ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سیمی فائنل میں آسٹریلیا سے شکست کے بعد بابر اعظم، میتھیو ہیڈن اور ثقلین مشتاق کا پاکستان ٹیم کے لیے ہمت کا پیغام

’دکھ سب کو ہے، ہم نے کہاں غلط کیا اور کہاں اچھا کرنا چاہیے تھا۔۔۔ یہ ہمیں کوئی بھی نہیں بتائے گا، سب کو پتا ہے۔ لیکن اس سے ہم نے سیکھنا ہے۔ ہمارا جو یہ یونٹ بنا ہوا ہے یہ ٹوٹے نہ۔ نہ کوئی کسی پر انگلی اٹھائے کہ اس نے ایسے کر دیا۔۔۔‘

جب بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کوئی بڑا میچ کھیلتی ہے تو ان کے مداحوں کا ردعمل میچ کے نتیجے پر منحصر ہوتا ہے: اگر جیت جائیں تو ’واہ، واہ‘، ہار جائیں تو لعن طعن۔

لیکن کپتان بابر اعظم کے اپنے لڑکوں کو کہے گئے یہ الفاظ سن کر پاسکتان ٹیم کے ہر سچے چاہنے والے کا دل ضرور خوش ہوا ہوگا۔

ماضی میں اکثر پاکستان جب بھی کوئی ایسا بڑا میچ ہارا ہے تو کسی نہ کسی کھلاڑی پر انگلیاں ضرور اٹھائی گئیں، چاہے وہ 1996 کے کوارٹر فائنل میں عامر سہیل ہوں، 1999 کے فائنل میں سعید انور یا 2007 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنل میں مصباح الحق۔

تاہم انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان ٹیم کی آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست میں کوئی شرمندگی کی بات نہیں ہے، اور یہی وہ پیغام تھا جو میچ کے بعد ڈریسنگ روم میں کپتان بابر اعظم اور کوچز ثقلین مشتاق اور میتھیو ہیڈن نے اپنے اپنے پیغاموں میں ٹیم کے لڑکوں کو دیا۔

میچ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تینوں نے باری باری ڈریسنگ روم میں بیٹھے کھلاڑیوں سے بات چیت کی اور انھیں رنجیدہ ہونے کے بجائے مستحکم ہونے کا سبق دیا۔

اس ویڈیو، جو کہ بظاہر میچ ختم ہونے کے بعد ٹیم کے ڈریسنگ روم میں فلم بند کی گئی، میں ٹیم ٹاک کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں پاکستان ٹیم کے کپتان اور مینیجمنٹ کے ارکان باری باری لڑکوں سے بات کرتے ہیں اور مختلف موقعوں پر ٹیم کے اراکین کا ردعمل بھی دکھایا گیا ہے۔ ظاہر ہے، زیادہ تر کے چہروں پر دکھ کے آثار نمایاں ہیں۔

بابر اعظم: ’ہر میچ میں ہر بندے نے ذمہ داری لی، یہی چاہیے ہوتا ہے‘

ویڈیو میں سب سے پہلے بابر اعظم تمام ٹیم اور دیگر حکام کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور پھر سب کو تاکید کرتے ہیں: ’ہم نے ٹیم کے طور پر اچھا نہیں کھیلا، کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے، ٹھیک ہے؟‘

’سارے مثبت بات کریں، کوئی منفی بات نہیں۔ ہار گئے ہیں، ہاں ہار گئے ہیں، کوئی مسئلہ نہیں لیکن سیکھیں گے اس سے۔ آگے جو آئے گی کرکٹ اس میں ہم یہ چیزیں نہیں دہرائیں گے۔‘

انھوں نے ٹیم کے درمیان پیدا ہونے والی کیمسٹری کی، جس کا ذکر اس ٹورنامنٹ میں اکثر کمنٹیٹر، شائقین اور تجزیہ کاروں سے سننے کو ملا ہے، تعریف کرتے ہوئے تاکید کی کہ اسے ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔

