آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنل پر سمیع چوہدری کا کالم: یہ ’قسمت‘ کا ورلڈ کپ تھا
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
شاذ ہی کوئی عالمی کرکٹ ایونٹ ایسا ہوا ہو گا جہاں ٹاس نے اس قدر اہمیت اختیار کیے رکھی ہو کہ جو ٹاس ہارے، گویا میچ ہی ہار جائے۔ اس تناظر میں حالیہ ورلڈ کپ کو کرکٹ کی بجائے قسمت کا ورلڈ کپ بھی کہا جا سکتا ہے۔
انگلینڈ اور پاکستان اس ٹورنامنٹ کی مضبوط ترین ٹیمیں تھیں جو گروپ سٹیج سے ہی ٹائٹل کے لیے واضح فیورٹ نظر آ رہی تھیں لیکن ناک آؤٹ سٹیج میں آ کر مورگن اور بابر اعظم اپنے اپنے ٹاس ہارے اور ساتھ ہی ٹرافی کی امید بھی۔
ولیمسن نے دو سال کے نہایت مختصر عرصے میں تیسرے عالمی ایونٹ کا فائنل کھیل کر ثابت کر دیا کہ اچھی ٹیم بنانے کے لیے ڈیڑھ ارب آبادی اور کروڑوں سالانہ تنخواہ جیسے وسائل کا ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی بے تحاشہ سٹارڈم کسی کامیابی کی کلید ہو سکتا ہے۔
کیوی ٹیم دھواں دھار، مار دھاڑ والی کرکٹ نہیں کھیلتی بلکہ اس کی گیم پلاننگ کی بنیاد ’میچ اپ‘ اور ’پرسینٹیج‘ والی سمارٹ کرکٹ پر ہے۔ یہ ذہانت اور منصوبہ سازی والی کرکٹ ہی ہے جو ہر فارمیٹ میں ان کے لیے بار بار کامرانیوں کی نوید لا رہی ہے۔
یہاں بھی ان کی ٹیم نے کچھ ایسی ہی کرکٹ کھیلنا تھی مگر ٹاس نے ساری پلاننگ ہی درہم برہم کر دی۔
عرب امارات کی کنڈیشنز میں ٹاس کا کردار معمول سے ذرا الگ ہے۔ عموماً ٹاس جیتنے والے پہلے بولنگ اس لیے کیا کرتے ہیں کہ دوسری اننگز میں اوس کے سبب گیند کو سنبھالنا مشکل ہوتا ہے اور یوں بیٹنگ آسان ہو جاتی ہے۔
اوس نہ بھی پڑے، گھاس سے محروم سخت وکٹیں دوسری اننگز میں جا کر بلے باز کے لیے سہولت بن جاتی ہیں اور گیند کھل کر بلے پر آنے لگتا ہے۔
جبھی ہمیں پورے ٹورنامنٹ میں یہ پیٹرن نظر آیا کہ پہلی اننگز کے پانی کے وقفے تک اوسط مجموعہ 70 کے لگ بھگ رہتا تھا لیکن اگلے دس اوورز میں بآسانی 100 رنز بھی بن جایا کرتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ولیمسن اگر یہاں ٹاس نہ ہارتے تو یقیناً اس میچ کی کہانی بھی مختلف ہوتی لیکن مقابلے پر جو آسٹریلوی ٹیم تھی، اس کی کہانی اس سے بھی کہیں مختلف تھی۔
اس گلوبل ایونٹ کے آغاز سے چند ہی ماہ پہلے آسٹریلوی ڈریسنگ روم بحران کا شکار تھا۔ کئی سینیئر کھلاڑی کوچ جسٹن لینگر کے رویے اور کوچنگ سٹائل سے شدید نالاں تھے۔ دوسری جانب ایرون فنچ کی انجری نے ان کی ورلڈ کپ میں شمولیت پر سوالیہ نشان پیدا کر چھوڑے تھے۔
ٹورنامنٹ کا آغاز ہوا تو مبصرین کی نظر میں بھلے انڈیا اور انگلینڈ فیوریٹ تھے مگر آسٹریلیا تب تک صحیح الیون بنانے کو تڑپ رہا تھا۔ فنچ اور ان کی انتظامیہ یہی طے نہیں کر پا رہے تھے کہ پانچواں بولر کھلائیں یا ایک اضافی بلے باز کو ترجیح دیں۔
شروع میں سٹوئنس سے ون ڈاؤن بیٹنگ کروا کر بھی دیکھی مگر بات بنی نہیں۔ پھر ایشٹن ایگر کو بٹھا کر ان کی جگہ مچل مارش کو ون ڈاؤن پر بلے بازی کے لیے لایا گیا۔ اور یہی تزویراتی فیصلہ بالآخر کینگروز کی کامیابی کی بنیاد بن گیا۔
یہ بھی پڑھیے
آسٹریلویوں کے بارے کرکٹ حلقوں میں عمومی تصور یہ تھا کہ وہ ٹی ٹونٹی کرکٹ کو شغل میلے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے کیونکہ روایتی طور پر وہ ٹیسٹ اور ون ڈے فارمیٹ کے قدر دان رہے ہیں لیکن کل شب فنچ کی ٹیم نے ثابت کر دیا کہ اب وقت بدل چکا ہے اور آسٹریلوی کرکٹ بھی۔
دوسری جانب ولیمسن ایک بار پھر قسمت کی نگہِ انتخاب سے خائف ہوں گے لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ان کی پاور پلے بولنگ ہی ایسی تھی کہ یہاں شاید قسمت بھی کچھ تبدیل نہ کر پاتی۔
بولٹ کے سوا کوئی بھی بولر اس معیار کی بولنگ نہیں کر پایا جو فائنل جیسے میگا میچ کا تقاضا تھی۔ ساؤدی کو جونہی وارنر نے اٹیک کیا، ان کے سبھی پلان دھرے رہ گئے اور وہ لینتھ کی بھول بھلیوں میں کھو گئے۔ جس جس نے لینتھ کھینچی، وارنر اور مارش نے اس پر بخوبی ہاتھ کھولے۔
ولیمسن بلا کے ذہین کپتان ہیں لیکن ایک اہم تزویراتی غلطی یہ بھی کر گئے کہ پانی کے وقفے کے بعد فوری طور پر نیشم کو اٹیک میں لے آئے۔ اگرچہ یہ فارمولہ پچھلے سبھی میچز میں کامیاب رہا تھا مگر یہاں بولٹ کی ضرورت تھی۔
ولیمسن بولٹ کو بھی اٹیک میں واپس تو لائے مگر ایک ایسا اوور گزرنے کے بعد جہاں شاید کھیل پانسہ پلٹ چکا تھا۔ اگرچہ اپنی ورائٹی کے سبب، نیشم بہت زبردست بولر ہیں مگر یہاں حالات کا تقاضہ میڈیم پیس نہیں، بھرپور پیس تھا۔
ان تزویراتی پہلوؤں سے سوا، بہرحال یہ ورلڈ کپ ایک خاص پیٹرن پر چلا اور جس طرح سے یہ پیٹرن کھلا، اسے اگر کرکٹ کی بجائے قسمت کا ورلڈ کپ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو گا۔