پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز پر سمیع چوہدری کا کالم: ’یہ ویسٹ انڈیز کے بس کی بات ہی نہیں تھی‘

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

پاکستان جیسی مسابقتی ٹیم سے اس کے ہوم گراؤنڈز پہ مقابلہ کسی بھرپور الیون کے لیے بھی نہایت کڑا ہوتا اور یہاں تو ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنے اولین انتخاب سے بھی محروم تھی۔

بلاشبہ ویسٹ انڈیز نے پاور پلے میں بہت اچھی بولنگ کی اور محمد رضوان کو بازو کھولنے کا موقع نہ دیا مگر بیچ کے اوورز میں جیسے جیسے محمد رضوان کی اننگز مستحکم ہوتی گئی، نوآموز ویسٹ انڈین بولرز کا اعتماد گھٹتا گیا۔

اور محمد رضوان ابھی پکڑے نہ جا رہے تھے کہ حیدر علی کی 'یلغار' بھی شاملِ حال ہو گئی۔ پچھلے دو برس میں پاکستان نے جتنے بھی نئے چہرے آزمائے ہیں، ان میں سے سب سے زیادہ امیدیں ہمیشہ حیدر علی سے جڑی رہی ہیں۔

مگر بدقسمتی سے حیدر علی اس بڑے سٹیج پہ اپنے ٹیلنٹ سے ویسا انصاف نہیں کر پائے تھے جس کا یہ متقاضی تھا۔ جدید کرکٹ میں جہاں مارا ماری کا دور دورہ ہے وہاں ایسے باصلاحیت اور دلکش بلے باز خال ہی ملتے ہیں۔ حیدر علی کی خوبصورتی بھی ان کے دلکش شاٹس ہیں۔

مگر اس اننگز میں انھوں نے اپنے اعضا کی قوت کو بھی بھرپور طریقے سے آزمایا۔ ویسے بھی اگلے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں وقت اتنا کم رہ گیا ہے کہ ہر میچ گویا اس کی تیاری کی طرف ایک قدم ہے۔ سو، ایسے میں حیدر علی کا مڈل آرڈر میں پرفارم کرنا پاکستان کے لیے نیک شگون ہے۔

آخری اوورز میں ویسٹ انڈین بولنگ پہ حیدر کی اننگز کا دباؤ ایسا تھا کہ بہتی گنگا میں محمد نواز نے بھی خوب ہاتھ دھوئے۔ اگر ان کی اننگز کو منہا کیا جائے تو سکور بورڈ پہ سجا ممکنہ مجموعہ شاید نکولس پورن کے لیے کسی قدر حقیقت پسندانہ ہدف رہتا۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لیکن وکٹ بھلے ہی بیٹنگ کے لیے سازگار تھی، اس پاکستانی بولنگ اٹیک کا سامنا کرنا کسی تجربہ کار بیٹنگ لائن کے لیے بھی اچھا خاصا امتحان ہوتا۔ کیونکہ یہ بولنگ اٹیک کسی بھی پارٹنرشپ کو زیادہ دیر سانس نہیں لینے دیتا۔

ایسے حالات میں کسی نوآموز الیون کا واحد چانس یہ ہوتا ہے کہ اس کے تجربہ کار کھلاڑی سارا بوجھ اپنے سر پہ اٹھا کے چلیں۔ اس لائن اپ میں شے ہوپ اور نکولس پورن ہی دو ایسے برج تھے جن پہ ویسٹ انڈیز کی ساری امیدیں منحصر تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

پورن نے آغاز بھی اچھا کیا مگر وہ محمد وسیم کی استعداد کا درست اندازہ نہیں لگا پائے۔ وہ بہترین روانی سے بلا چلا رہے تھے مگر یہ بھول گئے کہ ہر گیند بلے پہ نہیں آیا کرتی اور جب کوئی زبردست یارکر آف سٹمپ سے اندر کو آئے تو حاضر دماغی اور خوش قسمتی کا امتزاج ہی نجات کا رستہ ہو سکتا ہے۔ پورن کے معاملے میں یہ امتزاج ممکن نہ ہو پایا۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہASIF HASSAN

ہوپ نے پھر بھی کسی نہ کسی طور سے امیدوں کو کچھ زندہ رکھا مگر ایسے خطیر ہدف کے تعاقب میں جب تک شراکت داریاں نہ جڑیں، امکانات روشن نہیں ہوا کرتے۔

پاکستان کے لیے روشن پہلو یہ رہا کہ مڈل اوورز میں محمد نواز کے ساتھ ساتھ شاداب خان بھی اپنی اسی فارم میں عود کر آئے جو ان کے کرئیر کی ابتدا میں ان کی پہچان بنی تھی۔ یہ وہ شاداب خان تھے جو کسی بھی بلے باز کو آسان لینتھ فراہم نہیں کیا کرتے اور بسا اوقات اسے کریز سے نکلنے پہ مجبور کر چھوڑتے ہیں۔ ویسٹ انڈین مڈل آرڈر کے پاس شاداب کے لئے کوئی پلان نہیں تھا۔

پاکستان کے لیے خوشی سوا ہے کہ بھاری بھر کم ہوم سیزن کا آغاز ایسے مارجن کی فتح سے ہوا اور اس فتح میں بہت بڑا کردار ان کے مڈل آرڈر نے بھی نبھایا جہاں تجربے کی کسر حیدر علی کی فارم نے پوری کر دی۔