’یہ چیز ٹوٹے نہ۔ ہم نے بڑی مشکل سے۔۔۔ وقت لگتا ہے بھائیوں، یہ جوڑ جو ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے۔ ایک ہار سے کوئی بھی نکلے نہ اس میں سے۔ میں سب کو بیک کرتا ہوں، بطور کپتان مجھے جس طرح آپ لوگوں نے رسپانس دیا، اندر باہر جہاں بھی۔‘

انھوں نے کہا کہ سب نے ’بہت اچھا فیملی والا ماحول رکھا، سب نے ہمت کی، کسی نے نہیں کہا کہ میں ہاتھ کھینچ لوں، میں یہ کر لوں میں وہ کر لوں۔۔۔ ہر میچ میں ہر بندے نے ذمہ داری لی ہے اور یہی چاہیے ہوتا ہے کسی بھی ٹیم سے، کبھی ہاتھ نہ کھینچو۔ ہمت کرو، کہتے ہیں ہمت ہمارے ہاتھ میں ہے اور وہ ہم کریں گے۔ نتیجہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ جیسے جیسے آپ ہمت کرتے رہیں گے رزلٹ ہمارے ہاتھ میں آتے رہیں گے۔‘

بابر اعظم نے پرجوش انداز میں اپنے لڑکوں کو کہا: ’کوئی نہ گرے۔ مجھے پتہ ہے سب کو دکھ ہے لیکن یہ تھوڑی دیر تک۔ سوچو ہم کہاں غلط تھے اور کہاں ہم اچھا کر سکتے تھے۔ کوئی گرا نظر نہ آئے، ایک دوسری کو اٹھاؤ۔ یہی وقت ہوتا ہے ایک دوسرے کو اٹھانے کے لیے۔ کھینچنا کسی نے نہیں ہے۔‘

انھوں نے ذرا لہجہ سخت کرتے ہوئے کہا: ’جس سے بھی میں نے (ایسا کچھ) سن لیا، پھر میں کچھ اور بات کروں گا اس سے۔ کوئی بھی کسی کے بارے میں کوئی بات نہیں کرے گا۔‘

پھر ان کی آواز میں نرمی واپس آئی اور انھوں نے کہا: ’جس طرح چلتا آ رہا ہے ویسا ماحول رکھو، ایک دوسرے کو اٹھاؤ اور لطف لو۔ سیکھو۔ جتنا جلدی ہم اسے اوور کم کریں گے اتنا اچھا ہے۔‘

میتھیو ہیڈن: ’مجھے آپ سب پر فخر ہے‘

اپنے مختصر کلمات میں آسٹریلیا کے سابق بیٹس مین اور ٹیم کے کوچ میتھیو ہیڈن نے بھی لڑکوں کی ہمت باندھی۔

انھوں نے گرمجوشی کے ساتھ اعلان کیا: ’ہم نے ہر ممکن کوشش کی، میدان میں کوئی کثر نہیں چھوڑی اور ہم سب کو فخر ہونا چاہیے اور مجھے سب پر بہت فخر ہے۔‘

انھوں نے رضوان اور شعیب ملک، جو ہسپتال سے اٹھ کر میچ کھیلنے آئے تھے، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آج کچھ شاندار پرفارمنس دیکھی ہیں ہم نے۔۔۔ بڑی ہمت چاہیے ایسے موقعے پر کھڑے ہونے کے لیے اور ایسے مقابلے میں حصہ لینے کے لیے۔‘

آخر میں انھوں نے کہا ’پلیز، اپنے سر بلند رکھیں۔ یہ درد قلیل مدتی ہے لیکن ہمیشہ یاد رکھو کہ بہترین ٹیم ہونے کے لیے کیا درکار ہے۔ کچھ چیزوں پر ہمیں کام کرنا ہوگا، انفرادی طور پر اور مشترکہ طور پر، لیکن مجھے آپ سب پر فخر ہے۔ یہ ایک بہترین مہینہ رہا ہے۔‘

