پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز پر سمیع چوہدری کا کالم: ’ایسی فیلڈنگ قسمت کو بھی ہرا سکتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
یوں تو قسمت زندگی کے ہر پہلو میں کہیں نہ کہیں دخیل رہتی ہے مگر ٹیسٹ کرکٹ سے اس کا ناطہ کچھ زیادہ ہی عجیب اور پیچیدہ ہے۔
وہی گیند جو میچ کے اختتامی لمحات میں محمد رضوان کی آنکھوں کے عین سامنے زمین پر گر گیا، اگر ذرا مختلف زاویے سے بلے کو چُھو کر گزرا ہوتا تو پاکستان ایک نہایت یادگار فتح کے ساتھ سیریز میں برتری حاصل کر چکا ہوتا۔
اور اس غیر متوقع جیت نے پچھلے چار روز کی کئی خامیوں کی پردہ پوشی کر چھوڑی ہوتی۔ کوئی یہ نہ کہتا پایا جاتا کہ ٹاپ آرڈر کی ناکامی اس بیٹنگ لائن کو گُھن کی طرح چاٹ رہی ہے۔ نہ ہی کسی کو یہ یاد رہتا کہ عمران بٹ کے فٹ ورک میں اتنی کنفیوژن کیوں ہے۔
محمد رضوان کا چار فیلڈرز کے بیچ باؤنڈری کے عین قریب ایک عمدہ کیچ سبھی حافظوں میں محفوظ ہو چکا ہوتا۔ عمران بٹ کا دوسری سلپ سے لپک کر عابد علی کے سامنے سے کیچ جھپٹ لینا یوٹیوب ویڈیوز میں وائرل ہو رہا ہوتا۔
شاہین شاہ آفریدی کا پہلا سپیل اس میچ کی ہائی لائٹ قرار پاتا اور یہ جیت ان سبھی ڈراپ کیچز کی بھی پردہ پوشی کر جاتی جو محمد رضوان، محمد عباس اور حسن علی سے سرزد ہوئے۔
مگر قسمت کو اپنے طور سے چلنا تھا، سو چلی۔ چائے کے وقفے کے بعد اوسطاً ہر اوور میں دو گیندیں ایسی ہو رہی تھیں جو بلے باز چاہ کر بھی چھو نہیں پا رہے تھے۔ یہ چیز پاکستانی بولرز کے لیے نہایت حوصلہ افزا تھی۔ مگر دوسری جانب ویسٹ انڈین بلے باز قسمت کے ممنون ہو رہے تھے کہ کئی گیندیں نہایت خطرناک ’ایج‘ لینے کے باوجود سٹمپس اور قریبی فیلڈرز کی پہنچ سے دور رہ گئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بہرحال یہ نہایت ہی دلچسپ ٹیسٹ کرکٹ کا مظاہرہ تھا جو گذشتہ چار دن جمیکا میں دیکھنے کو ملا۔ پچ نے سبھی توقعات اور تخمینوں کو مات کر ڈالا اور دونوں ٹیموں کے بلے باز کھوجتے ہی رہ گئے کہ اس وکٹ پر کامیاب تکنیک کیا ہو سکتی ہے۔
پہلے روز بے تحاشہ سیم موومنٹ نے بلے بازوں کو پریشان کیے ڈالا۔ دوسری شام ذرا دیر کو وکٹ بیٹنگ کے لیے قدرے سہل ہوتی دکھائی دی مگر تیسری صبح یہ پھر سے بولنگ کے لیے بہترین ہو گئی۔ بابر اعظم اور محمد رضوان کی شراکت داری کے بیچ کچھ پل کو مستقل مزاج ہوتی نظر آ رہی تھی مگر اچانک بارش نے پھر سے اس میں دقت پیدا کر دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سمیع چوہدری کے دیگر کالم
یہ عجیب گرین ٹاپ تھی کہ جہاں تیسرے دن سے ہی کئی گیندیں بالکل بیٹھنے لگیں۔ کمنٹری باکس میں کولن کروفٹ نے بجا تجزیہ کیا کہ اگر ہوا میں ایسی نمی موجود نہ ہوتی تو گھاس تیسرے روز خشک ہو چکی ہوتی مگر نم آلود موسم نے گھاس کو بھی زندہ رکھا اور ویسٹ انڈین کنڈیشنز کی قدرتی تحلیل کے عمل میں وکٹ کے دوغلے باؤنس نے الگ سے بلے بازوں کو چکرا چھوڑا۔
لیکن اگر بابر اعظم کی ٹیم ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے رواں سائیکل میں کسی نمایاں کارکردگی کی خواہاں ہے تو اس بیٹنگ یونٹ کو بھی اپنے بولنگ یونٹ جیسا جذبہ اور تسلسل پیدا کرنا ہو گا۔ جتنے قلیل ہدف کا تعاقب ویسٹ انڈیز کو کرنا تھا، اگر پاکستانی سیمرز ایسی تباہ کن بولنگ نہ کرتے تو ویسٹ انڈیز کی فتح کا مارجن بہت بہتر ہو سکتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بابر اعظم کے لیے بھی یہ ایک بہترین میچ رہا۔ اگرچہ وہ جیت اپنے نام نہ کر پائے لیکن قلیل مجموعے کے دفاع میں جیسی باریک بین اور زیرک اپروچ درکار تھی، وہ اس پر پورا اُترے۔ بولرز کا بہترین استعمال کیا اور اہم ترین بات یہ کہ بلیک ووڈ کی پارٹنرشپ کے مشکل لمحات میں بھی حواس برقرار رکھے۔
اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان اس میچ میں اپنی بری کرکٹ کے سبب ہارا تو یہ زیادتی ہو گی۔ دو سیشنز کے سوا پاکستان نے بہترین کرکٹ کھیلی مگر کمی صرف پارٹنرشپس کی رہ گئی۔ سیریز بچانے کی خاطر اب اگلے میچ میں اس بیٹنگ لائن کو بھی اپنے وقار کی لاج رکھنا ہو گی۔
سیریز سے پہلے سبھی تجزیوں میں یہ نکتہِ متفقہ تھا کہ امتحان ویسٹ انڈین بیٹنگ کا ہو گا کیونکہ پاکستانی بیٹنگ حالیہ چند سیریز میں اپنی حیثیت واضح کر چکی تھی۔ لیکن براتھویٹ کے ساتھیوں نے یہ مفروضہ پلٹ کر پاکستان پر ڈال دیا۔
اگر پاکستان کو چیمپئین شپ کا خواب زندہ رکھنا ہے تو یہ طے ہے کہ ایسی فیلڈنگ جیتے ہوؤں کو بھی ہرا سکتی ہے کیونکہ یہ تو طرف داری پر آمادہ قسمت کو بھی مایوس کر سکتی ہے۔













