سمیع چوہدری کا کالم: ’درست‘ بولنگ ’تیز‘ بولنگ سے زیادہ ضروری ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
ٹیسٹ کرکٹ کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ کوئی بھی کھیل کی رفتار سے آگے نہیں چل سکتا۔ کیونکہ وہ جارحیت جو ایک لمحے میں عین دانش مندی نظر آتی ہے، اگلے ہی کسی لمحے حماقت کی عکاس دکھائی دینے لگتی ہے۔
پاکستان دن کے آغاز پہ ہی جیسی کامیابی کی توقع کر رہا تھا، وہ اسے میسر نہ ہو پائی۔ گذشتہ شام محمد عباس کے ہیٹ ٹرک چانس نے یہ ڈھارس بندھا چھوڑی تھی کہ بیٹنگ کے لیے مہلک اس گرین وکٹ پہ 217 بھی ایک مسابقتی مجموعہ ثابت ہو سکتا تھا۔
اور حال ہی میں جس قسم کی بے یقینی کا سامنا ویسٹ انڈین بیٹنگ کو رہا ہے، بعید نہیں تھا کہ پاکستان اپنے پست مجموعے کے باوجود کسی ہلکی پھلکی برتری سے اپنے حوصلے بلند کر پاتا۔
اسی لیے بابر اعظم نے جس جارحانہ انداز سے دن کا آغاز کیا، وہ دیدنی تھا۔ لائن، لینتھ اور سلپ کارڈن کی گہما گہمی یہ واضح کر رہی تھی کہ پاکستانی بولنگ اپنا بہترین کنٹرول دکھائے گی۔ یہ مہارت کسی حد تک نظر بھی آئی مگر سیشن کے دوسرے گھنٹے میں روسٹن چیز کی وکٹ کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔
لنچ کے بعد بھی شاہین شاہ آفریدی کے دو پے در پے حملوں نے یہ توقع اجاگر کر ڈالی کہ بہت جلد پاکستان لوئر آرڈر تک گھس چکا ہو گا۔ مگر بات یہ تھی کہ وکٹ بدل چکی تھی اور گیند بھی نرم ہو چلا تھا۔
پہلے دن یہ بخوبی نظر آیا کہ ابر آلود کنڈیشنز میں نیا گیند اس وکٹ پہ کافی حرکت کر رہا تھا۔ گھاس نمایاں ہونے کے سبب پیسرز کو وکٹ سے گرفت مل رہی تھی اور سیم اس قدر ہو رہا تھا کہ کسی کیوی پچ کا گماں ہو رہا تھا۔
یقین نہ آئے تو اظہر علی سے پوچھیے جو چار ریویوز اور نصف درجن چانسز ملنے کے باوجود کسی قابلِ قدر سکور کو ترستے رہ گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن دوسرے دن لنچ کے ایک گھنٹہ بعد وکٹ کی طبیعت بدل چکی تھی اور گیند کا مزاج بھی۔ وہاں پاکستان کو رنز روکنے کی ضرورت تھی مگر کپتان کے کچھ قابلِ بحث فیصلوں اور بولنگ کی کچھ بدنظمی نے ایسا ہونے نہ دیا۔ وہ پچاس کے لگ بھگ رنز ہی تھے کہ جو کریگ براتھویٹ کا صبر آزما رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر جہاں یہ واضح نظر آ رہا تھا کہ پرانے گیند کے ساتھ میڈیم پیسرز زیادہ کامیابی کے ضامن تھے، وہاں بابر اعظم نے فہیم اشرف اور محمد عباس سے رجوع کرنے کی بجائے گیند شاہین آفریدی اور حسن علی کو تھما دیا۔
یہ بھی پڑھیے
شاہین آفریدی نے بلاشبہ لنچ کے بعد ایک بہت لاجواب اوور پھینکا اور قریب تھا کہ ہیٹ ٹرک چانس چوکنے کے باوجود تیسری وکٹ بھی حاصل کر جاتے مگر اس اوور کے سوا، بحیثیتِ مجموعی ان کی بولنگ ان کے اپنے ہی معیارات سے پست تھی۔
اس کا نقصان یہ ہوا کہ ہولڈر کو بآسانی ففٹی تک پہنچنے اور ویسٹ انڈیز کو خسارہ مٹانے کا پورا پورا میدان فراہم ہو گیا۔ اگرچہ دیر آید، درست آید کے مصداق جونہی بابر اعظم فہیم اشرف کی طرف پلٹے تو ہولڈر کی وکٹ کی صورت میں فوری کامیابی ملی مگر تب تک دوسرے کنارے پہ کھڑے براتھویٹ میچ پہ چھا چکے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حالیہ بیٹنگ فارم کے سبب تنقید کی زد میں رہنے والے ویسٹ انڈین کپتان نے ان مشکل بیٹنگ کنڈیشنز میں اپنی بیٹنگ لائن کی لاج رکھنے کا بیڑا اٹھایا اور سینچری سے دو چار ہاتھ پیچھے رہ جانے کے باوجود اپنی ٹیم کو برتری کی راہ پہ ڈال گئے۔
گو میچ ابھی ہاتھ سے پھسلا نہیں اور بتدریج بیٹنگ کے لیے سہل ہوتی وکٹ پہ تیسری اننگز میں ساڑھے تین سو کے لگ بھگ رنز جوڑے جا سکتے ہیں لیکن پھر بھی پاکستانی ڈریسنگ روم میں کافی مایوس چہرے یہ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر ایسا کیا غلط کر بیٹھے جو توقعات یوں دھوکہ کھا گئیں۔
شاید یہ اندازے کی غلطی تھی جو بابر اعظم وکٹ کی بدلتی چال کو سمجھنے میں چُوک گئے۔ یا شاید یہ شاہین شاہ آفریدی کی بھول تھی کہ 'درست' بولنگ کرنے کی بجائے سارا دھیان تیز بولنگ پہ دے چھوڑا۔
خیر پھر بھی سیکھنے کو یہ سبق برا نہیں کہ پیس کی اہمیت اپنی جگہ مگر 'تیز' بولنگ کرنے کی بجائے 'درست' بولنگ کرنا زیادہ ضروری ہے۔













