آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں انڈیا کی سکاٹ لینڈ کے خلاف فتح پر سمیع چوہدری کا تجزیہ: ’یہ شاید ورلڈ کپ کا میچ نہیں‘
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
اس ورلڈ کپ کے پہلے راؤنڈ کے آغاز سے قبل سکاٹ لینڈ کے کوچ نے کہا تھا کہ ان کا مطمعِ نظر صرف ورلڈ کپ میں شمولیت نہیں ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ لوگ اس ٹیم کو صرف اس حوالے سے یاد رکھیں کہ ایک ورلڈ کپ کھیلا اور غائب ہو گئے۔
انھوں نے یہ تنبیہہ بھی کی تھی کہ وہ بنگلہ دیش کے لیے مشکل ترین جوڑ ثابت ہوں گے۔ اپنے الفاظ کا احترام کرتے ہوئے انھوں نے شروع میں ہی ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد بنگلہ دیش کو شکست سے دوچار کر ڈالا۔
یہ فتح سکاٹ لینڈ کی اگلے مرحلے میں رسائی کے لیے کلیدی ثابت ہوئی اور اس خود اعتمادی نے اگلے دو میچز میں ان کی فتح آسان تر کر دی۔
دوسرے راؤنڈ میں لیکن ان کا سفر ذرا الگ ڈگر پہ چل نکلا۔
افغانستان کے ہاتھوں پہلے ہی میچ میں درگت بننے کے بعد یہ ٹیم اعتماد اور دستیاب وسائل میں کچھ ایسے گری کہ اٹھتے اٹھتے دو مزید میچز گزر گئے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اور پھر نیوزی لینڈ کے خلاف ان کے بولنگ اٹیک کی کاوش اور بیٹنگ لائن کی مزاحمت اس قدر قابلِ رشک تھی کہ اپ سیٹ کے امکانات تک جگا دیے۔ لیکن انڈیا کے خلاف سکاٹ لینڈ نے اپنے سبھی جیتے جاگتے امکانات اور احساسات، خود ہی سلا دیے۔
بلاشبہ کوہلی کی ٹیم کوئٹزر کی الیون سے دس گنا بہتر تھی مگر مقابلے اور مسابقت کا کچھ تو معیار برقرار رکھا جا سکتا تھا۔ کوہلی عموماً ٹاس نہیں جیتا کرتے لیکن یہاں وہ بالآخر ٹاس بھی جیت ہی گئے۔ انڈین ٹیم صرف فتح ہی نہیں، رن ریٹ کو بھی 'بُوسٹ' کرنے کے لیے کھیل رہی تھی۔
کیونکہ کچھ مثبت پسندوں کو ابھی یہ امید ہے کہ اپنے پرائم سپنر مجیب کی اچانک واپسی سے افغانستان نیوزی لینڈ کو اپ سیٹ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اور رن ریٹ انڈین ٹیم کو سیمی فائنل میں وائلڈ کارڈ انٹری دلوا دے گا۔
یہ بات یقیناً اس سکاٹش کیمپ کے علم میں بھی رہی ہو گی جو ایک ہی ورلڈ کپ کے بعد 'غائب' ہو جانے والی ٹیم نہیں بننا چاہتے تھے۔
ایسوسی ایٹ ٹیموں کے لیے ورلڈ کپ لیول کی کرکٹ کو باوقار انداز سے کھیلنے کا یہی ممکنہ طریقہ ہوتا ہے کہ مقابلے کو یکطرفہ نہ ہونے دیں اور اپنی بہترین کاوش لائیں۔ شکست بھلے نوشتۂ دیوار ہو مگر مارجن ہرگز شرمناک نہ ہونے پائے۔
لیکن جیسی کرکٹ اس سکاٹش ٹیم نے انڈیا کے خلاف پیش کی، وہ اس سطح کے ایونٹ کے بھی شایانِ شان نہیں تھی۔ بیٹنگ میں یہ ٹیم یکسر سہمی ہوئی نظر آئی اور سپن کے خلاف تکنیکی مسائل کھل کر عیاں ہوئے۔
جدیجہ کو وکٹ سے تھوڑی 'گرِپ' مل رہی تھی اور جب سپن ہوتا گیند وکٹ میں ذرا رک کر آنے لگے تو اچھے بھلے بلے باز بھی محتاط ہو جایا کرتے ہیں۔
سکاٹ لینڈ کے بلے باز مگر احتیاط بھی نہ کر پائے اور دفاع کی نوبت بھی نہ آ سکی۔
جس انداز میں انڈیا نے اس ہدف کا تعاقب کیا، وہ کسی بھی اعتبار سے کسی بین الاقوامی ٹورنامنٹ کا میچ نہیں لگا۔ بلکہ دنیا بھر کی ٹی ٹونٹی لیگز میں بھی اس طرح کی یکطرفہ جارحیت کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے جو ورلڈ کپ جیسے ایونٹ کے اس میچ میں ملی۔
روہت شرما اور لوکیش راہول ایسے کھیلے جیسے کوئی میگا ایونٹ کا میچ نہیں، کسی سکول کا کوئی سپورٹس گالا میچ ہو جس میں وہ اعزازی طور پہ بچوں کی دلجوئی کے لیے کھیلنے آئے ہوں۔
بیٹنگ کی طرح بولنگ میں بھی سکاٹش لائن اپ اپنے اہداف سے بھٹکا رہا۔ سیم موومنٹ محدود ہونے کے باوجود بے مقصد فُل لینتھ کو ٹارگٹ کیا گیا اور نتیجتاً صرف شرما اور راہول کی سہولت کا سامان ہوتا رہا۔
انڈیا کی یہاں جیت اس حد تک متوقع تھی کہ اسے یقینی کہا جا سکتا تھا مگر یہ جیت اس طرح کی کہانی سے نکلے گی، یہ شاید خود کوہلی نے بھی نہ سوچا ہو گا۔
وہ بھی اس کو ورلڈ کپ کا میچ سمجھ کر ہی کھیلنے آئے ہوں گے مگر یہ شاید ورلڈ کپ کا میچ نہیں، کسی فیسٹیول کا میچ تھا۔