ثقلین مشتاق: ’وِن آر لوز نہیں، وِن اینڈ لرن‘

قائم مقام ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق نے بھی اپنے روایتی انداز میں لڑکوں کے حوصلے بڑھانے کے لیے ایک پرانے محاورے کو نئے انداز میں پیش کیا۔

’وِن آر لوز (ہار یا جیت)، یہ جو لفظ ہیں کسی نے ایسے ہی بنا دیے ہیں۔ وِن اینڈ لرن (سبق اور جیت)۔ اپنی جیت سے جو اچھی یادیں وابستہ ہیں انھیں محفوظ کرو اور شیئر کرو کہ تم لوگ کیسے لڑے اور ایک دوسرے کے ساتھ سے کیسے لطف اندوز ہوئے اور کیسے ایک دوسری کو سپورٹ کیا۔‘

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام کھلاڑیوں کو اس پر خوش ہونا چاہیے کہ وہ ادھر سے سیکھ کر کیسے جا رہے ہیں۔ ’مراد یہ ہے تم لوگ دوست ہو، تمہاری دوستی اور زیادہ بڑھے، تمہارے جوڑ میں اور زیادہ جوڑ آ جائے، تمہارے دل اور متحد ہوں۔ تمہارا ایک دوسرے پر یقین اور بڑھے، یہ سیکھ کر جاؤ۔‘

’جیسے میتھیو نے کہا، اپنے سر بلند رکھو۔ یہ گیم کا حصہ ہے اور ہم نے آگے بڑھتے چلے جانا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایسا لگ رہا ہے کہ یہ تقاریر تو کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے تھیں تاہم ویڈیو یقیناً سوشل میڈیا پر پاکستانی کرکٹ کے جنونی مداحوں اور شائقین کی جانب سے اپنائے جانے والے عدم برداشت کے رویے کا مقابلہ کرنے کے لیے لگائی گئی ہے۔

کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے کہ انڈیا کے کپتان ویراٹ کوہلی کو اپنے کھلاڑی محمد شامی کا دفاع کرنے پر شدید ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس سے پہلے بھی جب بھی پاکستان کوئی بڑا میچ ہارتا ہے تو مداحوں سے لے کر ٹیم کے کھلاڑیوں تک، ہر کوئی کسی نہ کسی پر انگلیاں ضرور اٹھاتا ہے۔

تاہم ویڈیو جاری ہونے کے بعد کئی سابق کھلاڑیوں، کھیل کے مداحوں اور دیگر شائقین نے اسے سراہا۔

میچ کے بعد ٹیم کی گروپ فوٹو ٹویٹ کرتے ہوئے کپتان بابر اعظم نے لکھا: ’اپنے سر بلند رکھو، ٹیم۔ تمہاری کارکردگی متاثر کن تھی اور تم چیمپیئنز کی طرح کھیلے۔‘

کرکٹ تجزیہ کار اور کرکٹر میگزین کے مدیر سائمن ہیوز نے میچ کے بعد لکھا: پاکستان کی ٹیم دنیائے کرکٹ کا بہترین اثاثہ ہے۔‘

کرکٹر عماد وسیم نے بھی اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے پوسٹ کیا: ’یہ اختتام نہیں، محض شروعات ہے۔‘

فاروق نامی صارف نے بابر اعظم کی تقریر کو سراہا اور ان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بطور ٹیم ہارتے اور جیتتے ہیں، یہ کسی ایک کھلاڑی کی غلطی نہیں۔

ماہنور نامی صارف بھی بابر کی تقریر سے کافی متاثر ہوئیں۔ انھوں نے لکھا: ’بابر اعظم کو موٹیویشنل سپیکر ہونا چاہیے کیونکہ ان کا ایک ایک لفظ میرے دل کو لگا ہے۔‘

جبکہ محسن نامی صارف کا خیال تھا کہ اگلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں زیادہ وقت نہیں اور لگن کے ساتھ کھیلیں گے تو ٹیم آئندہ ضرور کامیاب ہوگی۔ ’کوئی بات نہیں۔‘