٹریلوی کھلاڑی پاکستان میں ’انتہائی محفوط‘ ہیں

مشہور آسٹریلوی بلے باز سٹیو سمتھ کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے بولر ایشٹن ایگر کو موت کی دھمکی کے باجود، ان کے ساتھی پاکستان میں خود کو 'انتہائی محفوظ' محسوس کر رہے ہیں۔

25 برس کے بعد پاکستان کے دورے پر آنے والی آسٹریلوی ٹیم اپنے دورے کا آغاز جمعے کو راولپنڈی میں پہلے ٹیسٹ سے کرنے جا رہی ہے۔

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے پیر کو پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں ایک آسٹریلوی کرکٹر کی اہلیہ کو مبینہ طور پر دھمکی آمیز پیغامات ملنے کی خبروں کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ بورڈ ایک سوشل میڈیا پوسٹ سے آگاہ ہے اور اس کی تحقیقات کی گئی ہیں۔

آسٹریلوی بورڈ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کرکٹ آسٹریلیا سوشل میڈیا پر اس پوسٹ کے بارے میں باخبر ہے اور اس کی نوعیت اور مواد کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ، کرکٹ آسٹریلیا اور دونوں ممالک کی سرکاری ایجنسیوں نے تحقیقات کی ہیں۔

کرکٹ آسٹریلیا نے اس موقعے پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر اس قسم کی سرگرمیوں کا سدباب کرنے کے لیے جامع سکیورٹی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے اور اس موقع پر مذکورہ سوشل میڈیا پیغام کو ’خطرناک نہیں سمجھا جا رہا ہے‘۔

’ہم جانتے ہیں کہ پاکستانی لوگ کرکٹ کے کتنے دیوانے ہیں‘

سٹیو سمتھ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 'بہت سے لوگ ہمارے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، ہمیں اپنی سکیورٹی پر بھروسہ ہے اور ہم پاکستان میں خود کو انتہائی محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان 'واپس آنا اور یہاں کرکٹ کھیلنا زبردست ہے۔'

'ہم میں سے بہت سے کھلاڑیوں کے لیے یہاں آنے کا یہ پہلا موقع ہے اور ہم لوگ پُرجوش ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستانی لوگ کرکٹ کے کتنے دیوانے ہیں۔'

یاد رہے کہ سنہ 2009 میں لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد سے آسٹریلیا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ نے پاکستان کا کوئی دورہ نہیں کیا۔ سری لنکن ٹیم پر حملے میں چھ پولیس اہلکاروں کے علاوہ دو شہری مارے گئے تھے۔

بین الاقوامی ٹیموں نے ماضی قریب میں ہی دوبارہ پاکستان آنا شروع کیا تھا، لیکن گزشتہ برس ستمبر میں نیوزی لینڈ نے اپنی حکومت کی جانب سے خبردار کیے جانے پر راولپنڈی میں سیریز کے پہلے میچ سے چند منٹ پہلے اپنا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

اس کے محض تین دن بعد انگلینڈ نے بھی اپنی مردوں اور خواتین کی کرکٹ ٹیموں کے مجوزہ دورے یہ کہہ کر منسوخ کر دیے تھے کہ انہیں اپنے کھلاڑیوں کی 'ذہنی اور جسمانی بہبود' کی فکر ہے۔

آسٹریلیا کے اس دورے کے شیڈول کی تفصیل کچھ یوں ہے:

4 تا 8 مارچ - پہلا ٹیسٹ، راولپنڈی

12 تا 16 مارچ- دوسرا ٹیسٹ، کراچی

21 تا 25 مارچ- تیسرا ٹیسٹ، لاہور

29 مارچ- پہلا ون ڈے، راولپنڈی

31 مارچ- دوسرا ون ڈے، راولپنڈی

2 اپریل- تیسرا ون ڈے، راولپنڈی

5 اپریل - ٹوئٹی ٹوئنٹی، راولپنڈی

سوشل میڈیا پوسٹ

یاد رہے کہ پیر کو پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے انسٹاگرام کی ایک پوسٹ کے بارے میں بتایا تھا کہ پاکستان کا دورہ کرنے والی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے ایک کھلاڑی کی فیملی کو دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں انہیں پاکستان کا دورہ کرنے کی صورت میں سنگین نوعیت کے نتائج بھگتنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

اگرچہ کرکٹ آسٹریلیا نے اس بارے میں محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے بیان ضرور جاری کیا تھا تاہم کسی دھمکی آمیز پوسٹ کی تصدیق نہیں کی تھی۔

واضح رہے کہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم 25 سال کے عرصے کے بعد پاکستان آئی ہے اور اسے یہاں وہ سکیورٹی فراہم کی گئی ہے جو عام طور پر سربراہان مملکت کو دی جاتی ہے۔ آسٹریلوی کرکٹرز عثمان خواجہ اور کپتان پیٹ کمنز نے پاکستان پہنچنے کے بعد سکیورٹی کے انتظامات پر مکمل اطمینان ظاہر کیا ہے۔

پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ

پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ دھمکی آمیز پیغامات مبینہ طور پر انڈیا کی ریاست گجرات سے کیے گئے ہیں۔ پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کی جانب سے اس شخص کا نام، پیشہ، ای میل ایڈریس اور فون نمبر بھی شیئر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس پیغام کا مقصد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کو روکنا ہے تاکہ 24 سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان آنے والی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم خوف زدہ ہوکر وطن واپس چلی جائے۔

نیوزی لینڈ کا دورہ پاکستان

گزشتہ برس ستمبر میں پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم دورہ منسوخ کر کے واہس چلی گئی تھی۔

یاد رہے کہ اس موقعے پر پاکستان کے وزیراطلاعات فواد چوہدری اور وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے باقاعدہ ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو دھمکی آمیز پیغامات بھیجنے کے لیے جو ڈیوائس اور ای میل استعمال کی گئی وہ انڈیا سے چلائی جا رہی تھی اور انہوں نے اس میں ممبئی کے ایک شخص کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

اس وقت یہ دعوی کیا گیا تھا کہ یہ دھمکی آمیز پیغام نیوزی لینڈ کے کرکٹر مارٹن گپٹل کی اہلیہ کو بھیجا گیا تھا کہ ان کے شوہر کو پاکستان میں قتل کر دیا جائے گا۔