پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش ٹیسٹ سیریز: 202 رنز کے ہدف کی جانب پاکستان کا پراعتماد آغاز، جیت صرف 93 رنز کی دوری پر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ یہ عجیب معاملہ ہے کہ جب بھی اسے ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے چوتھی اننگز میں بیٹنگ کرنی ہوتی ہے یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں موجود ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی بیٹسمین منزل تک پہنچ پائیں گے؟
جتنا کم ہدف ہوتا ہے وسوسے اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں جو غلط بھی نہیں ہوتے کیونکہ جب بھی پاکستانی ٹیم کو جیتنے کے لیے چھوٹا ہدف ملا ہے بلے بازوں کے قدم بری طرح ڈگمگائے ہیں اور جیت ہار میں تبدیل ہوئی ہے۔
چٹوگرام (سابق چٹاگانگ) ٹیسٹ میں شاہین شاہ آفریدی کے گرم خون نے چوتھے دن کے کھیل کو گرما کر رکھ دیا۔ ان کی پانچ وکٹوں کی غیرمعمولی کارکردگی نے بنگلہ دیش کے قدم 157 رنز پر روک دیے اور اس طرح پاکستان کے حصے میں 202 رنز آئے ہیں جنھیں حاصل کر کے وہ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی سبقت حاصل کر لے۔
پاکستانی دوسری اننگز میں کیا ہوا؟
پاکستان نے جب اپنی دوسری اننگز شروع کی تو اس کی جیت کی راہ میں سب سے بڑا خطرہ لیفٹ آرم سپنر تائج الاسلام سمجھے جا رہے تھے جنھوں نے پہلی اننگز میں سات وکٹیں لے کر عابد علی اور عبداللہ شفیق کی اوپننگ شراکت ختم کرنے کے بعد مڈل آرڈر بیٹنگ میں بھی اظہر علی اور فواد عالم کی قیمتی وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کے لیے بڑے سکور تک پہنچنے کے راستے روک دیے تھے۔
عابد علی اور عبد اللہ شفیق نے اسی ُامید پر دوسری اننگز شروع کی کہ وہ پہلی اننگز کی طرح ایک مستحکم آغاز کے ذریعے جیت تک پہنچنے کا راسستہ آسان بنا دیں گے۔
ڈریسنگ روم میں بیٹھے کپتان بابراعظم اور دیگر کھلاڑیوں کی نظریں بھی ان دونوں کے جیت کی طرف جاتے ہوئے ایک ایک قدم کا بغور جائزہ لے رہی تھیں۔
یہ دونوں کھیل کے اختتام پر سکور کو 109 رنز تک لے آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پہلی اننگز میں کچھوے کی چال سے بیٹنگ کرنے والے عبداللہ شفیق اس مرتبہ دفاعی خول سے باہر نکلے اور زیادہ اعتماد سے بیٹنگ کرتے ہوئے نظر آئے۔ وہ 53 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب عابد علی کی ثابت قدمی اپنی جگہ قائم ہے اور وہ 56 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔
پاکستان کے اوپنرز نے دوسری مرتبہ کسی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچری پارٹنرسپ قائم کی ہے اس سے قبل سنہ 2003 میں جنوبی افریقہ کے خلاف لاہور ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں اوپنرز عمران فرحت اور توفیق عمر نے سنچری پارٹنرشپ قائم کی تھی۔
پاکستانی ٹیم میچ کے آخری دن اپنی دوسری اننگز شروع کرے گی تو اسے جیت کے لیے صرف 93 رنز درکار ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے
بابر اور اظہر پر بڑی اننگز قرض ہیں
پاکستانی ٹیم کی مڈل آرڈر بیٹنگ کی دو توپیں بابر اعظم اور اظہر علی کافی دنوں سے خاموش ہیں۔
بابر اعظم فروری 2020 میں بنگلہ دیش کے خلاف پنڈی ٹیسٹ میں 143 رنز کی اننگز کے بعد سے بغیر سنچری کے 16 اننگز کھیل چکے ہیں۔
اظہر علی اس سال 13 ٹیسٹ اننگز میں صرف ایک سنچری اور دو نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شاہین آفریدی کے ہاتھ میں گیند ہونی چاہیے
کسی بولر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وائٹ بال کا بہترین بولر ہے تو کسی کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ ریڈ بال پر کمال مہارت رکھتا ہے لیکن شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ یہ معاملہ نہیں۔ ان کے ہاتھ میں بس گیند ہونی ضروری ہے کیونکہ وہ وکٹیں لینے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔
بنگلہ دیش کی پہلی اننگز میں جب حسن علی نے بساط لپیٹی تو اس وقت شاہین آفریدی کے حصے میں دو ہی وکٹیں آئی تھیں لیکن دوسری اننگز میں انھوں نے ابتدا ہی سے جو مہلک وار کیے ان کا جواب بنگلہ دیشی بیٹسمینوں کے پاس نہ تھا۔
تیسرے دن کے اختتام تک گرنے والی بنگلہ دیش کی چار وکٹوں میں سے تین شاہین آفریدی کے نام رہی تھیں اور چوتھے دن وہ اپنی خطرناک بولنگ سے نہ صرف مزید دو وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے بلکہ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے یاسر علی کو ریٹائرڈ ہرٹ کر کے سکین کے لیے ہسپتال بھیجنے کے بھی ذمہ دار ٹھہرے۔
شاہین شاہ آفریدی اس سال ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر بھی بن گئے ہیں۔ آٹھ ٹیسٹ میچوں میں ان کی وکٹوں کی تعداد 44 ہو گئی ہے۔ انڈیا کے آف سپنر روی چندرن اشون نے بھی سات ٹیسٹ میچوں میں 44 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMUNIR UZ ZAMAN
لٹن داس ایک بار پھر۔۔۔
پاکستانی ٹیم لٹن داس کو نصف سنچری بنانے سے نہ روک سکی جنھوں نے پہلی اننگز میں بھی عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے سنچری بنائی تھی۔
لٹن داس پہلی اننگز میں67 رنز پر ڈراپ کیچ کا فائدہ اٹھا کر سنچری بنا گئے تھے۔
اس مرتبہ 8 کے انفرادی سکور پر نعمان علی کی گیند پر رضوان نے انھیں اسٹمپڈ کرنے کا موقع ضائع کر دیا۔
اس کے علاوہ جب ان کا سکور 26 تھا تو امپائر نے انھیں شارٹ لیگ پر کیچ آؤٹ دے دیا تھا لیکن ریویو لٹن داس کی اننگز بچا گیا۔











