آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سرفراز احمد کی سلمان بٹ کی تنقید پر ٹویٹ: کیا پاکستان کے سابق کپتان تنقید کو بھی لوز بال سمجھ کر کھیلتے ہیں؟
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
بولر کی ہر گیند کھیلنے کے لیے نہیں ہوتی اور کچھ گیندوں کو چھوڑنا بھی پڑتا ہے۔ اسی طرح ہر بات کا جواب دینا بھی ضروری نہیں ہوتا لیکن شاید وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد ہر گیند کو کھیلنا بھی چاہتے ہیں اور ہر بات کا جواب بھی دینا چاہتے ہیں۔
سرفراز احمد اپنے کریئر کے اہم ترین موڑ پر ہیں۔ کپتانی سے ہٹائے جانے اور پھر پاکستانی ٹیم سے باہر ہونے کے بعد وہ پچھلے دو برس سے نمبر دو وکٹ کیپر کے طور پر ٹیم کے ساتھ ہر دورے میں شامل رہے لیکن پھر وہ وقت بھی آیا جب سلیکٹرز نے انھیں ٹیم سے ڈراپ کردیا۔
محمد رضوان اس وقت جس شاندار انداز سے کھیل رہے ہیں ایسے میں سرفراز احمد کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی بہت مشکل نظر آرہی ہے۔
شاید اسی وجہ سے وہ بہت زیادہ فرسٹریشن کا شکار معلوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وقت اچھی پرفارمنس ان سے روٹھی ہوئی ہے اور دوسری جانب وہ نہ صرف فیلڈ میں اس فرسٹریشن کو ُچھپانے میں ناکام ہورہے ہیں بلکہ میدان کے باہر سے آنے والی ہر تنقید کا جواب دینے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے۔
اس کی تازہ ترین مثال سابق کپتان سلمان بٹ کی جانب سے ان پر ہونے والی تنقید ہے جس پر سرفراز احمد نے بھرپور انداز میں اس کا جواب دیا۔
سلمان بٹ نے ایک یوٹیوب چینل پر سرفراز احمد کی فیلڈ میں اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں کہا تھا کہ سرفراز احمد جو کچھ بھی کررہے ہیں اس سے ان کے بارے میں کوئی اچھا تاثر نہیں پیدا ہو رہا ہے۔
سلمان بٹ کا تجزیہ تھا کہ جس طرح وہ بات کرتے ہیں اور اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہیں اس پر تنقید ہی ہوتی ہے کیونکہ وہ بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ شور مچاتے ہیں۔ وہ مشورہ نہیں کرتے بلکہ وہ اپنا فیصلہ مسلط کررہے ہیں۔
سلمان بٹ نے اس ضمن میں چند مثالیں بھی دیں کہ ایک میچ میں فاسٹ بولر نسیم شاہ ہاتھ جوڑ کر ان سے کہہ رہے تھے کہ انھیں کونسا فیلڈر اس پوزیشن پر چاہیے لیکن سرفراز نے ان کی بات نہیں مانی اور کہا کہ وہ جو کہہ رہے ہیں وہ کرو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سلمان بٹ نے سرفراز احمد پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اس صورتحال میں پھر انھیں ہی جواب دینا ہو گا کیونکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پچھلے سال بھی ہاری تھی اور جب سے پی ایس ایل ہورہی ہے سرفراز ہی ٹیم کے کپتان ہیں۔ وہ اپنے لیے مشکلات ہی پیدا کررہے ہیں۔ انھیں اپنی کارکردگی پر توجہ رکھنی چاہیے۔‘
سلمان بٹ کے ان ریمارکس کو بہت زیادہ سخت الفاظ کے طور پر دیکھا گیا۔
سرفراز احمد نے اس تنقید کا جواب دینے میں دیر نہیں لگائی اور اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پرسلمان بٹ کے بارے میں لکھا کہ ’پاکستان کو آن ڈیوٹی بیچنے والا فکسر جب نیت پر بھاشن دے گا تو اللہ ہی حافظ ہے۔‘
یاد رہے کہ سلمان بٹ سنہ 2010 میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے ماسٹر مائنڈ تھے، جنھیں اپنے دو ساتھی کرکٹرز محمد آصف اور محمد عامر کے ساتھ نہ صرف آئی سی سی کی جانب سے پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا بلکہ لندن کی عدالت نے انھیں قید کی سزا بھی سنائی تھی اور وہ ڈھائی سال جیل میں رہے تھے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹرز یونس خان اور تنویراحمد نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے سرفراز احمد کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے کھیل پر توجہ دیں۔ سلمان بٹ سپاٹ فکسنگ کی سزا مکمل کرکے واپس آچکے ہیں اور ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر کے طور پر تبصرہ کررہے ہیں جس پر انھیں ماضی یاد دلانے کی ضرورت نہیں۔ انہیں تبصروں اور تنقید پر ناراض نہیں ہونا چاہیے۔
سرفراز احمد کے بارے میں عام رائے یہ قائم ہو چکی ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والی تنقید یا تبصروں پر سوشل میڈیا پر فوراً متحرک ہوجاتے ہیں اور اس کا جواب دیتے ہیں۔
