پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش ٹیسٹ سیریز: سب کو یقین آگیا کہ پاکستان آٹھ وکٹوں سے جیت گیا

عابد علی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

یہ پاکستانی کرکٹ ٹیم بھی خوب ہے، جب تک جیت نہ جائے کسی کو یقین نہیں آتا کہ وہ جیت گئی ہے۔ خاص طور پر اُس وقت جب بیٹسمین اسے جیت کی طرف لے جا رہے ہوں۔

چٹاگانگ ٹیسٹ کے چوتھے دن جب پاکستانی ٹیم جیت کے لیے درکار 202 میں سے 109 رنز بنا چکی تھی اور آخری دن اسے صرف 93 رنز بنانے تھے تو بہت سے ذہنوں میں ماضی کے ایسے متعدد ٹیسٹ میچز گھومنے لگے جن میں پاکستانی ٹیم نے محض چند رنز کے فرق سے جیت طشتری میں رکھ کر اپنے حریفوں کو تھما دی تھی لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔

چٹاگانگ ٹیسٹ ماضی کا ہیڈنگلے، سڈنی، گال، فیصل آباد اور ابوظہبی ٹیسٹ ثابت نہیں ہوا بلکہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کے اوپنرز عابد علی اور عبداللہ شفیق نے زیادہ مثبت اور جلد سے جلد ہدف تک پہنچنے کی سوچ اختیار کر کے کپتان بابراعظم کو ایک بڑے بوجھ سے آزاد کردیا۔

بیٹسمین کی جارحانہ حکمت عملی، بنگلہ دیشی کوچ پہلے ہی مایوس

پاکستانی ٹیم نے پانچویں دن بیٹنگ شروع کی تو اس سے پہلے ہی بنگلہ دیشی کیمپ میں نوشتہ دیوار پڑھا جا چکا تھا۔ کوچ رسل ڈومینگو کہہ چکے تھے کہ ان کی ٹیم میں یقین کی کمی نظر آئی، اہم مواقع پر کی گئی غلطیوں کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔

بنگلہ دیش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عابد علی اور عبداللہ شفیق نے سلسلہ وہیں سے شروع کیا جہاں انھوں نے گذشتہ شام روکا تھا۔ عبادت حسین اور تائج الاسلام کے پہلے تین اوورز دیکھ بھال سے کھیلنے کے بعد عابد علی نے تائج الاسلام کو سوئپ کر کے چوکا لگایا تو اگلے ہی اوور میں عبداللہ شفیق نے بھی عبادت حسین کو آن ڈرائیو کر کے چار رنز حاصل کیے تاہم یہ محض ابتدا تھی۔

پہلی اننگز میں سات وکٹیں لینے والے تائج الاسلام اب تک اپنا اثر کھو چکے تھے۔ ان کے اگلے ہی اوور میں عابد علی نے لگاتار تین چوکے لگا کر یہ باور کرادیا کہ ہدف تک پہنچنے کے لیے اب زیادہ احتیاط یا تاخیر کی ضرورت نہیں۔

عبداللہ شفیق بڑے اعتماد سے بیٹنگ کرتے ہوئے ڈیبیو سنچری کے بارے میں ذہن بنا رہے تھے کہ مہدی حسن کی گیند کو سوئپ کرنا انھیں مہنگا پڑگیا۔ اگرچہ انھوں نے اپنی وکٹ بچانے کے لیے ریویو کا سہارا بھی لیا لیکن پچھلے تھائی پیڈ پر لگنے والی گیند صاف بتا رہی تھی کہ انھیں کریز چھوڑنی پڑے گی۔

جب عبداللہ شفیق آٹھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 73 رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کا سکور 151 رنز تھا اور جیت کے لیے اب صرف 51 رنز درکار تھے۔

عابد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عابد علی: دونوں اننگز میں سنچری کے اعزاز سے محروم

عبداللہ شفیق کے آؤٹ ہونے کے بعد دلچسپی کی بات یہی رہ گئی تھی کہ عابد علی میچ میں اپنی دوسری سنچری مکمل کرتے ہیں یا نہیں؟ انھیں جب بھی موقع ملتا وہ گیند کو باؤنڈری کا راستہ دکھانے میں کسی قسم کی رعایت برتنے کے لیے تیار نہیں تھے لیکن پھر خود انھیں بھی پویلین کی راستہ دیکھنا پڑ گیا۔

عابد علی نے تائج الاسلام کی گیند کی لائن سمجھنے میں غلطی کی۔ انھوں نے اظہر علی سے مشورے کرنے کے بعد اگرچہ ریویو لیا لیکن ان کا انداز بتا رہا تھا کہ فیصلہ ان کے حق میں نہیں ہوگا۔

انھوں نے بارہ چوکوں کی مدد سے 91 رنز بنائے اور اس طرح وہ ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچری کے اعزاز سے محروم رہ گئے۔

اگر وہ دوسری اننگز میں بھی سنچری بنانے میں کامیاب ہو جاتے تو وہ ایسا کرنے والے والے پاکستان کے 10ویں بیٹسمین بن جاتے۔ ان میں سے یاسر حمید نے یہ اعزاز اپنے اولین ٹیسٹ میں حاصل کیا تھا۔

عابد علی پاکستان کے ساتویں بیٹسمین ہیں جو ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچری بناتے بناتے رہ گئے۔ ان سے قبل حنیف محمد، ظہیر عباس، محسن خان، سعید انور، یونس خان اور محمد حفیظ کے ساتھ یہ بدقسمتی رہی تھی۔

اظہر علی اور بابر اعظم کی اپنی کہانی

پاکستانی ٹیم نے اپنے دو تجربہ کار بیٹسمینوں کی موجودگی میں منزل پر قدم رکھ دیے۔ اظہر علی کے لیے اگرچہ اس اننگز میں بڑا سکور کرنے کا کوئی موقع نہ تھا لیکن وہ پہلی اننگز کے صفر کا بوجھ لیے کریز پر آئے تھے۔

بابر اعظم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شاید یہی وجہ ہے کہ مہدی حسن کے اوور کی آخری گیند کو وہ اعتماد سے نہیں کھیل پائے اور پھر ان کا اگلا اوور میڈن کھیلنے پر مجبور رہے تاہم اپنی نویں گیند پر پہلا رن لے کر انھوں نے پیئر کی خفت سے دوچار ہونے سے خود کو دور کر لیا۔

اسی بارے میں

کپتان بابر اعظم نے تائج الاسلام کو مڈ آن پر چوکا لگا کر ابتدا کی لیکن ان کے اگلے اوور میں وہ ان ہی کے ہاتھوں کیچ ہونے سے بال بال بچے۔ تاہم اس کے بعد وہ مزید کوئی موقع دینے کے موڈ میں نہیں تھے۔

ان دونوں بیٹسمین نے حوصلہ چھوڑتی ہوئی میزبان بولنگ کو ایک طرف کر کے نیا پار لگا دی۔

بنگلہ دیش نے اس میچ میں چند موقعوں پر پاکستان کو پہلی بار ٹیسٹ میں ہرانے کے خواب ضرور دیکھے لیکن ان خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے ابھی مزید انتظار رہے گا۔ فی الحال پاکستانی ٹیم نے سب کو یقین دلادیا کہ وہ یہ ٹیسٹ میچ جیت گئی ہے۔