ماضی میں بھی چند ایک ایسے واقعات ہو چکے ہیں جن میں وہ سوشل میڈیا پر اپنے اوپر تنقید کرنے والوں کو ُچپ کراتے ہوئے نظر آئے ہیں۔
گذشتہ سال سرفراز احمد اور محمد حفیظ کی ٹوئٹر پر بحث شہ سرخیوں کی زینت بنی تھی۔
یہ بحث محمد حفیظ کی ٹویٹ سے شروع ہوئی تھی جس میں انھوں نے محمد رضوان کو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سنچری پر مبارکباد دیتے ہوئے انھیں تینوں فارمیٹس کا نمبر ایک وکٹ کیپر قرار دیا تھا۔
سرفراز احمد نے اپنے ٹویٹ میں محمد حفیظ کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ حفیظ بھائی صاحب جو بھی وکٹ کیپر پاکستان کے لیے کھیلا ہے وہ نمبرون اور احترام کے قابل ہے اس ضمن میں انھوں نے پاکستان کے تمام ہی وکٹ کیپرز کے نام گنوا دیے تھے۔
اسی طرح کرکٹ تجزیہ کار عالیہ رشید نے سرفراز احمد کی کھانا پکانے کی وڈیو پر تبصرہ کیا تھا تو اس وقت بھی سرفراز احمد نے اسے ساتھی کرکٹرز کے ساتھ اپنی گفتگو میں مداخلت تصور کرتے ہوئے ٹوئٹر پر جواب دیا تھا۔
عالیہ رشید اس صورتحال پر کہتی ہیں کہ سرفراز احمد بہت ہی شاندار کپتان رہے ہیں لیکن انھیں جس انداز سے ٹیم سے باہر کیا گیا اس کی وجہ سے ان کی فرسٹریشن بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔
’وہ ٹی ٹوئنٹی کی عالمی نمبر ایک ٹیم کے کپتان تھے لیکن بغیر کسی وجہ کہ انھیں ہٹا دیا گیا۔ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ بحیثیت کپتان ان کی پرفارمنس بہت زبردست رہی تھی۔ افسوس کی بات صرف یہ ہے کہ سرفراز احمد نے اپنی ذاتی پرفارمنس پر توجہ نہیں دی حالانکہ وہ بہت ہی زبردست بیٹسمین ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ یہ بات آسان نہیں ہوتی کہ آپ ٹاپ پر ہوں اور پھر ٹیم سے باہر ہو جائیں۔
’یہ بات انھوں نے خِود پر طاری کرلی۔ اس پی ایس ایل میں بھی ان کی پرفارمنس اچھی نہیں۔ ایک طرف رضوان نے پاکستانی ٹیم میں پرفارمنس دی تو کوئٹہ میں اعظم خان موجود تھے جو اب اسلام آباد یونائٹیڈ میں شامل ہوئے ہیں۔‘
عالیہ رشید کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر آدمی اور ہر باس کا کام کرنے کا اپنا انداز ہوتا ہے لیکن انھیں یاد ہے کہ فاف ڈوپلیسی نے سرفراز احمد کی بہت زیادہ تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ سرفراز احمد بہت پرجوش کپتان ہیں جو اپنی ٹیم سے بہترین کام لینا چاہتے ہیں۔
’اگر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بولرز پر ناراضی یا غصہ کرتے ہیں تو یہ ان کی شخصیت کا حصہ ہے۔ وہ ابھی سے نہیں بلکہ ہمیشہ سے ایسے ہی ہیں۔ ہمیں بھی یہ سوچنا چاہیے کہ سرفراز احمد بھی ایک انسان ہیں۔ ان کے بھی جذبات ہیں۔ کبھی انسان اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا۔ کچھ لوگ پیار محبت سے کام لینے کے عادی ہوتے ہیں۔یہ سب اعصاب کا معاملہ ہوتا ہے۔‘
سینئر صحافی شاہد ہاشمی کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد زبردست جذبے کے ساتھ اپنی کرکٹ کھیلتے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
’وہ اپنے ساتھی کھلاڑیوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اچھا پرفارم کریں لیکن جب ان کی توقعات پوری نہیں ہوتیں تو وہ فرسٹریشن کا شکار ہوجاتے ہیں جس کا اظہار وہ بہت واضح طور پر فیلڈ میں دکھاتے ہیں اور سب کو یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ ساتھی کھلاڑیوں پر بہت غصہ دکھاتے ہیں۔ یہ درست نہیں۔ کھلاڑی اس سے اپ سیٹ بھی ہوتے ہیں اور بعض اوقات وہ اپنا ردعمل بھی دکھا جاتے ہیں، جیسا کہ نیوزی لینڈ میں حسن علی نے کیا تھا۔ سرفراز احمد کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہوگی۔ خاص کر سلمان بٹ کی تنقید پر انھیں سوشل میڈیا پر اس کا جواب دینے کی قطعاً ضرورت نہیں تھی۔‘
ایک اور سینیئر صحافی رضوان علی کہتے ہیں کہ ’سرفراز احمد کا فارم میں نہ ہونا ان کی فرسٹریشن کا سبب ہے جو فیلڈ میں نظر آرہی ہے اور کرکٹ کی سپرٹ کےخلاف ہے جو ایک جنٹلمین گیم ہے۔‘
’انھیں پرسکون رہنے کی ضرورت ہے، اگر وہ اپنے کھلاڑیوں سے بہترین نتائج لینا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں ہمارے سامنے رضوان کی مثال موجود ہے۔ پی ایس ایل میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ ملتان سلطانز کے بولرز مشکل میں تھے لیکن رضوان نے انھیں دباؤ میں نہیں آنے دیا اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔'